پاکستانی وفد کا رواں ماہ کے اواخر تک کویت کا دورہ، سرمایہ کاری کا حصول پیشِ نظر

دورہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد دے گا: وزیرِ سرمایہ کاری عبدالعلیم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلیجی ریاست کے سرمایہ کاروں کو ملک میں کاروبار کے لئے ترغیب دینے کی کوششوں کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد اس ماہ کے آخر تک کویت کا دورہ کرے گا تاکہ دو طرفہ تعاون مضبوط ہو اور ملک میں موجود کاروباری مواقع کو نمایاں کیا جائے۔

گذشتہ سال نومبر کے آخر میں عبوری وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کے عرب ریاست کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے اپنے اقتصادی اور سرمایہ کارانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا جس میں مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان کا مقصد افرادی قوت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات کی تلاش، خوراک کی حفاظت، توانائی اور دفاع جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔

کاکڑ کا دورۂ کویت پاکستان کی سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے چند ماہ بعد ہوا جو ایک شہری فوجی ہائبرڈ ادارہ ہے جو خلیجی خطے پر خصوصی توجہ کے ساتھ غیر ملکی مالی اعانت کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان کی قیادت میں پاکستانی وفد کے آئندہ دورے کا اعلان ایک سرکاری بیان میں کیا گیا البتہ اس کی تاریخیں نہیں بتائی گئیں۔

بیان میں خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا، "کویت کے دورے کے دوران پاکستان سے زیادہ افرادی قوت خصوصاً صحت کے پیشہ ور افراد اور ہنر مندوں کو روزگار فراہم کرنے میں پیش رفت ہوگی۔"

انہوں نے مزید کہا، "ڈیری فارمنگ، گوشت کی مصنوعات، چاول اور دیگر غذائی اشیاء کے لیے اپنی برآمدی کمپنیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان [کویت کے ساتھ] تعاون میں اضافہ کرے گا اور تیز رفتار اقدامات کے ذریعے آگے بڑھے گا۔"

وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے سے باہمی تعاون، اقتصادی امور میں بہتری اور سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہو گا جس کے لیے متعلقہ محکمے تیاریاں کر رہے تھے۔

انہوں نے دورے کے بارے میں ایک اجلاس کی صدارت کی اور شرکاء کو بتایا کہ تمام ضروری انتظامات کرتے ہوئے کویت کے ایلچی کو بھی ہمراہ لیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ وفد خلیجی ملک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں