.

اصغر خان کیس اور پی پی پی

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا اور انتخابات کی دہلیز پر کھڑی پیپلزپارٹی کے لئے ایک نیا عرصہ امتحان شروع ہونے کو ہے۔ 140صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ بعض پہلوؤں سے قومی سیاست پر انتہائی دوررس اثرات ڈالے گا۔ ایک چیز تو طے پا گئی کہ صدر کے کردار کو مکمل طور پر غیر سیاسی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن سپریم کورٹ نے قطعی اور متعین انداز میں طے کردیا ہے کہ صدر کسی نوع کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ نہ ہی ایوان صدر کو سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بنا سکتا ہے ۔ سو اس فیصلے کا براہ راست اثر آئندہ انتخابات پر یہ پڑنے جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم صدر زرداری کی قیادت سے محروم رہے گی۔ تو کیا یہ معرکہ منظور وٹو صاحب کی سپہ سالاری میں لڑا جائے گا، کیا قمر الزماں کائرہ علم اٹھائیں گے؟ کیا بلاول کو میدان میں اترنا ہوگا؟ کیا سید یوسف رضا گیلانی، اپنے دامان تار تار کے ساتھ اپنی جماعت کی بے ہنری و نااہلی کا مقدمہ لڑیں گے؟ بینظیر نہیں رہیں۔ کشش آصف علی زرداری میں بھی نہ تھی لیکن وہ خلا پُر کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتے تھے۔ اب اگر وہ انتخابی اجتماعات میں شریک نہیں ہو سکتے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پانچ سال کی آئینی عمر پانے والی اس حکومت کے لئے اپنی انتہائی ناقص کارکردگی کے ساتھ انتخابی مہم چلانا خاصا مشکل ہوگا۔ میڈیا چوکنا ہے، سپریم کورٹ پوری طرح فعال و متحرک ہے۔ فخر الدین جی ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمیشن ایک نئی تاریخ رقم کرنے کو پر تول رہا ہے۔ سو ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ایوان صدر کوئی چال یا کرتب گری، عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں نقب لگا کر صدر زرداری کو انتخابی اکھاڑے میں اترنے کی راہ سجھا دے گی۔ اس فیصلے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ صدر کے منصب کو ”سروس آف پاکستان“ میں شمار کرنے پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔ گویا اب صدر زرداری اپنے منصب سے محروم ہونے کے دو سال بعد تک عوامی نمائندگی کے لائق نہیں رہیں گے۔ فیصلے میں سب سے مفصل اور جامع بحث کسی پارلیمانی نظام میں صدر کے کردار پر ہی کی گئی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں جنرل (ر) اسد درانی اور یونس حبیب کے بیانات یا حلف ناموں کے عجیب و غریب تضادات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ رحمن ملک نے، جنرل (ر) نصیر اللہ بابر کے حکم پر جرمنی کا دورہ کیا۔ وہاں متعین پاکستانی سفیر اسد درانی سے محترمہ بینظیر کے نام ایک خط حاصل کیا۔ پھر ایک حلف نامہ تیار کرکے جنرل (ر) درانی کے دستخط ثبت کروائے۔ انہی خصوصی خدمات کے عوض سفیر کا منصب پانے والے جنرل درانی، تذبذب کا شکار رہے۔ انہوں نے تحریری طورپر بھی اس تذبذب کا اظہار کیا لیکن شنوائی نہ ہوئی۔ سپریم کورٹ نے نصیر اللہ بابر کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ کس طرح وہ اپنے عہدے کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ آج اصغر خان کیس کے فیصلے کو اپنے ماتھے کا جھومر بنانے والی پیپلزپارٹی نے مقدمے کی پوری سماعت کے دوران عدلیہ سے عدم تعاون کا رویہ اپنائے رکھا۔ عدالت نے پورا زور لگا لیا لیکن حکومت نے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل بنانے کے بارے میں نوٹیفکیشن پیش نہ کیا جو ذوالفقار علی بھٹو نے 1975ء میں جاری کیا تھا۔ مہران بینک میں کی جانے والی لوٹ مار کی تحقیقات کے لئے محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے عہد حکومت میں مسٹر عبدالقدیر چوہدری کی سربراہی میں پانچ جج صاحبان پر مشتمل ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے بڑی محنت سے اپنی رپورٹ مرتب کی اور بتایا کہ بہتی گنگا میں کس کس نے اشنان کیا اور یونس حبیب نامی شخص کیا کھیل کھیلتا رہا۔ عدالت کے استفسار کے باوجود حکومت نے یہ رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی۔ حامد میر نے اپنے ذرائع سے حاصل کی گئی ایک کاپی اصغر خان کے وکیل، سلمان اکرم راجہ کے حوالے کی جو عدالت تک پہنچا دی گئی۔ حکومت نے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ عدلیہ نے حکام سے بار بار پوچھا کہ وہ غلام اسحاق خان مرحوم کے دور میں، ایوان صدر میں قائم الیکشن سیل کے بارے میں شواہد دے۔ حکومت نے اس ضمن میں بھی عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی۔ جنرل (ر) اسد درانی کی طرف سے محترمہ بینظیر بھٹو کو لکھے گئے خط کی نقل بھی عدالت کو فراہم نہیں کی گئی۔ یونس حبیب سے کی گئی تحقیقات اور اس کے پہلے بیان پر مشتمل ”کمپیوٹر ڈسک “ بہت سے حقائق کی پردہ کشائی کر سکتی تھی لیکن وہ بھی عدالت کو مہیا نہیں کی گئی۔ سو مقدمے کی پوری کارروائی کے دوران حکومت نے کسی مرحلے پر بھی اپنے اس اخلاص و عزم کا اظہار نہیں کیا کہ وہ واقعی معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور مجرموں کا کڑا احتساب کرنے کے لئے عدالت کی مدد کرنا چاہتی ہے۔

تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت کے لئے پہلی بڑی آزمائش یہ آکھڑی ہوئی ہے کہ وہ عدالتی حکم کے تحت مبینہ طورپر رقوم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے۔ اب غلام مصطفی کھر، کرنل (ر) غلام سرور چیمہ، ملک معراج خالد اور عبدالحفیظ پیرزادہ کے نام بھی سامنے آگئے ہیں جنہیں اسد درانی سے حلف نامہ لیتے وقت حذف کردیا گیا تھا۔ یہ الزام بھی ریکارڈ پر آیا ہے کہ یونس حبیب نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو دو کروڑ روپے دیئے، پانچ کروڑ روپے جاوید ہاشمی تک پہنچائے گئے۔ ایم کیوایم حقیقی کے آفاق احمد کو پچاس لاکھ دیئے گئے اور پیر پگارا شریف کو بیس لاکھ روپے نذر کئے گئے۔ عدالت نے اس سب کو ”مبینہ الزامات“ ہی قرار دیا ہے جن کا کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا لیکن اب حکومت اگر کسی سیاسی مخالف کو نشانہ بناتی ہے تو اسے اپنے کچھ ”محبوبان“ سے بھی باز پرس کرنا پڑے گی۔ دوسرا کڑا امتحان جنرل (ر) بیگ اور جنرل (ر) درانی پر ہاتھ ڈالنا ہے جو عدالت سے مجرم قرار پانے کے باوجود ٹی وی چینلز پر جلوہ افروز ہو رہے ہیں۔ عمومی قیاس یہ ہے کہ پی پی پی کے پیکر خاکی میں اتنی جان نہیں۔ تیسرا اور سب سے بڑا مرحلہ امتحان یہ ہے کہ آئی بی کے فنڈز سے پچاس کروڑ روپے نکالے جانے کا معاملہ اگلے ہفتے عدالت میں زیر سماعت آرہا ہے۔ 27 کروڑ روپے کی اس رقم کا پراسرار باب کھلنے کو ہے جو پنجاب میں شہباز حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے نکلوائی گئی۔ حکومت کے لئے پریشانی کا باعث یہ ہے کہ ریکارڈمیں رد و بدل ممکن نہیں اور شعیب سڈل نامی ایسا معتبر گواہ موجود ہے جس نے جھوٹ بولنا سیکھا ہی نہیں اور جو ہمیشہ مصلحتوں اور نوکریوں کے آشوب سے آزاد رہا ہے۔

اصغر خان کیس کے فیصلے سے کسی اور کا کچھ بگڑتا ہے یا نہیں، پی پی پی انتخابات سے عین پہلے جناب زرداری کی سیاسی سیادت اور عملی رہنمائی سے محروم ہوگئی ہے۔ جرنیلوں کا کڑا محاسبہ نہ کرنے سے اس پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ ایف آئی اے کو حرکت میں لاتے ہوئے اسے نواز شریف ، الطاف حسین، جاوید ہاشمی، سب کو ایک پلڑے میں رکھنا ہوگا اور آئی بی فنڈز کی تحقیقات ایک بڑے عفریت کی طرح جبڑے کھولے اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.