پاکستانی وزیر اعظم چین کے پانچ روزہ دورے پر

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف دورہ چین میں دو طرفہ تعاون میں اضافہ اور چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی کوشش کریں گے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر اعظم محمد شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پر چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے۔

وزیر اعظم کے ساتھ دورہ چین کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم آفس کے ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کا دورہء چین، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور پاکستان چین سٹریٹجک و اقتصادی تعلقات کے مزید فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

دورے کے دوران مصروفیات

وزیر اعظم آفس کے بیان میں دورے کی تفصیلات سے متعلق بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں چینی شہر شینزن جائیں گے جہاں وہ دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے مابین شراکت داری کے فروغ کیلئے چین کے شہر شینزن میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کیانگ کی دعوت پر چین پہنچے ہیں۔ وہ اپنے دورے کے دوران ان دونوں رہنماوں کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ژاؤ لیجیان اور اہم سرکاری محکموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

شہباز شریف کے دورے کا ایک اہم پہلو تیل و گیس، توانائی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق معروف چینی کمپنیوں کے کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں ہوں گی۔ وہ چین پاکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے جس میں دونوں ممالک کے معروف کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شریک ہوں گے۔

پاکستانی وزیر اعظم چین میں اقتصادی اور زرعی زونز کا بھی دورہ کریں گے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو مزید بہتر بنانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کریں گے

متعدد معاہدوں پر دستخط کی اُمید

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق "دونوں ممالک کے رہنما چین پاکستان تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر لائحہ عمل تیار کریں گے۔"

ذرائع نے بتایا کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد اہم معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کیے جائیں گے، ایم ایل ون ریلوے لائن ٹریک کی نظرثانی شدہ معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سی پیک کے حوالے سے اہم ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کی بھی توقعات ہیں، دونوں ممالک کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق "دونوں فریق سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کریں گے، اس دورے کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنا نیز تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینا ہے۔"

'یہ دورہ چین پاکستان ترقی میں ایک اور سنگ میل'

پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیدونگ نے کہا ہے کہ "وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین پاک چین تعلقات کی ترقی میں ایک اور سنگ میل ثابت ہو گا۔" انہوں نے کہا کہ 'چین پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ ہماری سدا بہار سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ میں مزید پیش رفت ہو سکے۔"

انہوں نے کہا کہ "سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت دونوں ممالک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن، گوادر پورٹ کی اپ گریڈیشن اور شاہراہ قراقرم فیز ٹو کی ری لائننگ سمیت اپنے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عملدرآمد کریں گے۔"

خیال رہے کہ دورے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں مختلف وزرا کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی تھی جس کے دوران مختلف امور کا جائزہ لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں