.

ترکی گفتند اور کارگزاری کے درمیان

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
میں یہ بات نہیں جانتا کہ ترک حکام شام کے اقدامات کے نتیجے میں عرب دنیا کو پہنچنے والے نقصانات کا کہاں تک ادراک رکھتے ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے مفادات کے نفع ونقصانات کا تخمینہ لگانے میں دوسروں کی نسبت زیادہ صلاحیت کے حامل ہیں اور وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انھیں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے جو ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔البتہ ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ یہ کردار کیسے ادا کریں گے؟



ترکی کے کردار کی کہانی شام میں رونما ہونے والے واقعات سے کئی سال قبل ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی عرب دنیا میں خصوصی دل چسپی سے شروع ہوئی تھی اور انھوں نے مثبت طور پر اس میں کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔



لیکن انھوں نے بشار الاسد کی بین الاقوامی محاذوں پر جنگوں کی حمایت کا آغاز کرکے ایک غلط اقدام کیا تھا۔انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی بھی بڑے پُرجوش انداز میں حمایت کی تھی لیکن جب سچائی ان پر عیّاں ہوگئی تو انھوں نے اپنے موقف پر نظرثانی کی اور اس کو درست کر لیا تھا۔



کرشماتی قیادت کے حامل ایردوان نے تین سال قبل ڈیووس (سوئٹزر لینڈ) میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو آڑے ہاتھوں لیا تو وہ اس اقدام سے مایوس عربوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔انھوں نے اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب بڑے توانا انداز میں دیا تھا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی قبضے کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور پھر وہ عرب نصب العین کے لیے مائیکرو فون کو پھینک کرکے وہاں سے نیچے آگئے تھے۔



ترکی نے جب محاصرے کا شکار غزہ میں امدادی بحری جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اس کی عرب دنیا میں مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوگیا تھا۔پھر جب اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں ترکی کے امدادی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا تو ایردوان نے یہ کہا تھا کہ اب اسرائیل کو اس حملے اور ترک شہریوں کی ہلاکتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔اس کے بعد سے وہ عربوں کی آنکھ کا تارا بن چکے ہیں اور عرب ان کی تصاویر ہاتھوں میں لیے مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں۔



تاہم ایردوان کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے عربوں کی توقعات کو تو بہت بڑھا دیا ہے لیکن اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بند کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ان سے سب سے زیادہ مایوسی شام کے معاملے میں ہوئی ہے۔ترک حکومت نے بشار الاسد رجیم کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا اور شامی صدر کے خلاف مسلسل دھمکیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ وہ قتل عام کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے گی لیکن ترکی شام میں جاری قتل عام کے دوران ایک سال سے زیادہ عرصے تک خاموش بیٹھا رہا ہے۔



پھر ہم نے دیکھا کہ ترکی کے وزیراعظم اپنے وزیرخارجہ کے ساتھ برما پہنچے۔وہاں انھوں نے دربدر مسلمانوں کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔انھوں نے بہت سے وعدے کیے۔ ایردوان نے شامیوں اور فلسطینیوں سے وعدے کیے۔انھوں نے مکہ مکرمہ میں اسلامی سربراہ اجلاس سے صرف دوروز قبل یہ وعدے کیے تھے لیکن ترکی نے اس ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا۔بعض مبصرین نے ترک وزیر اعظم کے اقدام کو محض تعلقات عامہ کی مہم قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔



اسرائیل سے شام اور شام سے برما تک ترکی نے بلند وبالا توقعات رکھنے والے بہت سے دلوں کو توڑا ہے۔یہاں ہم معروضی انداز میں یہ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا ہم ترکی پر کچھ زیادہ ہی توقعات کا بوجھ تو نہیں لاد رہے ہیں یا کیا ہم ایسے لیڈروں کا شکار تو نہیں ہوگئے جو میڈیا میں چند ایک بلند آہنگ تقریروں کے ساتھ ہمارے دل جیت سکتے ہیں۔ان سے قبل خمینی ،اسد اور حسن نصراللہ کے معاملے میں یہ ہوچکا ہے۔



