.

دو قومی نظریے پر قائم ہونے والا ایک اور ملک

اوریا مقبول جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
رمضان کا مہینہ تھا۔ میں وطن سے دور ایک ایسے شہر میں تھا جہاں شام ہوتے ہی قحبہ گری کے بازار کھل جاتے، رقص و سرود کی محفلیں سج جاتیں اور ہر جانب دنیا بھر کے امیر اور عیاش سیاح، کم سن لڑکیوں کو ساتھ لئے گھومتے نظر آتے۔ یہ منظر تھا منیلا کا۔ میں 1999 ء میں رمضان کے آخری عشرے میں وہاں پہنچا۔ ایشیائی ترقیاتی بنک میں امریکہ کی ریاست ایری زونا کے نو مسلم ڈیوڈ بوگس کے گھر پہلی افطاری کی اور پھر میرے وہاں آنے کی خبر شہر میں موجود تھوڑے سے مسلمان گھرانوں تک جا پہنچی۔ مہمان کا روزہ کھلوانا ان کے نزدیک بہت بڑی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ یوں میری سحری اور افطاری کا بصد شوق اہتمام ہونے لگا۔ افطاری کے بعد مغرب کی نماز ہوتی۔ ان کے ہاں ایک روایت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ امام کے مصلے پر مہمان کو کھڑا کر دیا جاتا ہے اور سب اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہیں۔ نہ کسی فرقے کی پروا اور نہ کسی مسلک کا اختلاف۔

فلپائن کی سر زمین پر 1380 عیسوی میں کریم المخدوم نے قدم رکھا۔ وہ ایک عرب تاجر تھا۔ اس کے کردار اور حسن سلوک سے لوگ اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کرنے لگے۔ یوں مندناو کے علاقے میں پہلی مسجد بنائی گئی جسے شیخ کریم المخدوم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان تاجر، علما اور صوفیا وہاں آنا شروع ہوئے اور شریف محمد کینگو سوان کی قیادت میں وہاں اسلامی ریاست قائم ہو گئی۔ یہ ریاست مدتوں قائم رہی۔ سیمونل، مند ناو اور سولو کے جزائر بھی اس کے زیر اثر آ گئے۔ پندھرویں اور سولہویں صدی عیسوی تک اسلام کی کرنیں فلپائن کے طول و عرض میں پھیلنے لگیں۔ 1565 میں چند مسلمانوں کی منیلا آمد کی برکت سے کچھ کوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ چونکہ اس علاقے میں اسپین کے حکمران 1541ء میں قبضہ جما چکے تھے اس لئے انہوں نے مسلمانوں پر سخت تشدد کیا اور انہیں منیلا سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد فلپائن کی تاریخ بدترین غلامی کی ایک تاریخ ہے۔ ایک ایسی غلامی جس میں تشدد، قتل و غارت، آبروریزی اور نسل کشی تک سب کچھ ملتا ہے۔

دنیا اس قتل و غارت کی تاریخ بہت کم بیان کرتی ہے۔ لیکن فلپائن کے عظیم شاعر، ناول نگار اور فلسفی رزال کی کتابیں ایک ایک ظلم کی گواہی دیتی ہیں۔ سمندر کے کنارے موجود جیل خانے میں جب میں داخل ہوا تو تنگ و تاریک راستہ اس زیر زمین کوٹھری کی طرف لے جاتا تھا، جس میں اس شخص نے کئی سال گزارے اور اس نے اپنی مشہور تحریر صفحہ قرطاس پر منتقل کی۔ اس کی والدہ کو روزانہ کھانا لانے کی اجازت تھی۔ وہ رات کو کوٹھری میں روشنی کے لیے ایک لیمپ میں تیل ڈال کر لاتی۔ ماں نے اس لیمپ کے اندر ایک خانہ سا بنا رکھا تھا جس میں چند کاغذات اور قلم دوات رکھ دیتی۔ رزال ساری رات لکھتا اور لیمپ میں رکھ کر واپس کر دیتا۔ ماں دوسرا لیمپ لاتی اور پہلے والا لے جاتی۔ یوں اس کی تحریریں منظر عام پر آئیں۔ جیل خانے کے باہر سے میں نے ایک سٹال سے میں نے وہ کتاب خریدی اور پھر اپنے ہوٹل کے راستے، لفٹ اور دروازہ کھولنے تک میں اس کتاب سے نظر نہ اٹھا سکا۔ اندھوں کی طرح تالا کھولا اور کتاب میں غرق ہو گیا۔ کتاب کیا ہے، ہسپانوی عیسائیوں کے ظلم و تشدد کا ایک ہیبت ناک باب جسے پڑھ کر غرناطہ کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔

آج منیلا میں آپ کو ہر سڑک اور گلی کا نام کسی عیسائی راہب یا سینٹ کے نام پر ملے گا۔ یہ نام اور عیسائیت کا غلبہ لاکھوں فلپائنی عوام کو قتل کر کے اور بدترین تشدد سے حاصل کیا گیا۔ لیکن دوسری جانب مندناو کے دور دراز علاقوں میں مسلمان، سپین کے ان ظالم حکمرانوں سے علیحدہ رہ کر اپنے مذہب کی اساس کو بچانے میں مصروف رہے۔ مسلمانوں کو فلپائن میں "مورو" کہا جاتا ہے۔ آج کے دور کا سیکولر میڈیا بھی انہیں مورو قبائل لکھتا ہے تاکہ معلوم نہ ہو سکے کہ کبھی اس ملک میں مسلمانوں نے جدوجہد آزادی کی داستان رقم کی تھی۔ ان کا نام "مورو" ہسپانوی حکمرانوں نے رکھا، اس لئے کہ وہ سپین میں حکومت کرنے والے مسلمانوں کو مورز کہتے تھے اور آج بھی مغرب کی تمام تحریروں میں انہیں اسی نام سے لکھا جاتا ہے، تاکہ کہیں اسلام کی درخشاں تاریخ سے لوگ واقف نہ ہو جائیں۔ تین سو سالہ ہسپانوی اقتدار کے بعد برطانیہ اور سپین کی قبضے کی جنگ شروع ہوئی اور پھر 1898ء میں امریکہ فلپائن کے عوام کو سپین سے آزادی دلانے آیا۔ امریکہ جس بھی ملک میں گیا اس ملک کو ایک قحبہ خانے میں تبدیل کردیا۔ امریکی فوج کی ایک پوری یونٹ فلپائن کے مختلف علاقوں سے کمسن بچیوں کو لے کر آتی اور منیلا کے بازاروں میں فوجیوں کے تعیش کے لیے لا بٹھاتی۔ آج مکاتی، پاسک اور میٹرو منیلا میں سرشام گناہ کی یہ زندگی شروع ہو جاتی ہے۔

اس شہر میں رمضان گزارنا میرے لیے ایک عجیب تجربہ تھا، اس ماحول میں فلپائن کے مسلمانوں کے حسن سلوک میں وہ جادو تھا کہ میں حیران رہ گیا۔ یہ سب لوگ اپنے علاقے کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔ جو چند منیلا میں موجود تھے وہ چھپتے پھرتے تھے۔ نماز تک گھروں میں ادا کرتے۔ ان میں سے ایک ایسے شخص سے میری ملاقات ہوئی جو مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے قائدین میں سے تھا اور ان دنوں فلپائن کی حکومت خفیہ طور پر جن سے مذاکرات کر رہی تھی، وہ ان شامل تھا۔ زخموں سے بھرا ہوا اس کا جسم لیکن بے داغ روح۔ مورو لبریشن فرنٹ 1977ء میں قائم ہوا جسے وہاں کے عالم دین ہاشم سلامت کی سربراہی میسر آئی۔

اسلام کے اس مجاہد نے پوری دنیا میں فلپائن کے مظلوم مسلمانوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے سفر شروع کیا۔ وہ مملکت خداداد پاکستان بھی آئے۔ دو قومی نظریے پر بننے والے پاکستان میں اس مجاہد کی آمد خبر نہ بن سکی۔ صرف جماعت اسلامی کے چند کارکنان اس کی بصیرت سے مستفید ہو سکے۔ 1977 میں آزادی کی اس جدوجہد کا آغاز ہوا اور عالمی برادری نے اپنی طاقت ان مسلمانوں کو کچلنے پر لگا دی۔ الزامات وہی جو سکہ رائج الوقت ہیں۔ یہ دہشت گرد ہیں، ظلم ہیں، لوگوں کا چین اور سکون چھیننا چاہتے ہیں، قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ یہ سب القاعدہ کے ساتھی ہیں۔ ابو سیاف گروپ کا نام اقوام متحدہ تک گونجا۔ لیکن فلپائن کی حکومت کو علم تھا کہ یہ عالمی غنڈے اس خطے کے وسائل پر قبضہ کرنے کی چال چل رہے ہیں۔

حکمران با غیرت تھے اور وہاں کے لکھنے والے بھی بکے ہوئے نہیں تھے جو 35 سال کی اس جدوجہد کو القاعدہ کہہ کر جھوٹ کے زور پر اسے شکست دیتے۔ اسس سیاسی اور مسلح جوجہد میں ایک لاکھ بیس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ ان کی یہ قربانی تھی کہ 12 اکتوبر 2012ء کو مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور فلپائن کی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت مسلمانوں کے پانچ صوبوں کے علاقے باسلان، کوٹاباٹو، دواوڈیل سور، سلطان قدرت، تاوی، سولو، داوی، دیولوگ اور وتیان پر مشتمل ایک اسلامی ریاست قائم کی جائے گی۔ اس اسلامی ریاست کا نام "بنگسا مورو" رکھا گیا ہے بنگسا فلپائنی زبان میں گھر کو کہتے ہیں اور مورو مسلمانوں کو۔ یوں اس ملک اس کا نام "مسلمانوں کا گھر" ہو گا۔

دنیا کے نقشے پر ایک اور ملک ابھر رہا ہے جس کی بنیاد دو قومی نظریے پر ہے۔ ان مسلمانوں میں کوئی عرب، عراقی یا ایرانی نہیں، سب وہاں کے رہنے والے ہیں۔ انہیں کسی بابر، غزنوی یا غوری کی فتوحات کے نتیجے میں اسلام کی نعمت نہیں ملی بلکہ چند مسلمان تاجروں نے ان تک اپنے کردار کی عظمت سے دین پہنچایا۔ لیکن کمال ہے کہ یہ لوگ جو پر امن راستے سے مسلمان ہوئے انہیں اسلام کی بقا اور آزادی کے لئے جہاد کرنا پڑا اور ایک لاکھ بیس ہزار شہداء کے خون کا نظرانہ بھی دینا پڑا۔ ایک اور صبح کا آغاز۔ دنیا کی وہ ازلی تقسیم جو میرے اللہ نے قائم کی کہ اس دنیا میں صرف دو گروہ ہیں۔ ایک حزب اللہ [اللہ کے دھڑے کے لوگ] اور حزب الشیاطین [شیاطین کے دھڑے کے لوگ] ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر اس دو قومی نظریہ کا اعلان ایک مسلم قوم اپنے خون سے تحریر کرنے جا رہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.