.

قائد پھر بھی

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مجھے کل ایک نوجوان کا فون آیا‘ نوجوان نے گرم جوشی سے کہا ’’ سر میں پاکستان کا صدر بننا چاہتا ہوں‘ میں کیسے بن سکتا ہوں‘‘ میری ہنسی نکل گئی‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ آپ کیا کرتے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’میں اسٹوڈنٹ ہوں‘ ایف اے کر رہا ہوں‘ میں سوچ رہا ہوں‘ میں تعلیم کے بعد سیاست میں آئوں اور محنت کرتا ہوا آہستہ آہستہ صدرپاکستان بن جائوں‘ میں اپنے مقصد تک کیسے پہنچ سکتا ہوں۔

میری رہنمائی کریں‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ آپ کے والد کیا کرتے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا’ ’ وہ میری والدہ کو طلاق دے کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’ آپ کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’ میری والدہ سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں اور ان کی محنت سے ہم تین بہن بھائی پل رہے ہیں‘‘ میں نے ٹھنڈا سانس لیا اور اس سے کہا ’’آپ پھر سیاست کا خواب دیکھنا بند کر دیں‘ آپ کبھی صدر پاکستان نہیں بن سکتے‘ آپ بی اے یا ایم اے کریں اور کسی پرائیویٹ کمپنی میں منشی بھرتی ہو جائیں‘ آپ کے لیے اس سے بڑا خواب دیکھنا جرم ہے‘‘ وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا‘ اس نے خاموشی کے وقفے کے بعد لمبا سانس لیا اور بولا ’’ سر اگر سیاہ فام اوباما دوسری بار امریکا کا صدر بن سکتا ہے تو میں پاکستان کا صدر کیوں نہیں بن سکتا‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’ وہ کافر ملک ہے‘ ایسے معجزے صرف کافر ملکوں میں ہوتے ہیں‘ اسلامی جمہوریتوں میں نہیں‘‘ اس نے فون بند کر دیا۔

میں دیر تک ہنستا رہا لیکن پھر سنجیدہ ہو گیا کیونکہ نوجوان کی خواہش لطیفہ نہیں تھی‘ المیہ تھی‘ آپ ایک لمحے کے لیے سوچیے یہ سوال اگر امریکا کی کسی پسماندہ ریاست کے کسی دور دراز قصبے کا کوئی نوجوان کسی صحافی سے پوچھتا تو وہ اس کا کیا جواب دیتا؟ کیا وہ بھی اس نوجوان کو یہ کہتا‘ آپ ایم اے کرو اور کسی پرائیویٹ فرم میں منشی بھرتی ہو جائو‘ آپ کے لیے اس سے بڑا خواب دیکھنا جرم ہے‘ یا پھر وہ اسے مشورہ دیتا‘ آپ تعلیم مکمل کرو‘ ری پبلکن یا ڈیموکریٹ پارٹی میں شامل ہو جائو‘ محنت کرو‘ پارٹی کے چھوٹے الیکشن لڑو‘ سینیٹر بنو‘ گورنر کا الیکشن لڑو اور صدارتی امیدواروں کی فہرست میں شامل ہو جائو‘ تم بھی کسی نہ کسی طرح‘ کبھی نہ کبھی باراک حسین اوباما اور بل کلنٹن کی طرح صدر بن جائو گے۔

آپ سوچیے کیا یہ المیہ نہیں امریکا جیسے کافر معاشرے میں لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص بل کلنٹن اور باراک حسین اوباما کی طرح صدر بن سکتا ہے جب کہ پاکستان کے اسلامی معاشرے میں سیاست عام لوگوں کے لیے شجر ممنوعہ ہے‘ آپ اس ملک میں کتنے ہی پڑھے لکھے‘ ذہین‘ قابل اور دانشور ہو جائیں آپ سیاست نہیں کر سکتے کیونکہ سیاست کے لیے آپ کی رگوں میں رائل بلڈ‘ دولت‘ برادری اور کم علمی ہونی چاہیے اور آپ کی جیب میں اگر یہ سارے اثاثے ہیں تو آپ الیکشن لڑ سکیں گے بصورت دیگر آپ کونسلر تک نہیں بن سکتے‘ آپ زندگی میں کسی پرائیویٹ فرم میں منشی ہو سکتے ہیں اور آپ کے لیے باقی خواب عقاب کے گوشت کی طرح حرام ہوں گے۔

آپ ایک بار! باراک حسین اوباما کا پس منظر دیکھ لیجیے‘ بعد میںپاکستان کی سیاست اور قیادت کا جائزہ لے لیجیے ہر چیز روز روشن کی طرح روشن دکھائی دے گی‘ صدر اوباما کے گلے میں صدیوں کی غلامی کا طوق تھا‘ ان کی والدہ این ڈنہم ریاست آرکنساس کی سفید فام خاتون تھی‘ والد باراک حسین اوباما سینئر کینیا کے لو قبیلے سے تعلق رکھتے تھے‘ اوباما سینئر پڑھنے کے لیے ہوائی آئے‘ ان کی ملاقات صدر اوباما کی والدہ سے ہوئی‘ شادی ہوئی‘ اوباما جونیئر پیدا ہوا اور اوباما سینئر اپنے بیٹے اور بیوی کو امریکا چھوڑ کر واپس چلے گئے‘ والدہ نے بعد ازاں انڈونیشیا کے ایک طالب علم لولو سوئیترو سے شادی کر لی اور اس کے ساتھ جکارتہ چلی گئی‘ اوباما بھی ان کے ساتھ انڈونیشیا آ گیا۔

یہ ایک مشکل دور تھا‘ اوباما کے سوتیلے والد کو زبردستی فوج میں بھرتی کر لیا گیا‘ تنخواہ انتہائی کم تھی‘ گھر میں گاڑی‘ ٹیلی ویژن‘ فریج اور ائیر کنڈیشن نہیں تھا‘ ماں اوباما کو انگریزی اسکول تک میں داخل نہیں کرا سکتی تھی چنانچہ اوباما مقامی سرکاری اسکول میں پڑھتے رہے‘ ماں نے بعد ازاں اوباما کو اپنی والدہ کے پاس ہوائی بھجوا دیا‘ والدین میں طلاق ہو ئی اور یوں اوباما کی والدہ بھی واپس امریکا آ گئی‘ اوباما کا بچپن اور جوانی خستہ حالی میں گزری‘ یہ تین پیدائشی مسائل کا شکار تھے‘ یہ سیاہ فام تھے اور سفید فام معاشرے میں سیاہ فام کتنا بڑا جرم ہوتا ہے اسے صرف ایک سیاہ فام ہی سمجھ سکتا ہے‘ اوباما کے اپنے الفاظ کے مطابق ’’ میں جب کسی بڑے اسٹور میں داخل ہوتا تھا تو سیکیورٹی گارڈ میری رنگت کی وجہ سے مجھے چور سمجھ لیتے تھے اور میں جب تک اسٹور میں رہتا تھا یہ میرے پیچھے پیچھے منڈلاتے رہتے تھے۔

میں جوان ہوا اور کھانے کے لیے ریستورانوں میں جانے لگا تو سفید فام جوڑے مجھے ریستوران کا کار بوائے سمجھ کر اپنی گاڑیوں کی چابیاں مجھے پکڑا دیتے تھے اور مجھے پولیس بھی بلا وجہ تنگ کرتی تھی ‘ میں ان زیادتیوں پر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا تھا‘ میں بعض اوقات اشتعال میں بھی آ جاتا تھا‘‘ اوباما کا دوسرا ایشو والد کی شفقت سے محرومی تھی‘ اوباما کا اصلی والد زندہ تھا لیکن وہ ان کی پیدائش سے فوراً بعد کینیا شفٹ ہو گیا تھا اور اس نے اوباما اور اس کی والدہ سے کوئی رابطہ نہ رکھا‘ سوتیلے والد نے ان کی والدہ کو اس وقت طلاق دے دی جب اوباما چھ برس کے تھے چنانچہ یہ دو دو والد کے باوجود یتیم تھے اور اوباما کا تیسرا مسئلہ غربت تھی‘ یہ امریکا کے انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کی والدہ سخت محنت کرتی تھی اور وہ اس محنت سے اپنے دو بچے پالتی تھی چنانچہ اوباما کے پاس محنت کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

انھوں نے سنجیدگی سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور کمال کر دیا‘ انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے گریجوایشن کی‘ ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی‘ چھوٹی موٹی نوکریاں کیں‘ این جی او میں کام کیا‘ شکاگو میں پسے ہوئے محروم لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑی اور 35 سال کی عمر میں اچانک سیاست میں آنے کا فیصلہ کر لیا‘ ان دنوں ریاست الی نوائے کی اسمبلی میں ایک سیٹ خالی ہوئی تھی‘ باراک حسین اوباما نے اس سیٹ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ اکیلے بھی تھے‘ ناتجربہ کار بھی تھے اور غریب بھی مگر اس کے باوجود انھوں نے چانس لینے کا فیصلہ کیا‘ اوباما نے اپنا پمفلٹ چھپوایا‘ پمفلٹ تھیلے میں بھرے اور شہر میں نکل گئے‘ یہ گرجا گھروں‘ کلبوں‘ بیوٹی شاپس‘ حجاموں کی دکانوں‘ شاپنگ سینٹرز‘ ریستورانوں حتیٰ کہ انھیں جہاں دو لوگ بیٹھے نظر آتے تھے یہ وہاں چلے جاتے تھے۔

انھیں اپنا پمفلٹ دیتے تھے اور انھیں کنوینس کرنے کی کوشش کرتے تھے‘ لوگوں نے ان کا مذاق بھی اڑایا‘ ان کی بے عزتی بھی کی اور ان کا نام پڑھ کر یہ بھی کہا ’’ یہ بھی کوئی نام ہے باراک اوباما‘‘ لیکن یہ ڈٹے رہے‘ انھوں نے عوامی تقریریں بھی شروع کر دیں‘ لوگوں نے وہاں بھی ان کا مذاق اڑایا مگر یہ ڈٹے رہے یہاں تک کہ لوگ آہستہ آہستہ ان سے متاثر ہونے لگے‘ اوباما سیاست کے ساتھ ساتھ شکاگو یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی تھے‘ اوباما نے 3جنوری 2005 کو سینیٹ کا الیکشن لڑا اور یہ جیت گئے‘ اس وقت ان کی عمر44 سال تھی‘ 16 نومبر 2008 کوسینیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار منتخب ہوئے‘ انھوں نے جان مکین کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا اور یہ 349 الیکٹورل ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ ان کے مقابلے میں جان مکین صرف 163 الیکٹورل ووٹ حاصل کر سکے اور یوں ایک مسلمان‘ سیاہ فام‘ غیر ملکی باشندے کا غریب بیٹا دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر بن گیا‘ یہ کارنامہ صرف امریکا جیسے ملک ہی میں ممکن تھا۔

صدر اوباما چھ نومبر 2012 کو دوسری بار صدر منتخب ہوئے اور انھوں نے ثابت کر دیا آپ اگر پڑھے لکھے ہیں‘ باصلاحیت ہیں‘ آپ میں اگر لیڈر شپ کی کوالٹی ہے اور آپ اگر محنت کرنا جانتے ہیں تو آپ خواہ غریب ہوں‘ یتیم ہوں یا پھر کالے ہوں آپ امریکا کے صدر بن سکتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں آپ پاکستان کی سیاست دیکھئے‘ آپ خواہ کچھ بھی ہو جائیں‘ آپ دنیا کے انتہائی تعلیم یافتہ ہوں‘ آپ دنیا کے دانشور ترین شخص ہوں‘ آپ قابل اور ماہر ترین شخص ہوں اور آپ خواہ ڈاکٹر عبدالقدیر یا ڈاکٹر ثمر مبارک مند ہوں آپ اس ملک میں وزیراعظم یا صدر تو رہے ایک طرف آپ ایم پی اے اور ایم این اے تک نہیں بن سکتے‘ آپ خواہ پوری زندگی محنت کر لیں‘ گھر بار‘ زمین جائیداد حتیٰ کہ اولاد تک کی قربانی دے لیں آپ کا درجہ اپنے قائد کی خوشامد سے اوپر نہیں جا سکتا‘ قائد محترم آپ کو زیادہ سے زیادہ اپنے کان میں سرگوشی کی اجازت دیں گے اور یہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہو گا۔

رہ گئے عہدے یا پارٹی کی قیادت تو یہ میاں نواز شریف کے پاس رہے گی یا پھر آصف علی زرداری‘ مولانا فضل رحمن‘ اسفند یار ولی یا چوہدری شجاعت حسین کے پاس اور ان کے بعد چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی‘ اسفند یار جونیئر‘ مولانا عطاء الرحمن‘ بلاول زرداری بھٹو اور حمزہ شہباز یا مریم نواز اس عظیم سیاسی تخت کے وارث ہوں گے‘ یہ صاحبزادے جمہوریت کے نام پر اقتدار کا تاج سر پر رکھیں گے ‘ عوام کی رائے سے بنی کرسی پر بیٹھیں گے اور اٹھارہ کروڑ اوباما خواہ کچھ بھی کر لیں یہ منشی سے اونچا خواب نہیں دیکھ سکیں گے اور خواب کے راستے کی یہ رکاوٹ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

آپ خود سوچیے جس ملک میں چند گھرانوں کی خواتین بادشاہ پیدا کرتی ہوں اور باقی نو کروڑ عورتیں ہر بار منشی جنتی ہوں اس ملک کی زمینوں پر خواب کیسے کاشت ہوں گے‘ اس ملک میں ترقی‘ خوش حالی اور مساوات کیسے جنم لے گی اور جس ملک میں پیدائش قیادت کا سب سے بڑا اصول ہو اس ملک میں اوباما جیسے لوگ کیسے سامنے آئیں گے‘ اس ملک میں نئی سیاسی قیادت کیسے جنم لے گی‘ اس میں ایک ہی قسم کے قائد محترم ہوں گے اور یہ ملک کی آخری سانس تک قائم رہیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.