.

سینڈی کے ساتھ سفر

وجاہت علی عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اکتوبر انتیس (29) پیر کی صبح تھی کوئی ساڑھے نو کا وقت تھا اورہم واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے ٹی وی چینل سے آنے والی خبریں دیکھ رہے تھے۔

ہم پچھلے دو دنوں سے اپنی والدہ نیلوفر عباسی کی خود نوشت ’’کہی ان کہی‘‘ کی تقریب رونمائی کے لیے واشنگٹن میں موجود تھے اور آج ہماری نیویارک واپسی تھی، نیویارک واشنگٹن سے کوئی سات گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے اور امریکا کے نارتھ ایسٹ ایریا کی کئی ریاستوں جیسے ورجینیا ، ڈیلویر، میری لینڈ اور نیو جرسی سے گزرتے ہوئے نیویارک پہنچنا ہوتا ہے، واشنگٹن سے نیویارک ہم درجنوں بار سفر کرچکے ہیں، وہ راستہ ہمارے لیے نیا نہیں تھا لیکن آج کی خبریں ہمیں بتا رہی تھیں کہ آج کا یہ سفر پچھلے کسی بھی سفر سے مختلف ہوسکتا ہے کیوں کہ آج امریکا میں’’سینڈی‘‘ آ رہی ہے۔ اس صدی کا سب سے بڑا Hurricane جس کے بارے میں آپ نے بھی یقیناً پچھلے ہفتے بار بار کئی بار سنا ہوگا۔

ہوٹل میں ہمارے سامنے چلنے والی ٹی وی کی خبریں بتارہی تھیں کئی بڑے نقصان ہونے والے ہیں۔ دو ہی دن میں ستر بلین کا معاشی نقصان،تیس بلین کے انشورنس کلیم، پچاسی میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہوا چلنے والی ہے جس سے درخت، گاڑیاں یہاں تک کہ لکڑی سے بنے گھر بھی اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ہر جگہ پانی ہی پانی ہوگا اور نیویارک کے اوپر پورٹ JFK پر جہاں دور دور تک کھلے میدان میں ایئرپورٹ بنا ہوا ہے وہاں بھی پانی پانچ سے دس فٹ تک بھرنے کا امکان ہے۔ امریکا کی ساری ہی نارتھ ایسٹ ریاستیں کیرولینا سے لے کر نیویارک تک متاثر ہوں گی۔ وہ سارا علاقہ جہاں سے گاڑی چلا کر ہم کو واپس نیویارک جانا تھا۔ایک دوست کو فون کیا جو نیویارک اسٹیٹ کے اس محکمے میں کام کرتا ہے جو ہری کین کے بارے میں تمام معلومات ٹی وی چینلز کو دے رہے تھے، پتہ چلا سینڈی ہری کین جس حساب سے سفر کر رہا ہے امریکا پہنچتے پہنچتے اسے شام کے ساتھ سے آٹھ بج جائیں گے جس کے بعد بہت زیادہ تباہی آسکتی ہے یعنی بجلی بند ہوجائے گی، سڑکوں پر ’’ٹول‘‘ بھی کام نہیں کریں گے اسی طرح پل بھی بند کردیے جائیں گے اور سڑکیں پانی میں ڈوب جائیں گی اور اس سب کو نارمل ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

ہم نے اپنے دوست سے پوچھا کیا سفر کرنا صحیح ہے؟ جواب ملا اگر تم نیویارک سات بجے سے پہلے پہنچ سکتے ہو تو صحیح ہے ورنہ اگر دیر کی تو خطرناک ہے اور اگلے پانچ چھ دن تک ہمیں سفر کرنا بھی نہیں۔ ہم طوفان کی حالت میں ایک انجان شہر کے ہوٹل کے کمرے میں پھنسنا نہیں چاہتے تھے اس لیے فون پر بات کرتے ہی گیارہ بجے فوراً ہی یہ حساب لگاکے کہ ہم سات بجے سے پہلے پہنچ جائیں گے نیویارک کے لیے سڑک پر نکل گئے۔ کہتے ہیں جب عقل پر پردہ پڑتا ہے کچھ نظر نہیں آتا اور وہی پردہ اس صبح ہماری عقل پر پڑا تھا جو ہم صدی کے سب سے بڑے ہری کین کو آتا نہیں دیکھ پائے اور چیک آئوٹ کرکے ہوٹل سے نکل پڑے اور ان اسٹیٹس کی طرف چل پڑے جہاں ایمرجنسی ڈکلیئر ہوتی تھی۔

باہر بارش تھی اور ہوا چل رہی تھی ’’ارے امریکا میں تو اسی طرح کا موسم روز ہوتا ہے اور اس موسم میں ہم درجنوں بار گاڑی چلاچکے ہیں اور گاڑی بھی آٹھ سلینڈر فور ویل ڈرائیو ہے اس لیے ڈرائیونگ میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہمارے دل نے ہمیں جھوٹا دلاسہ دیا۔ پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈلواتے وقت گاڑی میں لگے ٹی وی کو آن کیا تو سی این این پر گھبرائی ہوئی نیوز ریڈر پر ہنسی آئی یہ امریکنز چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑ بنالیتے ہیں صرف تھوڑی بہت ہوا ہی تو چل رہی ہے اس میں اتنا بڑا کیا مسئلہ ہوگیا؟ ہم نے اپنے دل کو پھر سمجھایا پیٹرول کی ٹنکی فل کی اور اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔

پہلے ایک گھنٹے سب صحیح تھا۔ یعنی بارش تو تھی لیکن عام سی بارش جس کی عادت سڑکوں، ٹائرز اور ہم کو کافی عرصے سے ہے لیکن جیسے ہی ہم ڈی سی سے ورجینا اسٹیٹ پہنچے بارش اور ہوائیں تیزی ہوگئیں اور بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے لگا ہم اپنی پینسٹھ میل فی گھنٹے کی رفتار تیس میل پر لے آئے، یہ ڈر بری عجیب کیفیت ہوتی ہے جو انسان کو وہ کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے جو وہ عام حالات میں بھی نہیں سوچتا۔

ہمیں ڈر لگ رہا تھا۔ پہلی بار ایسا ڈر جسے پہلے محسوس نہیں کیا تھا۔ زندگی کے کئی سالوں کے منصوبے اور تمنائیں صرف ایک امید کے سامنے سرجھکائے کھڑی تھیں کہ ہم کسی بھی طرح اس سنسان راہ سے نکل کر منزل تک پہنچ جائیں۔ چاروں طرف ویران راستہ اور واپس جانا بھی اتنا ہی مشکل جتنا آگے جانا۔ ایک لمبا سا پل جس کے دونوں طرف دریا اوپر سے دھواں دھار بارش اور تیس سے چالیس میل فی سیکنڈ چلتی بھیانک ہوائیں۔یہ خیال کہ کسی بھی لمحے یہ ہوا آپ کی گاڑی کو پانی کی اٹھتی لہروں میں دھکیل سکتی ہے عجیب ہوتا ہے۔ فون چل رہا ہے سارے شیشے گاڑی کے بند ہیں۔ پانی کی وجہ سے یہ سڑک پر سلپ تو نہیں ہو رہی کا خیال آپ کی پوری زندگی کو سمیٹ کر ان چند لمحوں میں رکھ دیتا ہے جن کے گزرتے آپ کو ہر گھڑی بہت قیمتی لگتی ہے۔

اگلے چھ گھنٹے میں ہماری سوچ صرف ایک زاویے پر چل رہی تھی کہ انسان زندگی کو کتنا معمولی سمجھتا ہے وہ زندگی جس کی اہمیت کا اندازہ آپ کو اس وقت ہوتا ہے جب پانی سر سے اوپر نکل جاتا ہے یا پھر ہماری صورت حال میں پانی سر سے اوپر نکلنے کی پوری کوشش میں ہو۔ زندگی بینک اکائونٹ کی طرح ہے جس میں ہمارا وقت وہ دولت ہے جو کسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ بہت سمجھ دار ہیں ہم سب ہی لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ چھوٹی چھوٹی مصیبتوں اور مشکلوں میں کبھی خود سے کبھی دنیا سے ناراض ہوکر اپنی سب سے قیمتی دولت دنیا میں ملے اس ’’وقت‘‘ کو ضایع کرتے رہتے ہیں اس خزانے کو بلا جھجک لٹاتے رہتے ہیں۔

زندگی کے کئی وہ واقعات آنکھوں کے سامنے گھوم گئے جب ہم نے بے کار میں بلاوجہ کی باتوں میں وقت گزارکر رنجیدہ ہوکر یہ خزانہ برباد کر دیا تھا۔ ایک بار اس طوفان سے نکل جائوں تو کبھی بیکار کی چھوٹی موٹی باتوں پر غصہ ہوکر ’’وقت‘‘ ضایع نہیں کروں گا یہی ہم خود کو ورجینا، میری لینڈ، ڈیلیور، نیو جرسی اور پھر نیویارک کے بقیہ راستے سمجھاتے رہے۔ سینڈی کو ہماری یہ تمنا شاید اچھی لگی اور اس نے اپنی اسپیڈ کچھ دیر کو دھیمی کر دی اور ہم نیویارک پہنچ گئے۔ سینڈی آئی اور بہت زور سے آئی اور کئی لوگوں کی زندگیوں کے نام و نشان منٹوں میں مٹا گئی ۔ زندگی سے پیار کریں اور یہ سمجھنے کے لیے کسی سینڈی کا انتظار نہ کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.