.

ہماری اوقات

عبد القادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بھارت کے وزیر خارجہ جناب سلمان خورشید بھارتی وزارت خارجہ کے پرانے افسر تھے۔

جن دنوں وہ وزارت خارجہ کے سیکریٹری تھے، کسی میٹنگ کے سلسلے میں پاکستان تشریف لائے۔ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں سرکاری تقریبات کے حاشیے میں ان سے گپ شپ ہوئی تو اس بہتر موڈ اور ماحول میں کسی نے ان سے پوچھا کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود بھارت کے اس کلیدی عہدے پر کیسے پہنچ گئے، انھوں نے اسی خوشگوار موڈ میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیگم ہندو ہیں۔ ساری بات اس جواب سے کھل گئی۔ سوال کرنے والا اس راز کی تلاش میں تھا کہ کوئی مسلمان بھارت کی وزارت خارجہ کے اس مرکزی اور کلیدی عہدے پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ اسے جواب مل گیا۔

آپ بھارت کے کسی بھی تعلیم یافتہ مسلمان سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ پورے بھارت میں مسلمان ملازمین سرکار کی شرح کیا ہے اور وہ بالعموم کس عہدے تک پہنچ سکتے ہیں یوں تو بھارت کے صدر اور نائب صدر بھی مسلمان رہے ہیں اور خصوصاً مسلمان ملکوں میں بھارتی سفیروں میں مسلمانوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن بھارت میں مسلمان سرکاری ملازمین کڑی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ بھارت میں اونچے درجے کے ہندوئوں پنڈتوں نے ملک پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور بھارتی انتظامیہ میں غیر ہندوئوں کو احتیاط کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔

ہندو بھی دنیا کی ایک منفرد قوم ہیں جو مذہباً چار حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کم تر شودر وغیرہ ہیں اور اعلیٰ ذات پنڈتوں کی ہے۔ بھارت میں عام لباس دھوتی سمجھی جاتی ہے جو ہر کوئی پہنتا ہے لیکن بھارتی پنڈت کی دھوتی کے حاشیے میں ایک خاص رنگ کی پٹی ہوتی ہے۔ بھارت در حقیقت چار درجوں میں تقسیم ایک غیر مساوی قوم کا نام ہے اور بھارتی جمہوریت کے بارے میں بھی اس حقیقت کو سامنے رکھا کریں کہ یہ مساوی درجے کے لوگوں کی جمہوریت نہیں ہے۔

دنیا کی واحد جمہوریت ہے جس کی تشکیل چار انسانی درجوں سے ہوتی ہے، دنیا بھر کی جمہوریتوں اور جمہوری عالمی اصولوں کے برعکس بھارت کی جمہوریت بھی مختلف اور انوکھی ہے چنانچہ ہم پاکستانیوں کو یہ تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت کے فارن سیکریٹری جیسے کسی بڑے عہدے کے لیے اصل کوالی فکیشن کیا ہے اور وہ کس قدر کسی ہندو کی گرفت اور کنٹرول میں ہے۔

ہمارے پاکستان میں ادھر کچھ عرصہ سے بھارت کے ساتھ دوستی کی تمنا بڑھتی جا رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ دوستانہ روابط کے لیے بے تاب پاکستانی، کسی بھی پاکستانی سے پوچھ لیں تو وہ ہندوئوں کے بارے میں ایک ہی رائے ظاہر کرے گا جو ان ’بھارتی پاکستانیوں‘ کو پسند نہیں ہو گی یعنی بھارت دشمنی کی۔ کسی بھی پاکستانی کی سمجھ میں ایک بات نہیں آتی کہ پاکستانی کے لیے تعمیر وطن اور وطن کے ساتھ محبت میں کیا رکاوٹ ہے۔ کون اسے روکتا ہے۔ ہمارے ہاں بندیا اور ساڑھی نہیں ہے اور وہ بے تکلفانہ ماحول بھی نہیں ہے جو سرحد کے اس پار ملتا ہے تو شوقین مزاج پاکستانیوں کو کون روکتا ہے۔

وہ بڑے شوق کے ساتھ وہاں جائیں، اب تو ان ’بھارتی پاکستانیوں‘ کی کوششوں سے سنا ہے ویزے بھی آسان ہو گئے ہیں اور بارڈر معاف کیجیے گا ’لکیر‘ پار کرنے پر کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں آتا۔ ناچنا گانا سجنا سنورنا ہندو مذہب کا حصہ ہے، کسی بھی بھارتی دانشور سے پوچھ لیں، وہ یہی جواب دے گا۔ جب ہمارے ہاں کے بعض تنگ نظر پاکستانی بھارتی کلچر کی بعض بے باکیوں کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے تو بھارتی کہا کرتے تھے کہ بھائی یہ کلچر تو ہمارے ہندو مت کا حصہ ہے۔ ہندو مذہب ہم مسلمانوں کے مذہب کی طرح قانون قاعدوں اور ہاں اور نہ میں تقسیم نہیں ہے بلکہ یہ قدیم ثقافتی روایات کا مجموعہ ہے بہر کیف ہندو مت کا مسئلہ ایک الگ مسئلہ ہے، فی الوقت تو سیاسی پہلو زیر بحث ہے جو سلمان خورشید صاحب کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

بھارت کو یہیں چھوڑئیے اور دیکھیے کہ ہمارے چوہدری شجاعت حسین اپنے کسی دوست کی شادی کی تقریب میں بھارت گئے تو اجمیر شریف جانے کی خواہش بھی کی لیکن انھیں روک لیا گیا اور جب ہمارے سفارتی عملے نے ان کے بعض ساتھیوں کے پاسپورٹ لا کر دکھائے تو انھیں سلام کی اجازت دی گئی۔ بھارتی حکومت کا پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم اور ایک پارٹی کے سربراہ کے ساتھ یہ سلوک اس کی تنگ نظری کا ثبوت ہے اور اس سے زیادہ ایسا ہی ایک واقعہ عمران خان کے ساتھ پیش آیا۔

ان کو کینیڈا کے ایک ہوائی اڈے پر روک لیا گیا اور ان سے ڈرون حملوں کے بارے میں ان کی رائے لی گئی، اس تفتیش میں اتنی دیر کی گئی کہ وہ نیو یارک نہ جا سکے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ٹورنٹو اور نیو یارک میں وہ فنڈ ریزنگ کیسے کرتے ہیں۔ ان سے طالبان کے بارے میں پوچھا گیا۔ یہ ساری کارروائی ایک الگ کمرے میں ہوئی اور عمران خان سے کئی معاملات میں تفصیلی معلومات لی گئیں۔

یہ دو واقعات ہماری بیرون ملک قومی وقعت سے تعلق رکھتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہماری پروا نہیں کرتا، بھارت کا دشمن ہو یا کینیڈا کا دوست ہمارے سیاسی لیڈروں کو اسمگلر یا کوئی مجرم سمجھ کر ان کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔ ہماری حکومت نے امریکا کی کاسہ لیسی کی جو انتہا کر دی ہے، یہ سب اس کا نتیجہ ہے اور دنیا ہمیں بتا رہی ہے کہ تمہاری اوقات کیا ہے اور تم جو دنیا کے سب سے بڑا کرپٹ ملک ہو تمہارے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.