وزیرِ مذہبی امور کی طرف سے حج عملے کوسعودیہ میں حجاج کی رہنمائی کو بہتربنانے کی ہدایت

مؤثر ابلاغ کی غرض سے مختلف علاقائی زبانیں بولنے والے گائیڈز کی تعیناتی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے وزیرِ مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے ہفتے کے روز سعودی عرب میں تعینات ملک کے حج ویلفیئر عملے کو ہدایت کی کہ وہ مختلف پاکستانی علاقائی زبانوں میں حجاج کی فعال رہنمائی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ عقیدت مند اپنے روحانی سفر کو ممکنہ حد تک بآسانی انجام دے سکیں۔

حسین نے یہ ہدایت ایک اورینٹیشن سیشن کے دوران جاری کی جو مملکت میں پاکستان کے حج مشن کی جانب سے مکہ مکرمہ میں امدادی عملے کو حجاج کی ضروریات سے واقف کرانے کے لیے منعقد کیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے امسال حج کے دوران عازمین کی مدد کے لیے 550 افراد کو ملازمت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں وہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ شامل نہیں جو حجازِ مقدس میں پاکستانی عازمین کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر نے مؤثر رابطے اور ابلاغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حج مشن سے کہا کہ وہ مسجدِ حرام اور دیگر مقدس مقامات پر مختلف پاکستانی زبانوں اور لب و لہجے میں روانی سے بولنے والے گائیڈ تعینات کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے زائرین کا حج کا تجربہ بہتر ہو گا اور پاکستان کی کثیر الثقافتی نوعیت اور لسانی تنوع کے پیشِ نظر انہیں آرام سے علاقے میں گھومنے پھرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے حج مشن پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا کہ عازمین کو مملکت میں قیام کے دوران بہترین ممکنہ سہولیات اور خدمات فراہم کی جائیں اور ان کے ساتھ زیادہ ہمدردی اور ہمدمی کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے گائیڈز کو بس سٹیشنوں پر تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ عازمین کے ایک سے دوسرے مقام تک سفر میں آسانی ہو۔

حجاج کی خدمت کرنا ایک "مقدس فریضہ" ہے، اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے حسین نے حج ویلفیئر کے عملے سے مزید کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری لگن کے ساتھ ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں