.

کوئی اور حل نہیں

اوریا مقبول جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
موت کا کھیل چاروں جانب رقصاں ہے۔ رات گئے پچاس کے قریب ٹیلی ویژن چینلوں پر گفتگو کے بازار سجتے ہیں۔ جذبات سے عاری اور موت کی تلخی سے بے خبر سیاسی رہنما خود کو معصوم اور دوسروں کو ظالم ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ کسی کے لہجے میں دکھ ہے اور نہ چہرے پر پشیمانی۔ گزشتہ دس سالوں سے میڈیا اور سیاست کی لغت میں چند لفظ آ گئے ہیں، جن کا جب اور جس وقت چاہا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ دہشت گرد، شدت پسند، طالبان، فرسودہ خیالات اور دقیانوسی نظریات کے امین وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور فقرہ بہت استعمال ہوتا ہے۔ "حکومت کچھ نہیں کر رہی۔""حکومت سب کچھ کر سکتی ہے۔"

کوئی نہیں یہ بتاتا کہ یہ حکومت کس بلا کا نام ہے۔ کابینہ میں بیٹھا وزیر، حکومتی پارٹی کا ممبر پارلیمنٹ یا اس کا اتحادی اگر گلے پھاڑ پھاڑ کر کہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی تو لوگ حیرت سے سوچنے لگتے ہیں کہ یہ حکومت نام کا ادارہ یقینا اس ملک سے یا تو باہر کہیں ہوتا ہے یا پھر اس کا وجود آسمانوں میں ہے جہاں سے حکم جاری ہوتے ہیں۔ کابینہ، پارلیمنٹ، رینجرز، پولیس اور فوج تو بس دکھاوے کی چیزیں ہیں۔ اصل میں حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ اس لیے روز قتل و غارت ہوتا ہے۔ یہ ہے اس ملک کے ہر روز کا منظر نامہ۔ آپ آج سے ایک ماہ پہلے کے ایک دن کے اخبار اٹھائیں یا ٹیلی ویژن کے چینلوں کے پروگرام دیکھیں۔ خبریں یہ ہوں گی کہ آج اتنے مارے گئے۔ پھر رات کے پروگراموں میں جو فقرے سیاست دانوں نے بولے ہوں گے، جو سوالات اینکروں نے پوچھے ہوں گے۔ آج ایک ماہ بعد بھی نہیں بدلا ہو گا۔ وہی سوال اور وہی جواب۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں صرف ایک قسم کے گروہ پر اپنی جانب سے لعنت کی ہے۔ فرمایا"جھوٹوں پر اللہ کی لعنت" لیکن ہماری بدقسمتی دیکھئیے کہ روزانہ لاشیں گرتی ہیں اور روزانہ اس المیے پر اس قدر جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھیں شرما جاتی ہیں۔ سوال کرنے والے اینکرز اور بستیوں، گلیوں اور بازاروں میں گھومنے والے رپورٹروں کو لوگوں کی روتی آنکھوں، سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان سچ مل جاتا ہے۔ لوگ چیخ چیخ کر بتا رہے ہوتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو کون قتل کر گیا ہے اور گزشتہ پچیس سال سے کون کر رہا ہے لیکن ان عوام کے بتائے ہوئے سچ کو بیان کرتے ہوئے ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی مصلحت کے تحت جس کو چاہتا ہے مورد الزام ٹھہرا دیتا ہے۔

سب سے آسان نام طالبان یا دہشت گردوں کا ہے۔ کسی بھی ضلع میں اگر کوئی شخص قتل کر کے مفرور ہو جائے تو پولیس کے لوگ ہر قتل، چوری یا ڈکیتی کو تفشیش سے پہلے ہی اس مفرور ملزم کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے، نہ وہ سامنے آئے گا، نہ پکڑا جائے گا اور نہ ہی کوئی ان سے کہے گا مجرم کو ڈھونڈ کر لاوَ، بند کرو، مقدمہ چلاوَ۔ ہر ضلع کے اپنے اپنے مفرور ہوتے ہیں اور ان کے کھاتے میں ہر روز نئے جرم ڈال کر فائل دن بدن موٹی کر دی جاتی ہے۔

دوسری جانب اس ملک کے اٹھارہ کروڑ میں سے چند ایک اہل اقتدار کو چھوڑ کر ہر شہری مشکوک ہے۔ کوئی بڑا شہر، بڑی شاہراہ ایسی نہیں جس کے کونے کونے پر رکاوٹوں نہ کھڑی کی گئی ہوں۔ تلاشیاں نہ لی جاتی ہوں، پشاور شہر کے ایک باسی نے کیمرے کے سامنے پاکستان کو "پھاٹکستان" کہہ دیا جہان ہر قدم پر پھاٹک لگے ہوں اور ان پر شہری تذلیل اور رسوائی برداشت کر رہے ہوں۔ ایک دانشور اور تجزیہ نگار طبقہ ایسا ہے جو بڑی دور کی کوڑی لے کر آتا ہے کہ یہاں غیر ملکی مداخلت عروج پر ہے۔ کبھی کبھی لوگوں کےسوالوں سے تنگ آئے اعلیٰ انتظامی عہدیدار اور سیاسی رہنما بھی یہ تھیوری پیش کر دیتے ہیں۔ عام سپاہی تک یہ بات پہنچتے پہنچتے سچ سی ہو جاتی ہے اور وہ ہر آنے والے کو غیر ملکی ایجنٹ ہی تصور کرنے لگتا ہے۔

یار لوگوں نے اس تلاشی کے عالم پر کیا کیا لطیفے بنا رکھے ہیں۔ مثلا ایک چیک پوسٹ پر کسی شخص کو روکا گیا۔ نام پوچھا گیا، تلاشی لی اور پھر اطمینان سے کہا کلمہ سناوَ۔ اس نے سنا دیا، دوسرا سناوَ، سنا دیا، تیسرا سناوَ، سنا دیا جب اس نے چوتھا کلمہ بھی سنا دیا تو پیچھے کھڑے افسر نے کہا، اس کو بند کر دو، اس ملک میں کس کو سارے کلمے آتے ہیں، اسے ضرور غیر ملک نے پوری تیاری کرا کر بھیجا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود انسان قتل بھی ہو رہے ہیں اور اغوا بھی، بھتہ بھی وصول ہو رہا ہے اور رات کو گھر سے باہر نکلنے پر خوف بھی آتا ہے لیکن اگر کسی سے پوچھو کہ کراچی میں ایسا کیوں ہو رہا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ایسا تو پنجاب میں بھی ہوتا ہے۔

پوچھو بلوچستان میں ایسا کیوں ہے تو کہتا ہے کہ کراچی میں ہم سے زیادہ ہو رہا ہے۔ ادھر اگر یہ سوال کسی مرکزی رہنما سے کرو تو ملکوں کے نام گنوانا شروع کر دے گا کہ فلاں ملک میں بھی ایسا ہوتا ہے، فلاں ملک میں اغوا اور قتل ہوتے ہیں۔ ایسے جیسے طاعون، ہیضہ یا چیچک کی کوئی بیماری ہو جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے کہ اب ہم کیا کریں۔ ساری دنیا میں قتل اور اغوا بند ہو جائیں تو ہمارے ہاں بھی ہو جائیں گے۔ ساری دنیا میں تو پولیو بھی ختم ہو گیا، ہمارے ہاں نہیں ہوا۔ پولیو کی طرح اگر پوری دنیا میں امن ہو گیا اور ہم ویسے ہی رہے تو پھر۔ تو پھر کچھ نہیں۔ ہماری چرب زبانی اور غلط بیانی ہماری حفاظت کرے گی۔

کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ وہ لوگ جن کو اس بات کا تفصیل سے علم ہو کہ کس گھر میں بکرے، دنبے یا گائے کی قربانی ہوئی ہے، کہاں پرچی پھینکنی ہے اور کہاں سے کھال اٹھانی ہے۔ لوگ گھر سے بیس میل دور بھی قربانی کریں اور چھپا کر گاڑی میں گوشت لائیں، پھر بھی بو سونگھتے، پرچی بردار کھال طلب کرنے آجائیں۔ ایسے چست اور تیز منتظمین کو اس بات کا پتہ نہ ہو کہ اس گلی، محلے یا علاقے میں کون قتل کر رہا ہے۔ یہ لوگ جب اپنے اپنے ورکروں کی لاشیں اٹھاتے ہیں تو شدید غصے میں بھرے جملوں میں ٹھیک ٹھیک سچ بول رہے ہوتے ہیں۔ اپنی نجی محفلوں میں صحیح صحیح قاتلوں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ٹی وی کا کیمرہ سامنے آتے ہی ان کی زبانیں کچھ اور بولنے لگتی ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کون کر رہا ہے، کوئی تو ہے جو اس شہر کا امن خراب کرنا چاہتا ہے۔ یہ تو حکومت کا کام ہے۔ ان کو ڈھونڈے، ان پر ہاتھ ڈالے، ان کو پکڑے، امن قائم کرے، شہریوں کو تحفظ دے۔ یہ سب کچھ ہماری خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ یہ تو مشرف دور کے تحفے ہیں۔

دنیا کے ہر ملک میں کبھی نہ کبھی ایسا دور ضرور گزرا ہے جب مافیا کے پرتشدد انسانوں اور سیاسی کارکنوں میں تمیز کرنا مشکل ہو جائے۔ جب سیاست دان کہیں کہ ہمارا جھنڈا، ہمارا نعرہ یا ہمارا نام استعمال ہورہا ہے۔ ہم بری الذمہ ہیں۔ تو پھر 1913ء کا لندن ہو یا 90ء کی دہائی کا نیویارک، 60ء کی دہائی کا شکاگو ہو یا 80 کی دہائی کا سسلی۔ ان سب نے وہاں موجود سیاست دانوں کو انتظامی معاملات سے الگ کر دیا۔ لندن میں تو سب کو حفاظتی قید میں محصور کر دیا اور پھر شہر کو قاتلوں، غنڈوں اور بھتہ خوروں سے پاک کر دیا۔ اس دوران کسی کو یہ کہنے کی اجازت نہیں تھی کہ ہمارے اتنے مارے گئے اور ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ جب شہر اس دہشت اور خوف سے باہر آ گیا تو پھر کہا کہ آوَ اور کرو سیاست۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.