.

قدرتی وسائل کے لٹیرے

مریم گیلانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کچھ عرصے کی بات ہے، افریقی ممالک سے حاصل ہونے والے ہیروں کے حوالے سے عالمی سطح پر بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ اس حوالے سے بحث بھی رہتی تھی۔ ان ہیروں کے مختلف نام رکھے گئے۔ کبھی انہیں خونی ہیرے کہا گیا اور کبھی ان کے استعمال کے حوالے سے پیچیدہ کہانیاں سنائی گئیں۔ ان کے مسلسل ذکر نے مجھے بھی اس جانب متوجہ کیا اور میں نے اس حوالے سے حتی المقدور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جن افریقی ممالک میں ہیروں کی کانیں دریافت ہوئیں ان میں سے کسی نہ کسی طرح بعد میں خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں اچھے اچھے ملک تباہ ہو گئے۔

بین الاقوامی میڈیا میں شور ہوا کہ ان کانوں سے نکالے گئے ہیرے فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم جنگ کیلئے اسلحہ خریدنے پر صرف کی جا رہی ہے۔ بات بالکل درست تھی اور اس پر لے دے بھی ہوئی۔ اس حوالے سے جنگوں میں شریک مقامی لیڈروں کے کئی معاملات بھی سامنے آتے رہے جو باعث تشویش رہے۔ ان اندرونی جنگوں میں ہونے والے مظالم دنیا کے سامنے آئے اور انہیں موضوع بنا کر ہالی وڈ نے فلمیں بنائی۔ ان میں دکھایا گیا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اغوا کر کے آزادی کی تحریکوں کا حصہ بنایا جاتا ہے اور انہیں سفاکی سے قتل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ کئی بین الاقوامی جریدوں میں ان بچوں کی نفسیاتی کیفیات کے حوالے سے مضامین چھپتے رہے۔ تیرہ سے پندرہ سال عمر کے بچے جو کئی کئی قتل کر چکے تھے، انہیں امن اور سکون کی تلاش تھی۔ ساری دنیا ان جنگوں پر برہم تھی۔ جنگ زدہ افریقی ممالک کو بڑے پیمانے پر امداد بھی دی گئی لیکن اس سے کو ئی فرق نہ پڑا۔ کانیں بیش قیمت ہیرے اور پتھر اگلتی رہیں جنہیں بیچ کر بین الاقوامی منڈی سے ہتھیا خریدے جاتے رہے۔ جنگ اب بھی جاری ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب تک جاری رہے گی۔ اس کہانی کا ایک پہلو جس پر بہت کم لوگوں نے بات کی اور جسے نہایت خوش اسلوبی سے دبا دیا گیا، یہ ہے کہ جن افریقی ممالک میں ہیروں کی کانیں دریافت ہوئیں ان کے باشندے ان ہیروں کی قدرو قیمت سے پوری طرح سے آگاہ نہیں تھے۔ وہ اسے ایک چمکتا ہوا پتھر سمجھ کر حیران ہوتے تھے۔ اس سے زیادہ کچھ نہ جانتے تھے۔

شروع میں یہ ہیرے کان کنی کے نتیجے میں نہیں ملے تھے بلکہ ندی نالے کی تہہ میں چمکتے دکھائی دیئے اور انسان کی جبلت میں موجود تجسس کے باعث اٹھا لئے گئے۔ دھیرے دھیرے ان ہیروں کی خبر ان لوگوں تک پہنچی جو ان کی قدروقیمت سے بخوبی آگاہ تھے اور جب جانچ پرکھ کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ ہیرے اعلیٰ قسم کے ہیں تو ان کے بڑے بیوپاریوں نے افریقی ممالک میں قدم رکھا۔ ہر ملک میں خصوصا ڈیبیئرز کمپنی کی آمد کے نشان تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ جب تک یہ کمپنی ان ملکوں سے مالیاتی فوائد حاصل کرتی رہی اس وقت تک وہاں امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ جب مقامی لوگوں کو یہ شعور آیا کہ اس دولت پر صرف انہی کا تصرف ہونا چاہئیے تو انہوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیئے۔ اس سے نہ صرف ان کیلئے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے بلکہ یہ بھی پروپیگنڈا ہونے لگا کہ انہیں عالمی منڈی میں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم سے خانہ جنگی کیلئے اسلحہ خریدا جاتا ہے۔

یہ خانہ جنگی ان گنت معصوم بچوں کی جان لے چکی ہے اور یہ خونی سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس پورے معاملے سے نمٹنے اور مزید بچوں کو جنگ میں جھونکنے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس آمدنی کو روکا جائے جو ہیروں کی تجارت سے مقامی سرداروں کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ دراصل ان ملکوں میں خانہ جنگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ان ملکوں کے وسائل پر ڈیبیئرز کی اجارہ داری قائم ہوئی۔ یہ پہلو بہت اہم ہے اور سوچ کو انگیخت دیتا ہے کہ اس معاملے پر مزید غور کیا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے بحث زیادہ نہیں چلی شاید اس لئے کہ اسے وہی لوگ کنٹرول کرتے ہیں جن کے تانے بانے ان معاملات سے جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن لوگ پھر بھی بات کرتے ہیں اور مختلف سوالات سر اٹھاتے ہیں۔

اس پس منظر میں اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیے اور غور کیجئیے کہ ہمارے ہاں بھی ریکوڈیک نام کا ایک منصوبہ ہے جس کا کیس اب عالمی عدالت میں ہے۔ وسط ایشیائی ممالک سے ایک پہاڑی پٹی کا آغاز ہوتا ہے جو سونے اور تانبے سے بھرپور ہے۔ یہ پٹی وسطی ایشیا سے افغانستان میں داخل ہوتی ہے اور پاکستان کے صوبے بلوچستان میں آکر ختم ہوجاتی ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں اس پٹی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ پٹی ان علاقوں میں حجم کے اعتبار سے کم ہے جبکہ افغانستان میں اس کا حجم سب سے زیادہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں سونے اور تانبے کے سب سے زیادہ زخائر ہونگے۔ بلوچستان میں داخل ہونے والی پٹی کا حجم افغانستان سے تو کم ہے لیکن وسط ایشیائی ممالک سے کہین زیادہ ہیں۔

بلوچستان کے ایک مقام سے سونا نکالنے کا جو منصوبہ ٹیتھیان کمپنی کو دیا گیا، اس پر بلوچستان حکومت کے ایک انکار سے پاکستان کے مستقبل کا ایک بہت بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ اب معاملہ عالمی عدالت میں ہو یا کہیں اور ان ذخائر سے کوئی اور فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریکوڈیک کے مقام پر جہاں جہاں ان ذخائر کی مالیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے ، ابھی تک اس کا حساب کتاب نہیں ہوسکا یعنی یہ وسائل بیش بہا ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ وسائل افغانستان میں سب سے زیادہ مقدار میں موجود ہیں وہ بلوچستان میں کس قدر ہوں گے ، سوچ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ اندازے لگانا آسان ہے اور ان اندازوں سے یہ فیصلہ کرنا بھی کہ پاکستان کے مسائل میں کن کن طاقتوں کا عمل دخل رہتا ہے۔

افریقی ممالک نے جب فیصلہ کیا کہ وہ اپنے وسائل کو اپنے مفاد میں استعمال کریں گے تو وہاں خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا اور آج تک ان ملکوں کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ افغانستان اور پاکستان کے حالات ہمارے سامنے ہیں اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حوالے سے رالف پیٹر کا نقشہ ابھی ہماری یادداشت سے محو نہیں ہوا۔ یہ سارے حقائق اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ شائد ہم اس بدحالی کے عذاب سے نکل نہیں پائیں گےکیونکہ ہمارے دشمن صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں ہمسایوں کی دشمنی سے بھی نبرد آزما رہنا ہے۔ ہمیں بلوچستان کے حولے سے بہت محتاط رہنا چاہئیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اس صوبے کو ہم سے جدا کرنے کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے۔ ہماری کامیابی اس میں ہے کہ ہم اس معاملے کو اس حد تک الجھنے نہ دیں کہ پھر معاملات کو سلجھانا ہمارے بس سے باہر ہو جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.