اسلام آباد میں غزہ بچاؤ مہم کے دھرنے کے دو شرکاء گاڑی تلے کچل دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک پر غزہ بچاؤ مہم کی جانب سے فلسطین کے حق میں جاری دھرنے پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں تین کارکن زخمی ہوئے۔

ترجمان جماعت اسلامی اسلام آباد کے مطابق نامعلوم شخص نے دھرنے میں بیٹھے شخص پر پولیس کی موجودگی میں گاڑی چڑھائی۔ واقعہ میں دو ساتھی جاں بحق ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے گاڑی میں سوار شخص کو حراست میں لے کرگاڑی کو تھانہ کوہسار منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈرائیور کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے ڈی چوک میں جاری سیو غزہ دھرنے پہ رات دو بجے کے قریب سڑک پہ بیٹھے مظاہرین پر نامعلوم افراد نے گاڑی چڑھا دی۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس خون ناحق کے ذمہ دار شہباز شریف اور اسلام آباد پولیس ہیں۔ اٹھ روز سے جاری پرامن دھرنے پر سوچی سمجھی سازش کے تحت حملے کے منصوبہ سازوں کو گرفتار کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود پولیس کی مجرمانہ خاموشی پر کارروائی کی جائے اور حملے کی ایف آئی آر کاٹ کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ یہ کوئی سیاسی دھرنا نہیں ہے۔ دھرنے کا مقصد حکومت کو جگانا اور فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔

نماز جنازہ مشتاق احمد نے پڑھائی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی کے جاں بحق کارکن رومان کی نماز جنازہ ڈی چوک میں ادا کر دی گئی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں