.

برما میں روہنگیا مسلم آبادی کی نسل کشی

پروفیسر شمیم اختر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برما میں ریاست اراکان کے آٹھ لاکھ باشندوں پر بدھ مت کے برمی حکمرانوں نے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے اور پولیس اور فوج کی معیت میں بدھ دہشت گرد انہیں قتل، ان کی عورتوں کی عصمت دری اور ان کے گھروں کو نذرِآتش کرتے رہے ہیں۔ جس کے باعث اسّی ہزار روہنگیا باشندے بے سروسامانی کی حالت میں خیموں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں جہاں اپنی زندگی کی سہولیات تو کجا قوت لایموت بھی میسر نہیں ہے۔ ان خیموں میں عورتوں، مردوں اور بوڑھوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھر دیا گیا ہے جس کے باعث وہ حوائج ضروری سے بھی محروم ہیں کیونکہ جائے تنگ و مردماں بسیار کے مصداق طہارت خانوں کے سامنے انہیں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جبکہ برما کے جلاد صفت حکمران بین الاقوامی راحت رسانی کے اداروں اور صحافیوں کو متاثرہ افراد تک رسائی نہیں دیتے۔ ان کے لئے جو خوراک فراہم کی جاتی ہے اس کا بیشتر حصہ برما کی حد درجہ بدعنوان انتظامیہ ہڑپ کر لیتی ہے جس کی وجہ سے پناہ گرینوں کی صحت گرتی جا رہی ہے جبکہ ناکافی غذا کے باعث وہ مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب انہیں ناکافی خوراک فراہم کی جاتی ہے تو بیماری میں مبتلا بچوں، حاملہ عورتوں، بوڑھوں کو طبی امداد بھی برائے نام فراہم کی جاتی ہے جبکہ ان پناہ گزیں خیموں کے منتظمین ادویات فروخت کر دیتے ہیں اور ان کی جگہ مریضوں کو جعلی ادویات فراہم کرتے ہیں۔

ابھی 28 جون میں ہونے والے فسادات کے پچھتر ہزار پناہ گزینوں کو درکار خیمے بھی پوری طرح تیار نہیں کئے گئے تھے کہ 21 اکتوبر کو جنونی بدھوں نے روہنگیا کی بستیوں پر پھر یلغار کر دی اور 112 افراد کو قتل اور دو ہزار گھروں کو نذرآتش کر دیا جبکہ 28 جون سے پھوٹنے والے فسادات میں رو ہنگیا برادری کے پانچ ہزار گھر جلا کر رکھ کر دیئے گئے تھے۔

برما کی انسان دشمن حکومت ان فسادات کی براہ راست ذمہ دار ہے کیونکہ غیرجانبدار ذرائع یعنی Human Rights Watch کے مطابق جب روہنگیا افراد اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے یا اپنے گھروں میں لگائی گئی آگ بجھا رہے تھے تو پولیس اور فوج ان پر گولیاں چلا رہی تھی۔ ریاستی دہشت گردی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟ اگر کسی مسلم ملک میں فوج اور پولیس غیرمسلم بالخصوص عیسائی اقلیت کے افراد پر گولیاں چلا رہی ہوتی تو سب سے پہلے تو ابرہہ ثانی (بارک اوباما) ، اس کے بعد اقوام متحدہ کا کوریا نژاد سیکرٹری جنرل بان کی مون آسمان سر پر اٹھا لیتالیکن جب مسلم آبادی کو یہودو ہنود و نصاری تاخت و تاراج کر رہے ہوتے ہیں تو اسے انسداد دہشت گردی قرار دے کر اس کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔

21 اکتوبر کو بھڑک اٹھنے والے فسادات میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 افراد ہلاک اور 129 زخمی ہوئے تھے لیکن غیرسرکاری ذرائع کے مطابق 112 روہنگیا موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ جب مار دھاڑ اور آتشزنی شروع ہوئی تو ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر کھلے سمندر روانہ ہو گئے، ایسے 135 افراد کشتی الٹ جانے سے سمندر میں ڈوب گئے جن میں سے 6 کو مچھیروں نے بچا لیا لیکن باقی اب تک لاپتہ ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ بنگلہ دیش میں سب رنگ نامی گاؤں میں پناہ گزیں تھے لیکن چونکہ بنگلہ دیش کی حکومت انہیں غیرقانونی افراد قرار دے کر یا تو ساحلوں سے سمندر میں دھکیل دیتی ہے یا زمینی سرحد پار دوبارہ بدھ دہشت گردوں کی طرف واپس بھیج دیتی ہے جس کے نتیجے میں یہ مصیبت زدہ مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے جان کا خطرہ مول لے کر کشتیوں میں سوار ہو کر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں اور اکثر سمندری لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔

مندرجہ بالا واقعہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ آخر یہ بنگلہ دیش کے گاؤں سب رنگ سے فرار ہو کر ملیشیا کیوں جا رہے تھے جبکہ بیشتر روہنگیا بنگالی نژاد اور بنگلہ بھاشابولتے ہیں لہٰذا مصیبت پڑنے پر انہیں بنگلہ دیش میں جانا چاہئے لیکن حسینہ واجد کی لامذہبی قوم پرست حکومت نے ان پر دروازے بند کر رکھے ہیں کیونکہ اس کا مؤقف ہے کہ وہ پہلے ہی تین لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں سے تنگ آئی ہوئی ہے جو وہاں پناہ گزیں بستیوں میں آباد ہیں لہٰذا وہ مزید پناہ گزینوں کا بار نہیں اٹھا سکتی۔ یہی نہیں بنگلہ دیش کی حکومت بین الاقوامی انجمنوں کو ان کی امداد کے لئے اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتی جبکہ بین الاقوامی قانون برائے پناہ گزیں کی رو سے کوئی ریاست فساد زدہ افراد کو پناہ کے لئے اپنی حدود میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتی لیکن جذبۂ اسلامی اخوت سے عاری قوم پرست حکومت قانونی، انسانی اور اخلاقی فرائض کی کھلی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہے۔ ذرا شریمتی حسینہ واجد یاد کریں کہ جب ان کے بابا پاکستان میں قید تھے تو فوجی کارروائی سے خوفزدہ ہو کر عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے رہنما لاکھوں بھولے بھالے بنگالیوں کو اپنے ساتھ بھارت کے صوبے بنگال لے گئے تھے جہاں ان کی آؤ بھگت کی گئی اور فوجی تربیت دے کر تخریب کاری کے لئے بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیا گیا۔ اس وقت سوویت یونین نے حکومتِ پاکستان کو مشرقی پاکستان سے لاکھوں بنگالیوں کے اخراج پر سخت مراسلے ارسال کئے تھے۔ حسینہ واجد کو کم از کم اپنی پارٹی کی بھارت یاترا اور اپنے ہم وطنوں کو شرنارتھی کیمپوں میں گزارے ہوئے دن یاد کر کے اپنی بھاشا بولنے والے افراد اور اپنے ہی رنگ روپ والے بھائیوں اور بہنوں کو بجائے موت کے منہ میں دھکیلنے کے انہیں باعزت طور پر پناہ لینے دیا ہوتا۔ بے شک اگرچہ بنگلہ دیش حکومت اتنی کنگال ہے کہ ان کا بار نہیں اٹھا سکتی تو مسلم ممالک ان کی کفالت کر سکتے تھے۔

روہنگیا مظلوموں پر اپنے ملک کے دروازے بند کر کے انہیں جنونی بدھوں کے حوالے کرنا ان کے ساتھ اتنا ہی بڑا ظلم ہے جتنا برما حکومت ان پر کر رہی ہے۔ اس کے برعکس افغانستان میں جنگ زدہ علاقوں سے پاکستان ہجرت کرنے والے 25 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزیں دو عشروں سے یہاں مقیم ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے باشندوں نے وہی سلوک کیا جو انصار مدینہ نے مکے سے آئے ہوئے مہاجرین کے ساتھ کیا تھا یہی نہیں آج تک بنگلہ دیش کے مفلوک الحال باشندوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی کے محلے کے محلے ان سے بھرے پڑے ہیں لیکن سوائے مشت بھر اسلام مخالف سیکولر عناصر کے کوئی ان کے اخراج کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اسی طرح برما ،بہار، گجرات کے فساد زدہ علاقوں کے متاثرین کی نگاہیں اگر کسی جائے پناہ کی طرف اٹھتی ہیں تو وہ پاکستان ہے کیونکہ:

گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے

ارشادِ نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے

جب برصغیر کی تقسیم کے وقت مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے تو بھارت کے ہر صوبے سے مصیبت زدہ مسلمان پاکستان آ کر آباد ہوئے جنہیں مقامی آبادی نے سر آنکھوں پر بٹھا دیا۔ یہ صرف اسلامی ریاست کا ہی ظرف ہے کہ وہ ہر پناہ گزیں کے لئے جائے پناہ بن جاتی ہے۔

برما کے صدر نے تو بالاعلان کہہ دیا کہ اراکان کے آٹھ لاکھ روہنگیا باشندوں کو برما شہری حقوق نہیں دے سکتا کیونکہ وہ یا ان کے آباؤ اجداد 1948ء میں برما کی آزادی کے بعد بنگلہ دیش سے آ کر بس گئے تھے لہٰذا وہ برما کے شہری نہیں ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کی اقلیتی امور کی ماہر Rita Isak نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا برما کی اقلیت ہیں لہٰذا ان کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق سلوک کیا جانا چاہئے بلکہ حکومت کو اپنے قوانین کا جائزہ لے کر روہنگیا کو برما کے شہری حقوق دینے چاہئیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ تنظیم برائے پناہ گزیں نے برما حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنائے، ساتھ ہی بنگلہ دیش سے بالخصوص اور برما کے ہمسایہ ممالک سے بالعموم روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے اپنی اپنی سرحدیں کھلی رکھنے کی درخواست کی ہے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ برما کے سخت گیر نسل پرست حکمرانوں پر خواہ وہ فوجی جنتا سے تعلق رکھتے ہوں یا آنگ ساں سوچی کی پارٹی سے اس کا کوئی اثر ہو گا کیونکہ وہ اتنے شقی القلب ہیں کہ جب 2001ء میں برما میں سیلاب آیا تو انہوں نے متاثرین کی جان بچانے کے لئے بین الاقوامی امدادی اداروں کی راحت رسائی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا اور خود بھی ڈوبتوں کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک لاکھ تیس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ برمی باشندے 9ویں صدی میں تبت سے اس ملک پر حملہ آور ہوئے اور مقامی باشندوں کا مکمل صفایا کر دیا اور جو بچ گئے وہ کوہستانی اور جنگلی علاقوں میں مورچہ بندی کر کے اپنی آزادی کے لئے برما کی حکومت سے جنگ کر رہے ہیں ان میں Karen اور Shan خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اگر عالمی تنظیم روہنگیا کی نسل کشی روکنا چاہتی ہے تو اراکان میں امن فوج تعینات کر دے.

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.