میرے خیال میں ایردوان دو خصائص کا مجموعہ ہیں۔ ایردوان مقبول سیاست دان ہیں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کب عوام کی دادوتحسین حاصل کی جاتی ہے اور سیاسی جنگ اور انتخابات کیسے جیتے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم عربوں نے ترکی سے اس کی صلاحیت سے زیادہ توقعات وابستہ کررکھی ہیں یا ہم دوسرے حالات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہے ہیں۔



ایردوان اپنی مذہبی اور سیاسی اعتدال پسندی کے لیے جانے جاتے ہیں۔انھوں نے اپنی جماعت اور حکومت دونوں کے لیے اپنی قیادت کے ذریعے یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ دوخصائص کے حامل ہیں۔ان کی وجہ سے انھیں رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملی ہے اور اس کے ساتھ وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ اپنی صلاحیتوں سے ماورا کاموں میں ملوّث نہ ہوا جائے۔



قاہرہ کے ہوائی اڈے پر رجب طیب ایردوان کا استقبال کرنے والے ہزاروں اسلام پسند اورعرب جنگجو اس وقت ہکّا بکّا رہ گئے تھے جب انھوں نے اپنی سیاسی تقریر میں ان پر زوردیا کہ وہ ریاست میں سیکولر سیاسی حکمت عملی اپنائیں۔اس پر مصر اور تیونس میں اسلام پسندوں اور جنگجوؤں نے ترک وزیراعظم پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔



سچ یہ ہے کہ ایردوان اور ترکی کے اسلام پسند ریاست میں مذہب کے کردار کے معاملے میں عرب بہاریہ ممالک کی اخوان المسلمون اور سلفیوں سے مختلف ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ثقافتی خلیج کافی گہری ہے۔



بہرکیف ایردوان کی قیادت میں ترکی کے شام میں نمایاں کردار اور شامی عوام کو فوری طور پر بچانے کے حوالے سے ابھی امید پائی جاتی ہے۔ترکی عسکری میدان میں تمام عرب ممالک سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کی شام ،سعودی عرب اور مصر کے ساتھ بین الاقوامی سرحدیں واقع ہیں۔چنانچہ ترکی کا شامی عوام کی اکثریت کے اطمینان کے مطابق نظام کی تبدیلی میں گہرا مفاد ہوسکتا ہے تاکہ خطے کے استحکام اور ترکی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔



اب یہ امیدکی جارہی ہے کہ ایردوان کی حکومت شامی حزب اختلاف کی حمایت میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہی ہے اور ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکی ہی پہلا ملک ہے جس نے سب سے پہلے شامی باغیوں کی حمایت کی تھی۔اس کے بغیر غالباً شامی انقلاب جاری نہیں رہ سکتا تھا۔ہم ان افواہوں سے بھی آگاہ ہیں کہ ترکی پر مغرب کی جانب سے دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ باغیوں کی حمایت سے گریز کرے۔یہ صرف جھوٹ ہیں۔درحقیقت معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔



ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ترکی نے شام کے حوالے سے پیچیدہ تخمینے لگائے ہیں۔کسی قسم کی فوجی مداخلت سے اس پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔مثلاً ایران ترکی کے اندر مسائل پیدا کر سکتا ہے اور وہ کرد اپوزیشن کے مسلح جنگجوؤں کی حمایت کر سکتا ہے۔ یہ تمام وجوہات ترکی کے لیے ایک جواز ہو سکتی ہیں لیکن ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ترکی کا وسیع تر مفاد اسد حکومت کے خاتمے اور وہاں جمہوری نظام کے قیام سے وابستہ ہے تاکہ شام کے استحکام اور اس کی علاقائی سالمیت کویقینی بنایا جاسکے اور ایک لگ کرد ریاست کے قیام کو روکا جا سکے۔



یہ سب ترکی اور شام کے مفاد میں ہے۔ نتیجتاً ایران اور روس جو اس وقت اسد رجیم کے اتحادی ہیں، وہ بھی نئی شامی حکومت کو قبول کرلیں گے۔ وہ اس کے ساتھ معاملہ کاری کو تیار ہوں گے اور ان کا ترکی کے لیے احترام مزید مضبوط اور مثبت بن جائے گا۔



(کالم نگار العربیہ کے جنرل مینجر ہیں۔ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.