ڈیڑھ درجن علما کے قتل میں ملوث 'زینبیون' ملیشیا کے دو جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس نے ایران سے منسلک ایک عسکریت پسند گروپ کے دو جنگوؤں کو حراست میں لیا ہے جن پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور علما کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عام عائد کیا جاتا ہے۔

سندھ کی صوبائی پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے پاکستان میں صوبائی دارالحکومت کراچی میں ایران سے وابستہ "زینبیون بریگیڈ" ملیشیا سے تعلق رکھنے والے دو مسلح افراد کی گرفتاری کی اعلان کیا ہے۔

ریڈیو فری یورپ کے پاکستان سیکشن ریڈیو مشعل نے اطلاع دی ہے کہ سندھ میں پولیس برانچ کے سربراہ آصف اعجاز شیخ نےجمعرات 16 مئی کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں دو مسلح عناصر کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ 'مدعا علیہان کو ایران میں تربیت دی گئی تھی اور ایرانی انٹیلی جنس سروسز کے احکامات کے تحت انہوں نے کراچی میں مذہبی اسکالرز اور ان (زینبیون) کی مخالفت کرنے والے مذہبی گروپ کے اراکین کو نشانہ بنایا۔'

واصل آصف اعجاز شیخ نے ملزمان کی شناخت بیان کرتے ہوئےبتایا گرفتار عناصر میں وقار عباس اور حسین اکبر جو پاکستانی صوبے گلگت بلتستان کے رہائشی ہیں شامل ہیں۔ان پر گذشتہ سال ستمبر سے 21 فروری تک کراچی میں 17 علما کو قتل اور 11 کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔

"ریڈیو مشعل" کے مطابق کراچی پولیس چیف راجہ عمر خطاب نے کل جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں اس گروہ کی قیادت "سید حسین موسوی" کر رہے ہیں، جسے "المسلم" کا عرفی نام دیا جاتا ہے۔

پاکستانی پولیس حکام کے مطابق کراچی میں ایرانی حمایت یافتہ زینبیون مسلح گروپ کے 23 ارکان کے ناموں کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی شیعوں پر مشتمل زینبیون بریگیڈ اور افغان شیعوں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ ان گروپوں میں شامل ہیں جنہیں ایران نے علاقائی تنازعات، خاص طور پر شام میں استعمال کرنے کے لیے بنایا ہے۔

امریکہ نے 2019 سے ان دونوں گروپوں پر "دہشت گردی" کے الزام میں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں