صوبہ پنجاب میں پانچ جون سے پلاسٹک کی پیداوار اور تجارت پر پابندی کا اعلان

پلاسٹک سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی گرین ہاؤس گیسز، عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلیوں میں اضافے کا بڑا سبب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزارتِ اطلاعات پنجاب نے اتوار کو پلاسٹک کو کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کا ذریعہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکومت نے پانچ جون سے پلاسٹک کی پیداوار، تقسیم اور تجارت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پلاسٹک کی کاربن کی شدت کی حامل پیداوار تیز رفتاری سے جاری ہے جو تمام دنیا میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی نسبت زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہے۔ پلاسٹک کی عالمی صنعت ان میں سے کم از کم 232 ملین ٹن سالانہ گیسیں خارج کرتی ہے۔

پلاسٹک سے پیدا شدہ گرین ہاؤس گیسیں ماحول میں حرارت جمع کرنے اور نتیجتاً عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرنے کا سبب بنتی ہیں جس سے دنیا بھر میں تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی کی اس وجہ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے صوبہ پنجاب نے پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری، تقسیم اور فروخت پر پابندی لگانے کی تیاریاں کی ہیں۔

پنجاب کی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں کہا، "پانچ جون سے غیر قانونی پلاسٹک مصنوعات تیار کرنے والے کارخانوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔"

ہوٹلوں، ریستوراں اور خور و نوش کے دیگر مقامات پر پلاسٹک کے تھیلوں میں صارفین کو کھانا دینا سختی سے ممنوع ہو گا۔

وزارت کے مطابق پلاسٹک کا استعمال عوام میں کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

پاکستان جو سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ممالک میں شمار ہوتا ہے، یہاں حالیہ برسوں میں بے وقت بارشوں، مہلک سیلابوں، گرمی کی لہروں اور خشک سالی کا مشاہدہ کیا گیا ہے جس کا ذمہ دار ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

اس ہفتے 241 ملین سے زیادہ آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک میں شدید گرمی کی لہر دیکھی گئی جس کے دوران ملک کے بعض حصوں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سیلسیس (126 ° فارن ہائیٹ) سے زیادہ رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں