پاکستانی نژاد گلوکارہ کو برطانوی قومی ترانہ ریکارڈ کرانے پر شاہی اعزاز عطا

سائرہ پیٹر نے 2018 میں 'گاڈ سیو دی کوئین' ریکارڈ کرنے پر ملکہ الزبتھ دوم سے اعتراف اور تشکر وصول کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستانی نژاد برطانوی صوفی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر نے ہفتے کے روز بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ انہیں بادشاہ چارلس سوئم کی تاجپوشی کے بعد برطانوی قومی ترانہ "گاڈ سیو دی کنگ" ریکارڈ کرنے پر بکنگھم پیلس سے تعریفی خط موصول ہوا۔

برطانوی بادشاہ کی رسمِ تاج پوشی گذشتہ مئی میں لندن کے ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے قائدین اور اعلیٰ شخصیات کو مدعو کیا گیا اور ستمبر 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد یہ ان کی باضابطہ تخت نشینی کا اعلان تھا۔

سوپرانو ووکل رینج کلاسیکی گائیکی میں خواتین کی آواز کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ اس رینج میں کی گئی ریکارڈنگ موصول ہونے پر بادشاہ نے پیٹر کو ایک خط بھیجا جس میں ان کی عوامی خدمات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

انہیں بادشاہ اور ملکہ کیملا سے ایک دستخط شدہ فوٹو کارڈ بھی ملا۔

پیٹر نے ویڈیو میں کہا، "میں اپنے تمام پیروکاروں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ میں جہاں پناہ شاہ چارلس سوئم کی طرف سے ایک خط اور تعریفی کارڈ ملنے اور شکریہ ادا کیے جانے پر کتنی پرجوش ہوں۔" پیٹر نے ویڈیو میں بتایا، وہ پاکستان کی اولین اوپیرا گلوکارہ ہیں۔ "یہ کارڈ اور شکریہ برطانوی قومی ترانہ 'گاڈ سیو دی کنگ' ریکارڈ کرنے کے لیے میری شہری خدمت کے جواب میں بھیجا گیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "برطانوی پاکستانی ہونے کے ناطے میں برطانوی حکومت کی عوامی تقریبات اور شہریت کی تقریبات میں اپنی مہارت اور آواز سے کردار ادا کرنے پر بہت فخر محسوس کرتی ہوں۔"

پیٹر نے بتایا کہ برطانوی قومی ترانہ ایسٹ سسیکس کے ہیسٹنگز ٹاؤن ہال میں برطانوی حکومت کے دفاتر کی درخواست پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ ریکارڈنگ اب ان کے اختیار کردہ ملک یعنی برطانیہ کے طول و عرض میں سرکاری حکومتی تقریبات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

قبل ازیں انہوں نے 2018 میں "گاڈ سیو دی کوئین" ریکارڈ کیا جس سے وہ پہلی ایشیائی اور واحد پاکستانی بن گئیں جنہیں سرکاری طور پر اس کام کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ پیٹر کو آنجہانی ملکہ کی طرف سے بھی پذیرائی اور تشکر حاصل ہوا۔

کراچی میں پیدا ہونے والی اوپیرا گلوکارہ نے گذشتہ سال پاکستان کے دورے کے دوران عرب نیوز کو بتایا کہ وہ چرچ کے طائفوں میں گاتی تھیں اور 2000 کے عشرے کے اوائل میں لندن میں بینجمن برٹن کے شاگرد پال نائٹ سے سیکھنے کے بعد اپنے مغربی کلاسیکی سفر کا آغاز کیا جب ان کا خاندان وہاں منتقل ہو گیا.

پیٹر کے والد ظفر فرانسس نے لندن میں نورجہاں آرٹس سینٹر کا آغاز کیا جسے برطانوی سپرسٹار سر کلف رچرڈ نے 1998 میں کھولا تھا۔ وہ پرفارمنگ آرٹس سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں اور وہاں مغربی اور پاکستانی کلاسیکی موسیقی سکھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا، برطانیہ میں ان کا کام "پاکستان کا مثبت امیج" پیش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں