پاکستان گرمی کی لہر کے درمیان مارگلہ کی پہاڑیوں میں جنگل کی ایک اور آگ سے نبرد آزما

دارالحکومت کو شعلوں سے بچانے کے لیے آگ روکنے والی دیوار بنائی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستانی حکام ہفتے کی رات شہر کی مارگلہ پہاڑیوں میں جنگل کی ایک اور آگ بجھانے میں مصروف تھے کیونکہ جنوبی ایشیائی ملک اس وقت گرمی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہے۔

کوہِ ہمالیہ کے دامن کے ایک حصے مارگلہ پہاڑی سلسلے میں گرمی کے مہینوں میں درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث نسبتاً اکثر جھاڑیوں کو آگ لگ جاتی ہے۔ اس ماہ بھی متعدد مرتبہ آگ لگ چکی ہے جس کی بڑی وجہ خطے میں جاری شدید گرمی کی لہر ہے۔

حکام نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے تین الگ الگ مقامات پر لگی آگ پر قابو پا لیا۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے کہا کہ البتہ ہفتے کی رات شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں واقع پہاڑیوں کے حصے میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی۔

میمن نے ایک بیان میں کہا، "کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ٹیمیں آگ بجھانے کے لیے موجود ہیں۔ آگ بجھانے والے 36 افراد شعلوں سے نبرد آزما ہیں۔"

میمن نے کہا کہ حکام نے دارالحکومت کو شعلوں سے بچانے کے لیے آگ روکنے والی دیوار بنائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، اسلام آباد انتظامیہ آگ بجھانے کے لیے کے پی حکومت کے ساتھ مشترکہ کوششیں کر رہی ہے۔

پاکستان کے کچھ حصوں میں گذشتہ ہفتے کے دوران درجۂ حرارت 52.2 ڈگری سیلسیس (126 ڈگری) تک دیکھا گیا ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں اس سال شدید گرمی پڑ رہی ہے – یہ سائنسدانوں کے مطابق ایک ایسا رجحان ہے جو انسانی عمل اور طرزِ زندگی کی وجہ سے آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے مزید خراب کر دیا ہے۔

موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت کی بنا پر عالمی تنظیموں نے پاکستان کو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ملک قرار دیا ہے۔ 2022 میں سیلاب نے ملک میں تباہی مچا دی تھی جس سے 1,700 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔pai

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں