.

روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

زمرد نقوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس نے کہا ہے کہ وہ ہر ملک کی سلامتی و خود مختاری کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

چند دن پیشتر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اس وقت کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ روسی صدر کے طے شدہ دورے کی اچانک منسوخی کے حوالے سے ملک میں مختلف قسم کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

جس میں سے ایک مضحکہ خیز یہ تھی کہ امریکا نے بھارت پر دبائو ڈال کر روسی صدر کا دورہ پاکستان منسوخ کرایا جب کہ اس سے پہلے یہ بھی تجزیے سامنے آتے رہے ہیں کہ بھارت روس سے دور ہو کر امریکا کے نزدیک ہو گیا ہے، جب کہ بھارت کے خارجہ تعلقات کی تاریخ دیکھ لیں اس نے کبھی بھی ان تعلقات میں توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا نہ ہی پاکستان کی طرح اس نے روس کے ساتھ نتھی ہو کر اپنے قومی مفادات کو نظر انداز کیا۔

یقینی طور پر اس کی وجہ یہی تھی کہ پاکستان کے برعکس آمریت کے بجائے وہاں جمہوریت رہی۔ بہرحال پاکستانی وزیر خارجہ نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے روسی صدر پیوٹن کے دورۂ پاکستان کی منسوخی کے حوالے سے تمام افواہوں کی تردید کی ۔

حنا ربانی کھر کے اظہار خیال کے بعد روسی وزیر خارجہ نے از خود اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے ڈرون حملوں کے بارے میں جو کچھ کہا وہ اس سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے نہ صرف غیر قانونی اور غیر سود مند ہیں بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں روس کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ دونوں ملکوں نے خود ہی حل کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات خوش آیندہ ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ شام کی خود مختاری اور جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

انھوں نے شام کے اندر مزاحمتی تحریک یعنی شامی باغیوں کے لیے دہشت گردی کے الفاظ استعمال کیے۔ روسی صدر کے دورۂ پاکستان کے التوا کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صدر پیوٹن کا دورہ پاکستان خالصتاً ان کے مصروف شیڈول کے باعث ملتوی ہوا۔ اس کو کوئی اور رنگ نہیں دینا چاہیے۔ روس اور پاکستان کے صدور کے درمیان جلد ملاقات ہو گی۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں اپنے شاندار خیر مقدم پر وہ حکومت پاکستان کے از حد شکر گزار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میں صدر زرداری کے لیے معذرت کا پیغام لایا ہوں۔ روسی صدر اپنے دورہ پاکستان کی نئی تاریخوں کا جلد اعلان کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا تعاون بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر شام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حلب میں بم دھماکوں میں قیمتی جانیں ضایع ہوئیں لیکن افسوس ہے کہ مغربی ممالک اور سلامتی کونسل نے اس کی مذمت نہیں کی۔

دوسری طرف پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنا پہلا دورہ روس مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ عسکری ذرایع کے مطابق آرمی چیف کا چار روزہ دورہ انتہائی کامیاب و موثر رہا۔ دورے کے دوران روسی عسکری قیادت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور اس ضمن میں دونوں ملکوں کی عسکری قیادت نے باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاک روس تعلقات میں تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے جس کا انکشاف پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر کیا کہ روسی وزیر خارجہ ہماری خواہش پر صرف دو دن کے نوٹس پر پاکستان آئے اور روس کے ساتھ تعلقات پر ملک میں ’’اتفاق رائے‘‘ موجود ہے۔

بہرحال روسی وزیر خارجہ نے پاکستان آ کر ان افواہ بازوں کا منہ بند کر دیا جو طرح طرح کی مو شگافیاں کر رہے تھے۔ پاک روس تعلقات میں، جو ایک زمانے میں امریکا کی محبت میں روس سے دشمنی پر مبنی تھے، نئی انقلابی پیش رفت کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے یا بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دیری نے پاکستان‘ افغانستان‘ ایران‘ عراق کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ سرد جنگ میں امریکا کا ساتھ دے کر ہم نے غلطی کی ، بہر حال اس کی ذمے دار تو اس وقت کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے امریکا کا اتحادی بننا ہے۔

ہماری مذہبی جماعتوں نے انتہائی جاں فشانی سے ایسے ایسے ’’کارہائے نمایاں انجام‘‘ دیے جن کی تفصیل کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ اس کے نتائج پاکستان اور پاکستانی قوم پچھلے تیس سال سے بھگت رہی ہے اور ہماری آیندہ آنے والی نسلوں کو نہ جانے کب تک بھگتنا پڑیں گے۔

روسی وزیر خارجہ کا پاکستان آنا اور پاکستانی آرمی چیف کا پہلی مرتبہ روس جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ روس پاکستان اور چین میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس خطے سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جائے ۔ اس خطے میں امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ہی ہو سکتا ہے کہ جب پاک بھارت تعلقات دوستی میں بدل جائیں۔ یہی چیز روس اور چین بھی چاہتے ہیں۔ اسی بات کی طرف اشارہ کچھ عرصہ پہلے بھارتی وزیرخارجہ نے یہ کہہ کر کیا کہ پاک بھارت دوستی ’’عالمی حالات‘‘ کا تقاضا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ یہ بات ہم بھارتی اپوزیشن کو سمجھا نہیں سکتے۔ مقام شکر اور اللّہ کا احسان ہے کہ ہم سرد جنگ اور گرم جنگ کے اثرات سے نکلنے والے ہیں۔

خطے کے حوالے سے ایک انقلابی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ تبدیلی کا یہ عمل جب ’’مکمل‘‘ ہو گا تو ہم یہ کہہ سکیں گے کہ حقیقی معنوں میں تو اب جا کر ہم آزاد ہوئے ہیں۔ اس خطے کے لوگوں کو سلام … جنہوں نے پچھلے 65 سالوں میں آگ و خون کا سمندر عبور کیا … یہ عشق (آزادی) نہیں آساں اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے … مقام فکر ہے کہ ماضی کے امریکی ایجنٹوں کا کیا بنے گا!!!

روسی صدر پیوٹن 2013ء میں اس خطے اور روس کے حوالے سے بڑے اہم فیصلے کریں گے۔

گیارہ سے چودہ اکتوبر کے درمیان موسم میں تبدیلی کا عمل شروع ہو جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.