.

دو ریاستوں کی کہانی

عرفان حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شارجہ کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اسے کتابوں سے کوئی مناسبت نہیں ہو سکتی، مگر مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ عرب امارات کوئی تیس سال سے کتابوں کے سالانہ میلے کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سال چونکہ پاکستان موضوع تھا، اس لیے ایک وفد کو، جس مں یہ خاکسار بھی شامل تھا ، دعوت دی گئی۔ یہ نمائش بہت بڑے"ایکسپو سنٹر" میں منعقد ہوئی جس میں پچاس سے زائد ممالک کے ناشران کتب نے سٹال لگائے ہوئے تھے۔ ان میں عرب دنیا سے تعلق رکھنے والے پبلشرز کی تعداد زیادہ تھی مگر بھارتی ، پاکستانی،چینی اور یورپنی اشاعتی ادارے بھی معقول تعداد میں موجود تھے، چنانچہ اسے ایک عالمی نمائش قرار دیا جا سکتا ہے۔

شارجہ کے کتاب میلے کوریاست کے امیر جناب سلطان بن محمد القاسمی، جو ایک روشن خیال اور تعلیم یافتہ حکمران ہیں اور اپنی ریاست میں تعلیم اور ثقافت کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں، کی سرپرتی حاصل ہے۔ انہی کی کاوش سے "امریکن یونیورسٹی آف شارجہ" کا قیام عمل میں آیا۔ مجھے دوعت دی گئی کہ میں اس عظیم الشان یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ سے اپنی کتاب “Fatal Faultlines ” پر بات کروں۔ اسے عرب دنیا کی بہترین یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے ، اس لئے اس میں اساتذہ بھی یقیناً عالمی معیار کے ہوں گے۔

ایک سینئر فیکلٹی ممبر نے مجھے بتایا کہ القاسمی صاحب نے خود اس کیمپس کے بہت سے حصوں کو ڈیزائن کیا۔ میں یہ بات محسوس کر سکتا تھا کیونکہ اس عمارت کے عالی شان گنبد اور پتھر کی بڑی بڑی ٹائلیں مجھے الف لیلیِ کے مناظر پیش کرتی دکھائی دیتی تھیں۔ اس عظیم عمارت کی صفائی اور ائیرکنڈیشننگ نظام پر یقیناً ریاست کے کثیر وسائل صرف ہوئے ہوں گے۔ یہاں تعلیم کا معیار بھی بہت اچھا ہے اور جن طلبہ سے مجھے بات کرنے کا اتفاق ہوا وہ نہایت ذہین اور با خبر تھے۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں پڑھانے والے تمام اساتذہ امریکی تھے۔ طلبہ کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، جو روایتی عرب معاشرے کا حصہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اس ادارے کو معرض وجودمیں آئے ہوئے صرف پندرہ سال ہوئے ہیں مگر اس قلیل عرصے میں اس نے تعلیم یافتہ اور روشن خیال افراد کی ایک نسل تیار کردی ہے۔

"شارجہ کتب میلہ" دو ہفتے جاری رہا۔ میں صرف چار دن اس میں شرکت کر سکا۔ ایکسپو سنٹر میں لوگوں کا ہجوم دیکح کر میں بے حد متاثر ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ سال اس ملے میں شرکاء کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی اور میرا اندازہ ہے کہ اس سال یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ مجھے کہا گیا کہ میں صحافیوں کے ایک پینل کے ساتھ گفتگو میں شرکت کروں ۔ موضوع" صحافت میں ثقافتی رپورٹنگ" تھا جس نے مجھے قدرے پریشان کر دیا؛ تاہم بعد میں پتہ چلا کہ متحدہ عرب امارات میں کالم نویسوں کو اپنے مدیروں سے شکایت ہے کہ وہ کلچر پر لکھے گئے مضامین کو بہت کم جگہ اور اہمیت دیتے ہیں۔ اس پر میں نے اپنی رائے دی کہ کلچر کو ملک کے معروضی حالات اور سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہوتا ہے۔

کئی برسوں تک میں شارجہ کو دوبئی کا مضافاتی علاقہ ہی سمجھتا رہا مگر یہاں چند دن گذار کر محسوس ہوا کہ یہ دونوں ریاستیں گئی اہم حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ دوبئی کو مارکیٹ اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا انفراسٹرکچر بہت ارفع ہے، وہاں آپ کو فلک بوس عمارتیں، ہائی ویزم فلائی اوور اور ریل کا جدید نظام دکھائی دے گا۔ حالیہ کساد بازاری کی وجہ سے بہت سی عمارتیں نامکمل رہ گئی ہیں۔ دوبئی میں کشادہ سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بہت تیز ہے جبکہ شارجہ کی سڑکیں نسبتاً تنگ ہیں اور وہاں اکثر ٹریفک جام ہو جاتی ہے، خصوصاً دبئی میں کام کرنے کے لیے جانے والے جب سہ پہ ر کو والپس لوٹتے ہیں۔ شارجہ میں رہائشی عمارتوں کے کرائے کم ہیں؛ چنانچہ دوسرے ممالک سے تعلقات رکھنے والے جو مختلف امارات میں کام کرتے ہیں، ان کی رہائش شارجہ میں ہوتی ہے۔ ان دوریاستاں میں صرف انفراسڑرکچر کا ہی فرق نہیں بلکہ یہاں حکمران خاندانوں کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ شارجہ میں زندگی آہستہ آہستہ اور پرسکون ہے، یہاں روایتی قدروں کے جھلک ملتی ہے۔ دبئی میں گلیمر اور جدت نمایاں ہے۔ایک اور فرق بھی ہے کہ دبئی میں غیر ملکی آسانی سے اپنا حلق تر کرسکتے ہیں جبکہ شارجہ میں اس کا کوئی اہتمام نہیں۔

یہاں باصلاحیت نوجوان پاکستانی مصنفین سے ملنا خوشگوار تجربہ تھا، خاص طور پر دو فوٹو گرافرز، ٹیپو جویری اور عارف محمود سے مل کر خوشی ہوئی۔ پاکستانی مصنفین میں محمد حنیف، رضا رومی، ندیم عالم، سلمان احمد، مشرف علی فاروقی اور ایچ ایم نقی شامل تھے۔ پاکستانی شعرا میں سے فہمیدہ ریاض اور افضال احمد سید یہاں موجود تھے۔ ایک بھارتی مصنف پنکھج مشرا نے رضا رومی سے اپنی ایک نئی کتاب پر بات کی۔ افسوس، مجھے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے جلد واپس آنا پڑا، اس لئے اگلے دن ہونے والی گفتگو سننے سے مروم رہا۔ مجھے ابو ظہیبی آرٹ فیئر میں شرکت کے لیے بھی جانا تھا۔ یہاں بہت سے عرب فنکار اپنی تخلیقات کی نمائش کر رہے تھے ۔ ان کے خیالات قابل ستائش تھے۔

شارجہ کتب میلے کی سب سے اہم شخصیت ارون دھتی رائے تھیں جو مشہور بھارتی ناول نگار ہیں۔ انہوں نے بھارت کے مظلوم عوام کے لیے طویل جد و جہد کی ہے۔ انہوں نے کشمیریوں، مارکسی نظریات رکھنے والوں اور ریاستی جبر کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ بہت وقت گزارا اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ اپنی مشہور کتاب “The God of Small Things”سے کچھ صفحات پڑھتے ہوئے انہوں نے ہال میں موجود شرکاء کو نے حد متاثر کیا۔ حاضرین میں بھارتی کونسل جنرل بھی موجود تھے مگر انہوں نے بے تکے انداذ میں مداخلت کی اور سوالات کیے۔ میرا خیال ہے وہ اپنی سرکاری رپورٹ کو بہتر کرنے کو کوشش کر رہے ہو گے۔ اس موقع پر مس ارون دھتی رائے بہت تلخ سے جواب دے سکتی تھیں مگر وہ شائستگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے چپ رہیں ۔ ان کی گفتگو کا مرکزی خیال بھارت کی معاشی ترقی اور غریب عوام پر اس کا اثر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ بھارت میں خوشحالی تو آرہی ہے مگر امیر غریب کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں۔ آخر میں، میں السا بٹ ھالٹ اور فرید علوی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس موقع پر اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.