.

امریکی صدارتی انتخاب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پچھلے دو تین ماہ سے پوری دنیا کی نگاہیں امریکی انتخاب کی آمد پر اور صدر اوباما اور ان کے ری پبلکن مخالف مٹ رومنی پر لگی ہوئی تھیں اور ان کے بیانات اور پالیسیوں کا تجزیہ کیا جا رہا تھا۔ جوں جوں الیکشن کا دن 6 نومبر آنے لگا سیاست میں گرمی آتی گئی، دونوں امیدوار پورے ملک کا دورہ کرنے لگے اور عوام کو اپنی حمایت پر اکساتے رہے پھر اچانک قدرتی آفت و عتاب سینڈی نامی طوفان کی شکل میں نمودار ہوا اور اس نے تباہی مچادی، عوامی ہلاکتیں تو کم ہوئیں لیکن معاشی نقصان کا تخمینہ 50/ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا۔

طوفان کی آمد اور خطرے سے پہلے بروقت خبردار کرنے سے انسانی ہلاکتیں بہت کم ہوئیں۔ اگر ایسا طوفان ہمارے ساحلی علاقوں میں آتا تو یقینا لاکھ دو لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے جیسا کہ ہر سال سابقہ مشرقی پاکستان میں حکومت کی بے حسی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ وفاقی حکومت صرف افسوس و ہمدردی کے الفاظ کے علاوہ عملی اقدامات نہیں کرتی تھی۔ رومنی اور اوباما میں مباحثہ بھی دکھائے گئے اور عوام یا تجزیہ نگاروں نے رومنی کو کم و بیش فاتح قرار دیا۔

الیکشن ہوئے اور درمیانی وقفہ تک اور گنتی تک رومنی کو کچھ برتری حاصل تھی مگر بعد میں حالات بدل گئے اور اوباما بآسانی اچھی اکثریت سے جیت گئے۔ ہمارے ٹی وی اینکر پرسنز کی لاٹری نکل آئی اور کئی امریکہ کی سیر کرنے اور ہمیں حالات سے باخبر کرنے وہاں پہنچ گئے۔ تھوڑی بہت گرما گرمی اب اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ صدر اوباما اپنی نئی ٹیم کا اعلان نہ کردیں۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ اس بار سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن اس ٹیم کا حصہ نہ بنیں گی، وہ غالباً چار سال بعد والے الیکشن میں اوباما کی باقیات کی حیثیت سے حصہ لینے سے گریز کرنا چاہتی ہیں۔

صدر اوباما کی دوبارہ کامیابی کے بعد نہ صرف بیرونِ ملک بلکہ ہمارے ملک میں بھی زور شور سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ بہت سے لوگ دوبارہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جس کا وہ پہلی مرتبہ شکار ہوگئے تھے یعنی انہوں نے پھر اوباما سے غیر متوقع امیدیں وابستہ کرنی شروع کردی ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اوباما نے الیکشن کے بعد جامعة الازہر مصر میں ایک تقریر کی تھی اور اس کے بعد انقرہ میں بھی تقریر کی تھی، دونوں کا لب لُباب یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی شکایت کا ازالہ کریں گے، فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کریں گے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائیں گے، عراق سے تمام امریکی واپس بلالیں گے، افغانستان کی جنگ ختم کردیں گے اور سب سے بڑھ کر بدنام زمانہ گوانتانامو بے قید خانہ بند کردیں گے جہاں بے گناہ قیدیوں کو نہایت ہی تکلیف دہ اذیتیں دی جاتی ہیں۔ تمام مسلمان یہ سمجھے کہ ایک سیاہ فام (ایک مسلمان کی اولاد) اب ایک متوازن پالیسی اختیار کرے گا اور مسلمانوں کی جائز شکایات کا ازالہ کرے گا۔ سب سے پہلے اس نے پاکستان، افغانستان، ہندوستان کے لئے جو نمائندہ تعینات کیا اس کو ہندوستان کے دباؤ میں فوراً ہندوستان کا نام خارج کردیا۔ چار سال کے بعد نظر ڈالئے تو یہ تمام وعدے کم و بیش جھوٹے ثابت ہوئے۔

گوانتاناموبے اپنی بین الاقوامی بدنامی کے باوجود جوں کا توں قائم ہے۔ عراق میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔ افغانستان میں قتل عام جاری ہے، پاکستان ، صومالیہ اور یمن میں ڈرون حملے جاری ہیں اور لاتعداد بیگناہ افراد قتل کئے جارہے ہیں، غزّہ کا محاصرہ جاری ہے اور مغربی کنارے کے 40 فیصد رقبہ پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور چند سال میں پورا مغربی کنارا اسرائیل بن جائے گا، مشرقی بیت المقدس پر قبضہ جاری ہے اور یہ تمام جارحانہ پالیسی امریکی پالیسی اور حمایت سے جاری ہے۔ اسرائیل کو ایٹمی قوت بنا کر اور مہلک ہتھیاروں سے لیس کرکے اس کی اتنی ہمت افزائی کردی ہے کہ وہ ہٹلر کے نازی جرمنی کی طرح دہشت گردی اور قتل عام میں مشغول ہے۔ فلسطینی ریاست میٹھی گولی کے بجائے کڑوا لیمو بن گئی ہے۔ اسرائیل کتنے ہی گھناؤنے جرم کرے اور اگر یو این میں معمولی سی مذمتی قرارداد بھی پیش کی جائے تو امریکہ فوراً ویٹو کردیتا ہے۔ فلسطین کے لئے مسلمان دشمن نو مولود عیسائی ٹونی بلےئرکو نمائندہ بنایا گیا اور اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ پور ا مغربی کنارا، مشرقی بیت المقدس پوری طرح اسرائیل بن جائے اور فلسطینی کبھی اپنی علیحدہ ریاست قائم نہ کر سکیں۔ میں نے ان تمام باتوں کی پیشگوئی اپنے ایک 24 جون 2009ء کے جنگ کے کالم بعنوان ”میٹھی گولیاں۔کڑوے لیمو“ میں کی تھی۔

دیکھئے جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے رومنی نے مباحثوں میں اوباما کی پالیسیوں سے کوئی خاص اختلاف نہیں کیا، اختلافات اندرونی معاملات کے حل کرنے کے طریقہ کار پر تھے۔ ووٹروں نے دیکھا کہ ایک سیاہ فام، کمزور صدر سفید فام طاقتور دائیں بنیاد پرست اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت بآسانی مانے گا اور اسرائیل طاقتور لابی نے بھی ان کو اپنا طاقتور اتحادی سمجھ کر مدد دی۔ اگر آئندہ الیکشن میں ری پبلکن پارٹی ایک طاقتور امیدوار نہیں لائی جو مختلف پالیسی پیش کرسکے تو پھر ڈیموکریٹس ہی میدان مارلیں گے۔ میں نے اس کالم میں لکھا تھا کہ جب بھی آپ اوباما کو کسی میٹنگ میں دیکھیں گے تو وہ تن تنہا سیاہ فام سفید فاموں کے درمیان ہوگا گویا تمام بینا لوگوں میں ایک اندھا۔ میں اپنے پاکستانی امریکی نواز دوستوں کو یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ آئندہ چار سال میں بھی اوباما سے کسی پاکستان نواز پالیسی کی امید نہ رکھیں۔ یہی پالیسی جاری رہے گی اور مشرف ان کی غلامی کا جو تحفہ آپ کو دے گیا ہے آپ اس سے ہر گز باہر نہ نکل سکیں گے۔ مغربی ممالک اور امریکی حکومت کی پوری کوشش یہی رہے گی کہ موجودہ غلام ذہنیت والے حکمراں ہمارے اوپر مسلط رہیں، ان کے احکامات کی تعمیل کریں، خودمختاری کی پامالی قبول کرتے رہیں اور ایک کالونی کا رول ادا کرتے رہیں۔ امریکہ سے کچھ امید وابستہ کرنا ایک سراب ثابت ہوگا۔

دیکھئے اوباما رہے یا رومنی آتا، ہمیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ شیخ سعدی نے ایسے ہی واقعات پر کہا تھا۔ ”مارا چیں اَزیں قصّہ کہ گاؤ آمد و خر رفت“ (یعنی ہمیں اس سے کیا غرض کہ بیل آیا اور گدھا چلا گیا یعنی کسی کے آنے جانے سے بے پروائی کا اظہار مقصود ہو یہ ضرب المثل استعمال کرتے ہیں)۔ جہاں تک امریکی الیکشن یا صدر کا انتخاب ہے ہمارے لیڈروں پر یہ شعر ہی غالب آتا ہے:

نہ کوئی اپنا قصہ ہے نہ کوئی داستاں اپنی

انہیں کے واسطے گویا دہن میں ہے زباں اپنی

امریکی الیکشن پر اور صدر اوباما کی دوبارہ کامیابی پر دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک میں لاتعداد آرٹیکل اور تبصرے لکھے گئے ہیں اور ہر تجزیہ نگار نے اپنی عقل و فہم کے مطابق اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے اور نتائج اخذ کئے ہیں۔

میں نے بھی اپنے اخبارات، نیوز ویک، ٹائم میگزین، انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبون وغیرہ میں طویل مضامین کا مطالعہ کیا لیکن جو مضمون یا تجزیہ مجھے بہت پسند آیا وہ رچرڈ فالک کا تھا جو انہوں نے بعنوان ”اوباما کی فتح کی تشریح“ تحریر کیا۔ مضمون نگار کا کہا ہے کہ لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا کہ الیکشن میں اوباما کو واضح برتری مل گئی وہ اس وجہ سے ٹھنڈی سانس لے سکے کہ رومنی ہار گئے اس وجہ سے نہیں کہ اوباما جیت گئے۔ رچرڈ فالک نے بتایا کہ اوباما کی چار سالہ حکومت نے کوئی بھی قابل فخر کام انجام نہیں دیا بلکہ افغانستان میں فوج کی تعداد بڑھانا ایک مکمل ناکام تجربہ تھا۔ رچرڈ فالک کو خطرہ ہے کہ اوباما کے ماتحت انتہا پسند یا قدامت پسند دائیں جانب کے افسران جن کی پینٹاگون میں اکثریت ہے یقینا جلد ہی کسی غیر مغربی ملک میں فوجی جارحیت شروع کرادیں گے اور مذاکرات کے بجائے سخت جارحانہ پالیسی کو ترجیح دیں گے۔

رچرڈ فالک نے نہایت متنازع، غیر قانونی اور غیر اخلاقی دہشت گردی یعنی ڈرون حملوں کا بھی سختی سے ذکر کیا ہے۔ اس نے صاف صاف بتایا ہے کہ یہ کھلی جارحیت، غیر قانونی ہے اور پینٹاگون نے اس بات کو ایک سرکاری پالیسی بنالیا ہے کے بجائے مذاکرات کے قوت کا استعمال کرو اور بین الاقوامی قوانین کو قطعی طور پر نظر انداز کرکے ڈرون حملوں کی تعداد اور قوت بڑھا کر بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے بے گناہ عوام کو قتل کرو اور ان کے بدن کی دھجیاں اُڑا دو۔ انہوں نے اوباما پر جائز تنقید کی کہ انہوں نے بش کے زمانے میں کئے گئے غیر قانونی سنگین جرائم کی کوئی تحقیقات نہیں کرائی اور مجرموں کی نشاندہی نہیں کی۔ عراق اور افغانستان میں کئے گئے سنگین جرائم (جو بین الاقوامی قوانین کے بالکل خلاف تھے) کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا اور اگر کوئی خبر نکلی تو بجائے مجرم کو سزا دینے کے یہ خبر افشا کرنے والے کو سزا دینے کی تگ و دو کی گئی۔ مختصراً رچرڈ فالک نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں یہ راز فاش کردیا کہ ایسے ملک میں یا ایسے دور میں جہاں سرکاری راز اس قدر جوش و سرگرمی سے پوشیدہ رکھے جائیں اور انسانیت کے خلاف جرائم کو جوابدہی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ ملک اخلاقی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔

صدر اوباما کے پچھلے نعرے ”تبدیلی، ہم اس پر یقین رکھتے ہیں“ کی طرح نئے وعدے کھوکھلے ثابت ہوں گے اور ان کی حیثیت ایک ڈوری سے چلانے والی پتلی یعنی "Puppet on a string" سے مختلف نہ ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.