خود انحصاری کی منزل اور ترقی کیلئے چینی ماڈل سے استفادہ کریں گے: وزیر اعظم

’’سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کو خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرنے اور ترقی کیلئے چین کے ماڈل سے استفادہ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، بدعنوانی کے خاتمہ، بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی اور برآمدات کےفروغ کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری کو معاشی اہداف کے حصول کیلئے نتیجہ خیز بنائیں، سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیجنگ میں پاک چائنا فرینڈشپ اینڈ بزنس ریسپشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چائنا فرینڈشپ اینڈ بزنس ریسپشن کی تقریب سے خطاب میرے لئے اعزاز ہے، پاکستان اور چین کی غیر مشروط دوستی کا طویل سفر باہمی اعتماد اور احترام کے رشتوں پر قائم ہے، یہ پائیدار دوستی سرحدوں سے باہر اب خلائوں میں پہنچ چکی ہے، چین کی کم عرصہ میں تیز رفتار ترقی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے۔

’’پاکستان کے سعودی عرب ،یو اے ای ،کویت، ایران، افغانستان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں لیکن پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی ،یہ دوستی ذاتی مفاد کے لئے نہیں، چین نے سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سمیت ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، یہ نہ ختم ہونے والی دوستی اور تعلق ہے‘‘؛ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی بے لوث اور ہر آزمائش پر پوری اتری۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 1981 میں پہلی بار چین کا دورہ کیا تھا اور چین کی تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ترقی کا مشاہدہ کیا تھا ،چین نے قلیل عرصے میں ترقی کی منازل طے کی ہیں، اس نے عظیم ملک بننے کے لئے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی اور صنعتوں اور زراعت کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا اور اس ترقی کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج 2024 میں چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی اور فوجی قوت بن چکا ہے، پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، چین کی پیداواری صلاحیت دنیا بھر میں مشہور ہے، چین میں سینٹرلائزڈ پلاننگ سسٹم ہے، چین کی مثالی ترقی انتھک محنت اور کام سے لگن کی مرہنون منت ہے، چین کے بغیر دنیا آج ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی، آج چین کی تجارت کھربوں ڈالر میں ہے۔ چین نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت ہر شعبہ میں بھرپور ترقی کی ہے، چین دنیا کی دوسری بہترین اور مضبوط معیشت ہے، چین اور پاکستان کی آج کی یہ تقریب فیملی یونین اور ایک فیملی اجتماع ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم چین کی انتھک محنت اور لگن سے سیکھیں اور چین کے ماڈل پر عمل پیرا ہوں تو پاکستان بھی دنیا میں چینی بھائیوں کی طرح بڑا مقام حاصل کر سکتا ہے ،چین اپنے نوجوانوں، صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، پاکستان کو کاروباری دوست ملک بنانا ہماری ترجیح ہے، پاکستان کو خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے کیلئے پرعزم ہیں، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری کو معاشی اہداف کے حصول کیلئے نتیجہ خیز بنائیں، بدعنوانی کے خاتمہ، بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی اور برآمدات کےفروغ کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے نہ صرف چین کے عوام بلکہ پوری دنیا کو ترقی کا راستہ دکھایا ہے ،شی جن پنگ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے تنازعات اور جنگوں سے ہٹ کر سخت محنت کے ذریعے آگے بڑھنے کی مثال قائم کی ہے، سی پیک اور بی آر آئی اس ترقی کی مثال ہیں، چینی مصنوعات کی آج دنیا بھر میں مانگ ہے ،چین کے ترقی کے ماڈل پر عمل کرکے پاکستان کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں ایک عظیم ملک بنائیں گے اور پاکستان ایک ایسا باغ بنے گا جس کی خوشبو پورے ملک میں پھیلے گی، ترقی کے بغیر دنیا میں عزت کمانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپریل میں بشام میں چینی ورکرز پر حملے کا اندوہناک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی کارروائی میں پانچ چینی بھائی مارے گئے، اس واقعہ نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، ہم اس واقعہ کے پیچھے ناپاک عزائم کو سمجھ سکتے ہیں، اس کی منصوبہ بندی پاک چین دوستی اور سی پیک کے دشمنوں نے کی، اس بزدلانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حملے میں مرنے والے چینی باشندوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں، پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی اپنے بہن بھائیوں کی طرح عزیز ہے، سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں