پاکستان: بمباری سے متأثرہ لڑکیوں کے سکول کو دوبارہ کھول دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے رپورٹ کیا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے پاکستان کے شمال مغرب میں گذشتہ ہفتے مشتبہ دہشت گردوں کی بمباری سے تباہ شدہ ایک سکول کو دوبارہ تعمیر کر دیا ہے اور یہ آج پیر کو تدریس کے لیے کھل جائے گا۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں رواں ماہ لڑکیوں کے دو سکولوں کو بم سے نشانہ بنایا گیا۔ پہلے حملے میں 8 مئی کو شاوا قصبے میں لڑکیوں کے واحد سکول کو جبکہ دوسرے سکول کو گذشتہ ہفتے ہمسایہ جنوبی وزیرستان کے ضلع میں رات بھر ہونے والے حملے میں بمباری سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اگرچہ فوری طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم شبہ پاکستانی طالبان یا تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ہونے کا امکان ہے جنہوں نے ماضی میں صوبے میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین کو تعلیم یافتہ نہیں ہونا چاہیے۔

ٹی ٹی پی گروپ کو حالیہ برسوں میں پے در پے فوجی کارروائیوں کے بعد شمال مغربی پاکستان کے سوات اور دیگر علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور خیال تھا کہ وہ ہمسایہ ملک افغانستان میں پناہ گزین ہیں۔ ٹی ٹی پی ایک الگ گروپ لیکن افغان طالبان کا قریبی اتحادی ہے جنہوں نے 2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا۔ اسلام آباد نے کہا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے سے پاکستانی طالبان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

اے پی پی نے وزارتِ تعلیم کے حوالے سے کہا، "کل (پیر کو) ہم اپنی بیٹیوں کی لچک اور تعلیم کے لیے قوم کے عزم کا جشن منائیں گے۔" اور مزید کہا کہ پیر کی صبح 120 لڑکیاں پڑھائی کے لیے کلاس میں واپس آئیں گی۔

"یہ عمل لچک، انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت اور سب کے لیے بالخصوص قوم کی بیٹیوں کے لیے تعلیم فراہم کرنے کے پختہ عزم کی علامت ہے۔"

اسی طرح کے حملے گذشتہ سال مئی میں بھی ہوئے تھے جب میرالی میں لڑکیوں کے دو سرکاری سکولوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پاکستان میں 2019 تک لڑکیوں کے سکولوں پر متعدد حملے دیکھنے کو ملے بالخصوص وادی سوات اور شمال مغرب میں جہاں پاکستانی طالبان کا طویل عرصے تک سابق قبائلی علاقوں پر کنٹرول تھا۔ 2012 میں باغی دہشت گردوں نے ایک نوعمر طالبہ اور لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرنے والی ملالہ یوسفزئی پر حملہ کیا جو امن کا نوبل انعام جیتنے والی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں