فوربز 2024 کی 30 انڈر 30 ایشیا کی فہرست میں دو خواتین سمیت سات پاکستانی شامل

مذکورہ سات پاکستانیوں نے انٹرپرائز، صارف ٹیکنالوجی، فنون اور مالیات کے شعبوں میں جدت کاری اور اختراعات کی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس ہفتے مشہور امریکی کاروباری جریدے فوربز کی 30 سال سے کم عمر کے 30 افراد کی فہرست میں دو خواتین سمیت سات پاکستانی بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے متعلقہ پیشہ ورانہ شعبوں میں قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل کی۔

امریکی میگزین 300 قابلِ ذکر افراد کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کے لیے 30 سال سے کم عمر کی سالانہ فہرست مرتب کرتا ہے جن میں 10 کیٹیگریز میں سے ہر ایک میں 30 نمایاں شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

ان نوجوان قائدین کو ٹیکنالوجی، فنون، مالیات اور سائنس جیسے شعبوں میں ان کی اختراعی شراکت اور اثر و رسوخ کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے جو متعلقہ ممالک اور خطوں میں نئی ایجاد و اختراع کے ذریعے اپنے اپنے شعبوں کا مستقبل تشکیل دینے کے لیے تیار ہوں۔

سرمائے تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے والے فنٹیک کاروباری افراد میں فوربز نے لاہور میں مقیم علینہ ندیم کا نام سرفہرست رکھا اور کہا کہ ان کی کمپنی ایجو فائی زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو یونیورسٹی جانے میں مدد فراہم کر رہی تھی۔

میگزین نے لکھا، "علینہ ندیم کا تصور سادہ ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کچھ تنخواہ دار خاندان ایک سمسٹر کے آغاز میں طالبِ علم کی فیس کی یکمشت ادائیگی کا بندوبست نہیں کر سکتے لیکن ماہانہ بنیادوں پر ٹیوشن فیس برداشت کر سکتے ہیں۔"

مضمون میں مزید کہا گیا، "انہوں نے 27 پاکستانی کالجوں کے ساتھ شراکت کی ہے (یہ تعداد گذشتہ چھے مہینوں میں دوگنا ہو گئی ہے) جو ممکنہ صارفین کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ قابلیت کے تعین اور جانچ کے لیے اس ادارے کا اپنا ایک طریقۂ کار ہے جس سے گذرنے کے بعد یہ منظور شدہ طلباء کے لیے ٹیوشن فیس ادا کرتا ہے جو پڑھائی کے دوران ماہانہ بنیادوں پر فیس کا قرض ادا کرتے ہیں۔"

فہرست میں ایک پاکستانی فلم ساز، تخلیقی ہدایت کار اور پروڈکشن ڈیزائنر بشریٰ سلطان کا بھی یہ کہہ کر ذکر کیا گیا کہ ان کے کام نے ملک کی خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا۔

 پاکستانی فلم ساز، تخلیقی ہدایت کار اور پروڈکشن ڈیزائنر بشریٰ سلطان کی ایک غیر تاریخ شدہ فائل فوٹو
پاکستانی فلم ساز، تخلیقی ہدایت کار اور پروڈکشن ڈیزائنر بشریٰ سلطان کی ایک غیر تاریخ شدہ فائل فوٹو

میگزین نے کہا، "ان کا قابلِ ذکر ترین کام فیشن اور خوبصورتی کے شعبے میں ہے۔ ڈے مین کوچور کے لیے "گڑیا" نامی ایک مہم میں بیش قیمت اور پرتعیش ملبوسات میں دو خواتین کو کٹھ پتلیوں کی طرح دکھایا گیا ہے اور دیو ہیکل ہاتھ ڈوریاں کھینچتے ہوئے انہیں کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس طرح ملک کی شادی کی صنعت اور دلہنوں سے کیے جانے والے مطالبات کی تصویر کشی کی گئی۔"

میگزین نے مزید کہا، "سلطان سر کے بغیر خواتین والی بے باکانہ 'کائیمیرا' مہم کے لیے بھی مشہور ہیں۔"

کافی حد تک علینہ ندیم کی طرح پاکستان کے سرخیل باوانی کو فن ٹیک کے کاروباری افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

باوانی فنٹیک کمپنی 'ابھی' میں پروڈکٹ سربراہ ہیں جو کارکنوں کو یہ اختیار دیتی ہے کہ جب انہیں ہنگامی نقد رقم کی ضرورت ہو تو وہ اگلے پے چیک سے پہلے اپنی تنخواہ کا ایک فیصد نکال لیں۔

پاکستانی کاروباری ادارے 'ابھی' کے سرخیل باوانی کی ایک غیر تاریخ شدہ فائل فوٹو۔ (تصویر بشکریہ:لنکڈ اِن/سرخیل باوانی)
پاکستانی کاروباری ادارے 'ابھی' کے سرخیل باوانی کی ایک غیر تاریخ شدہ فائل فوٹو۔ (تصویر بشکریہ:لنکڈ اِن/سرخیل باوانی)

فوربز نے کہا، "ابھی کمپنی یونی لیور پاکستان جیسی کمپنیوں کی شراکت داری میں ایک بی ٹو بی ٹو سی ماڈل پر کام کرتی ہے تاکہ ملازمین کو فائدے کے طور پر خدمت فراہم کی جا سکے۔ فوربز نے مزید کہا کہ کمپنی نے بنگلہ دیش اور شرقِ اوسط تک بھی اپنی خدمات کو توسیع دی۔

اس فہرست میں شامل دیگر پاکستانیوں میں کراچی میں قائم ٹرکرر کے شریک بانی کسریٰ زونائیر شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے لاجسٹک شعبے کے لیے ایک انتظامی پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ زونائیر نے فوربز کی فہرست میں انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے زمرے میں جگہ بنائی۔

اس لائن اپ میں عدیل عابد، اعزاز نیئر اور علی رضا بھی تھے جنہوں نے کراچی میں فری لانسرز کے لیے لنک سٹار کے نام سے پلیٹ فارم قائم کیا۔

میگزین نے اعلان کیا کہ "کمپنی فری لانسرز کو مفت پورٹ فولیو ویب سائٹس بنانے میں مدد کرتی ہے جنہیں بین الاقوامی ادائیگیوں اور سوشل میڈیا پر مواد کے اشتراک جیسی جدید فعالیتوں کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں