’’پاکستانی حج مشن کے معاونین کی لاپرواہی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی‘‘

پاکستان رواں ماہ کے آخر تک 550 حج معاونین کو ضیوف الرحمن کی خدمت کے لیے سعودی عرب بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے حج مشن نے حج کے دوران عازمین کی سہولت کے لیے تعینات سینکڑوں معاونین کی جانب سے لاپرواہی کے لیے "صفر برداشت کی پالیسی" اپنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس سال پاکستان 550 حج معاونین اور 400 ڈاکٹروں اور طبی معاون سٹاف کو سعودی عرب بھیجے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مملکت میں حجاج کے کھانے، آمد ورفت اور رہائش سمیت حج کے پورے عمل کا انتظام مؤثر طریقے سے ہو۔

ریڈیو پاکستان نے حاجیوں کی رہائش اور آمد ورفت کے لیے پاکستان حج مشن کے ڈائریکٹر اصغر علی یوسفزئی کی مکہ مکرمہ میں ایک پریس کانفرنس کے حوالے سے بتایا، "حجاج کی خدمت کے لیے تعینات معاونین کے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔"

"حج میں معاونت کرنے والے عملے اور خدمات فراہم کرنے والوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے جو پاکستانی عازمینِ حج کی خدمت کے پابند ہیں۔"

یوسفزئی نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی کا اطلاق پاکستان میں موجود معاونین یا ٹھیکیدار دونوں پر ہوتا ہے جنہیں پاکستانی حجاج کو رہائش، خوراک اور آمد ورفت کی سہولیات فراہمی کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔

عہدیدار کے مطابق حج مشن نے تین علاقوں میں 141 رہائشی عمارات کرائے پر لی ہیں جن میں العزیزیہ، بطحاء قریش اور النسیم محلے شامل ہیں۔

پاکستانی عازمین کو ایئرپورٹ سے ان کی رہائش گاہوں تک لے جانے، المسجد الحرام میں پنجگانہ نماز اور منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان حج سے متعلق دیگر سفر کے لیے 270 سے زائد جدید بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان کے قبل از حج فلائٹ آپریشن کے پہلے مرحلے میں کل 34,316 پاکستانی عازمین 23 مئی تک 146 پروازوں کے ذریعے مدینہ منورہ پہنچے۔

نو جون تک 114 پروازیں مزید 34,422 پاکستانیوں کو جدہ لے کر جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں