پاکستان میں فائروال کے ذریعے سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کی تیاری

فائروال کا پاکستان میں استعمال کوئی نئی چیز نہیں، سرکاری ادارے ویب سائٹس اور سوشل ایپس کو بلاک کرنے کے لیے فائروال کا استعمال کرتے آ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ایک فائر وال انسٹال کرنے کے منصوبے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کنٹرول کرنے کے لیے حکومت قومی سطح پر ایک فائر وال نصب کرنے جا رہی ہے جس کے ذریعے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے فیس بک، ایکس(سابق ٹوئٹر)، یو ٹیوب اور دیگر سائٹس کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔

اس فائر وال کی مدد سے ’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘ کرنے والے اکاؤنٹس کے انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریسز فوری طور پر حکومت کو دست یاب ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔

اطلاعات ہیں کہ فائر وال کا یہ نظام چین سے لیا گیا ہے۔ اس کے لیے کتنی ادائیگی کی گئی ہے اور یہ کس طرح کام کرے گا؟ اس بارے میں فی الحال معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

فائر وال کیا ہے؟

فائر وال سسٹم بنیادی طور پر انٹرنیٹ گیٹ ویز پر لگایا جاتا ہے جہاں سے انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک ہوتا ہے۔ اس کا مقصد انٹرنیٹ ٹریفک کو فلٹر کرنا ہوتا ہے۔

اس فائر وال کی مدد سے ناپسندیدہ ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مخصوص مواد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی مواد کو فائر وال کی مدد سے بلاک کیا جاسکتا ہے۔

اس نظام کی مدد سے کسی مواد کے ماخذ (اوریجن) یعنی جہاں سے اس کا آغاز ہوا ہو، اس بارے میں بھی فوری مدد مل سکتی ہے اور آئی پی ایڈریس سامنے آنے کے بعد مواد کو بنانے والے کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

کیا حکومتی مقصد پورا ہو گا؟

اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ پر فائر وال نصب کیے جانے سے بھی کچھ خاص فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت چین میں انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کئی فائر وال نصب کیے گئے ہیں لیکن ان سے بچنے کے لیے صارفین مختلف ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کے بقول اگرچہ حکومت کی طرف سے مختلف وی پی این بند کیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض وی پی این استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر قدغن

واضح رہے پاکستان میں انٹرنیٹ پر پابندیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں اور حکومت کسی بھی موقع پر ملک بھر میں انٹرنیٹ تک صارفین کی رسائی کو بند کرتی آئی ہے۔ خاص طور پر موبائل فون کمپنیز کے ڈیٹا کو بند کرنا ایک عام سے بات بن چکی ہے۔

آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں بھی موبائل فون صارفین انٹرنیٹ سے محروم رہے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ مختلف ویب سائٹس کو بھی پاکستان میں بند کیا جاتا رہا ہے۔ سال 2008 میں ایک متنازع فلم کی وجہ سے پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی عائد کی گئی جو طویل عرصے کے بعد ہٹا دی گئی تھی۔

اس وقت بھی ملک میں سماجی رابطے کی سائٹ 'ایکس' پر لگ بھگ چار ماہ سے پابندی ہے اور حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ریاست مخالف مواد ریگولیٹ کرنے میں ایکس کی طرف سے حکومت پاکستان کی مدد نہیں کی گئی۔

یہی نہیں بلکہ مختلف اخبارات اور خبروں سے متعلق ویب سائٹس کو بھی پاکستان میں بلاک کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں