سعودی فٹبال ٹیم کو اسلام آباد میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کا شوق، پرستار کا 890 میل کا سفر

لیاری سے تعلق رکھنے والے شاہ مراد کی زندگی کا یہ خواب تھا جو پورا ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کا قومی پرچم اپنے کندھوں کے گرد لپیٹے ہوئے شاہ مراد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے "زندگی بھر کے خواب" کو پورا کرنے کے لیے پہنچے: یہ خواب سعودی عرب کی قومی فٹ بال ٹیم کو ایکشن میں دیکھنے کا ہے۔

پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی کے ایک نجی بینک میں چائے کے کھوکھے پر کام کرنے والے 33 سالہ مراد لیاری کے ایک پرہجوم محلے میں رہتے ہیں۔ اکثر جرائم پیشہ گروہوں سے متعلق ہلاکتوں اور سڑکوں پر بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے اس کچی آبادی کو طویل عرصے سے شہر کے خطرناک ترین محلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

کھیل کی بے پناہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی بنا پر یہ "منی-برازیل" اور پاکستان کا فٹ بال دارالحکومت بھی کہلاتا ہے۔ اگرچہ اس کے باشندے مختلف ٹیموں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت فٹ بال کھیلنے والے سرِفہرست ممالک مثلاً جرمنی، برازیل اور ارجنٹائن کے لیے خوش ہوتی ہے۔

اسلام آباد کے جناح فٹبال سٹیڈیم میں آج (جمعرات کو) پاکستان کا مقابلہ سعودی عرب سے ہوگا۔ دونوں ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ کوالیفائنگ کے دوسرے مرحلے کے لیے مدِمقابل ہوں گی۔ پاکستان کو نومبر 2023 میں الاحساء میں سعودی عرب کے خلاف پہلا مرحلے کے میچ میں 4-0 سے شکست ہوئی تھی۔

مراد کے کراچی سے اسلام آباد تک 890 میل طویل سفر کے حوالے سے قابلِ ذکر ایک حالیہ سانحہ ہے جو انہیں اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرنے سے چند دن قبل پیش آیا۔ انہوں نے پہلے کبھی اسلام آباد کا سفر نہیں کیا۔ وہ گذشتہ چھے ماہ سے میچ دیکھنے کے لیے اسلام آباد جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ کچھ دن پہلے ان کی بیوی نے ان کے دوسرے بچے کو قبل از وقت پیدائش دی جسے صحت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

مراد نے عرب نیوز کو بتایا، "لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنے خواب کی تکمیل کے لیے سفر کا آغاز کرتا، میں نے اپنا بیٹا کھو دیا۔ اس کی وفات کو ایک ہفتہ بھی نہیں گذرا ہے۔"

مراد نے کراچی چھوڑنے کا اپنا منصوبہ ترک کر دیا تھا لیکن ان کے خاندان نے کہا کہ وہ سعودی فٹ بال ٹیم کو ایکشن میں دیکھنے کا خواب پورا کریں۔

مراد نے کہا، "میرے خاندان نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا، یہ تمہارا زندگی بھر کا خواب رہا ہے۔ تمہیں یہ پورا کرنا چاہیے۔"

اور یوں اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی مراد کو 12,400 روپے [44.52 ڈالر] کا بس کا دوطرفہ ٹکٹ خریدنے کی ترغیب دینے کے لیے کافی تھی۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ رقم ایک طویل عرصے سے جمع کر رہے تھے۔

نومبر 2022 میں جب سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ 2022 میں ارجنٹائن کو غیرمتوقع شکست سے دوچار کیا تو عرب نیوز نے مراد سے بات کی جنہوں نے کہا، سعودی سٹار یاسر القحطان ان کے پسندیدہ فٹبالر ہیں۔

جب ان سے ان کی کسی اور خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو مراد نے کہا کہ اب جبکہ وہ اسلام آباد میں ہیں تو سعودی عرب کی مردانہ فٹ بال ٹیم سے ملنا ان کی خواہش ہے۔

البتہ اب جب ان کی پسندیدہ ٹیم میدان میں ان کے ملک کی ٹیم کا سامنا کرے گی تو وہ اس بارے میں قدرے کشمکش کا شکار ہیں کہ کس کی حمایت کرنا ہے۔

مراد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سعودی ٹیم جیتے کیونکہ یہ میری پسندیدہ فٹ بال ٹیم ہے۔ لیکن پاکستان میرا ملک ہے اس لیے میں قدرے الجھن میں ہوں۔"

نیز انہوں نے کہا، "آخر میں جو بھی جیتے، مجھے امید ہے کہ یہ کھیلوں کی جیت ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں