.

اسرائیل کی طرف سے عالم اسلام کو نئے سال کا تحفہ

ڈاکٹر علی اکبر الازہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
محرم الحرام سے شروع ہونےوالے نئے اسلامی سال کا پہلا تحفہ عالم اسلام نے سینکڑوں فلسطینی مسلمانوں کی شہادتوں کی صورت میں وصول کرلیا ہے۔ یہ تحفہ اسرائیلی یہودیوں نے نئی جارحیت کے دوران پیش کیا ہے اور امریکہ بہادر نے پوری ڈھٹائی سے اسے اسرائیل کا دفاعی حق تسلیم کرلیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں گذشتہ پانچ روز سے جاری اسرائیلی ننگی جارحیت ایک طرف منتشر عالم اسلام کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے اور دوسری طرف عالمی استعمار امریکہ کی ”امن دوستی“ کے منافقانہ نعرے کی نئی عملی تشریح۔ غزہ فلسطین کا گنجان آباد رہائشی علاقہ ہے جہاں بے چارے فلسطینی مسلمان دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے کے بعد سمٹ آئے تھے۔ چار سال قبل بھی اسرائیلی جارحیت نے یہاں ظلم کے پہاڑ توڑے تھے اور نہتے مسلمان بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو جنگی بمبار جٹ طیاروں کے حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔

حالیہ خطرناک جنگ کی شروعات کا الزام حماس پر لگایا جاریا ہے حالانکہ حماس نے اس اسرائیلی میزائل کا جواب دیا تھا جس کی وجہ سے حماس کا ایک مرکزی کمانڈر اپنے ساتھی سمیت گاڑی میں شہید ہوگیا تھا۔ حماس تنظیم اگرچہ سخت مزاحمتی قوت ہے مگر یہ کئی عشروں سے جاری اسرائیلی مظالم کا ایک فطری ردعمل ہے۔ اسکی وجہ سے ایک طرف اسرائیلی جارحیت کے منہ زور گھوڑے کی رفتار میں تھوڑی کمی آئی ہے اور دوسری طرف فلسطینی مسلمانوں کو بامقصد جدوجہد کا ایک متفقہ پلیٹ فارم میسر آیا ہے ورنہ قبل ازیں پی ایل او اور الفتح جیسی آزادی پسند تنظیمیں اکثر و بیشتر یہودیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حماس کو فلسطینی مسلمانوں نے انتخابات کے ذریعے بھی اپنا حق حکمرانی تفویض کیا تھا مگر یورپ اور امریکہ جیسی ”جمہوریت نواز“ طاقتوں نے کھلے عام اس عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

اسی طرح بیشتر عرب ممالک نے بھی حماس کو اپنی آمریت اور بادشاہت کےلئے خطرہ سمجھتے ہوئے انکی حمایت اور مالی امداد کے برعکس محتاط رویہ اپنائے رکھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے حسب سابق آج بھی مظلوم مسلمانوں کا خون اپنے اقتدار کے مقابلے میں بے حیثیت سمجھا اس کی تازہ مثال شام کے صدر بشارالاسد کی ہٹ دھرمی اور عملی یزیدیت ہے۔ اسی ہوس اقتدار کی وجہ سے مسلمان حکمران اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار بنتے رہے ہیں اور آج بھی بنے ہوئے ہیں۔

محرم الحرام کے ابتدائی ہفتے میں سینکڑوں فلسطینی مسلمانوں کی قربانیاں نئے ہجری سال کا خونیں آغاز ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ فلسطینی مسلمانوں پر یہودیوں کے مظالم کی تاریخ بڑی پرانی ہے مگر اس نئی شرارت کے تیور خاصے خطرناک نظر آرہے ہیں۔ خصوصی طور پر اس وقت کا انتخاب جب ایک طرف مصر میں نئی اسلامی حکومت اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہے۔ دوسری طرف شام جیسا ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں بدحال ہوچکا ہے اور سارے عرب ممالک شامی حکومتی فوج اور انتظامیہ کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ شام ہی عرب ممالک میں سے وہ واحد ملک تھا جو جہاد فلسطین کا عملاً حامی تھا اور حماس کی قیادت خالد مشعل اور اسماعیل حانیہ سمیت شام میں ہی پناہ گزین تھی۔

مگر اس وقت شام جس تباہی سے گزر رہا ہے اور وہاں جو کربلا بپا ہے اس میں کون کس کی حمایت کرسکے گا؟ اسی طرح اردن جیسا عرب ملک اسرائیل کا پڑوسی ہے اور یہ مصر اور شام کے مقابلے میں خاصا خوشحال ہے یہاں بھی شاہ عبداللہ کی حکومت کےخلاف تحریک چلی ہوئی ہے اور حکومت کو اپنی بقاءکی فکر لاحق ہے۔ صاف ظاہر ہے اس فکر کے مقابلے میں اردنی حکومت فلسطینی مسلمانوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی طرح عراق بھی قریبی مسلم ملک ہے مگر وہاں کٹ پتلی امریکی نمائندہ انتظامیہ مقامی مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔ قتل و غارت گری جاری ہے اور سخت ترین معاشی پریشانیوں نے عراقی مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اب رہ گئی دیگر عرب حکومتیں جن میں لبنان، سعودی عرب، بحرین، مسقط، کویت اور عرب امارات جیسے خوشحال مسلمان ممالک شامل ہیں سوائے ایک آدھ ملک کے ان سب پر امریکہ نے ایرانی جارحیت کا بھوت سوار کررکھا ہے اور امریکہ اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں سے معدنی دولت کے عوض مہنگا اسلحہ انہیں دھڑا دھڑ فروخت کررہا ہے۔ یعنی عالمی استعمار نے اسرائیل کے بجائے ایران کو ان کا اصلی دشمن قرار دیتے ہوئے جنگی تیاریوں میں مصروف رکھا ہوا ہے۔ اس طرح خود ایران گذشتہ کئی سالوں سے متوقع اسرائیلی جارحیت کےخلاف دفاعی حکمت عملی کی نفسیاتی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ہر روز اور ہر لمحہ اسکی جوہری تنصیبات اسرائیلی جنگی طیاروں کی زد میں ہیں۔

حالیہ امریکی انتخابات کے دوران اوباما اور مٹ رومنی کو جن سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں ایران کو دونوں نے امریکہ اور اسرائیل کےلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دےکر اس کےخلاف سخت ترین حکمت عملی کو حکومتی پالیسی ثابت کیا۔ رہ گیا ترکی، پاکستان اور دیگر ایشیائی مسلم ممالک تو انہیں اپنی بقاءاور سلامتی کے ہزاروں خطرات ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم نے اسلامی حمیت کا حق ادا کرتے ہوئے اگرچہ اسرائیل کو قدرے سخت الفاظ میں انتباہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جلد یا بدیر اسرائیل کو مسلمانوں کے مظالم کا بدلہ چکانا پڑےگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان ممالک میں سے کوئی ایک بھی اسرائیلی ننگی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا متحمل نہیں۔

OIC اور عرب لیگ نے اپنے اپنے اجلاسوں میں زبانی جمع خرچ سے کام لیا۔ ان بیچاروں کی دوڑ امریکہ کو امن کی اپیل پیش کرنے تک محدود ہے مگر امریکہ بہادر پوری منافقت سے کام لے کر یہودیوں کے مسلم کش منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے پر ڈھٹائی سے عمل پیرا ہے۔ ورنہ جس امریکی وزیر خارجہ نے بڑھ چڑھ کر ملالہ پر حملے کی مذمت کی ہے اسکے منہ سے درجنوں شیر خوار فلسطینی بچوں کی ہلاکت پر ایک بار بھی ہمدردی کے کلمات سننے میں نہیں آئے۔ حالات و واقعات کا رخ اور اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع اور دیگر عہدیداروں کے بیانات کی ہٹ دھرمی بتارہی ہے کہ حالات مزید خراب ہونگے۔ خون مسلم مزید بہے گا اور خدانخواستہ اس جارحیت کے دوران عالم اسلام کو بے بس پاکر اسرائیل القدس اور مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔

علاوہ ازیں فلسطینی مسلمانوں کی مزاحمت سے جان چھڑانے کےلئے وہ فلسطینی علاقوں کو وسیع پیمانے پر خطرناک حملوں کا نشانہ بناکر ان کی دفاعی قوت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ گذشتہ روز جس طرح اس نے حماس کے ہیڈ کوارٹر اور ٹی وی سٹیشن کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ ایک فلسطین کا کیا رونا، یہاں تو قدم قدم پر آہوں، سسکیوں اور چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ کشمیر سے لے کر برما اور شام سے لے کر عراق اور افغانستان ہر کہیں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ انکے وسائل پر قبضہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں باہمی خانہ جنگیاں جاری ہیں اور خیبر سے کراچی تک قتل و غارت گری جاری ہے۔ اس کا واحد علاج عالم اسلام کا اتحاد اور مسلمانوں کا غیرت مندانہ عزم ہے۔ ورنہ ہزاروں مسلمانوں کی موت کے تحفے ہر عید اور تہوار پر ہمیں ملتے رہیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.