.

پاک امریکہ تعلقات کے مدوجزر

سہیل دانش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاک امریکہ تعلقات کی65سالہ تاریخ مدوجزر کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صدر ہیری ٹرومین سے قائد ملت خان لیاقت علی خان کے راز و نیاز، دوستی کے بلند بانگ دعوے، خطیر امداد اور فوجی اور اقتصادی شعبوں میں معاہدے، ہیری ٹرومین نے پاکستانی وزیراعظم کو یقین دلایا کہ انہوں نے ماسکو کے بجائے واشنگٹن سے دوستی کو جو فوقیت دی ہے امریکہ، پاکستان جیسی نوزائیدہ مملکت کو زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کیلئے پوری توانائی اور بھرپور معاونت فراہم کرے گا۔ بعد میں آئزن ہاور نے پاکستان کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے امداد حاصل کرنے کیلئے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ جان ایف کینڈی اور ایوب خان کے تعلقات ذاتی نوعیت کے تھے۔ ان کے درمیان مفاہمت کا معیار کم و بیش ایسا ہی تھا جیسا پرویز مشرف اور بش جونیئر کے مابین تھا۔ جب ایوب خان امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے تو کینڈی خود اینڈریوز ایئرفورس بیس پر انہیں خوش آمدید کہنے کیلئے موجود تھے۔

1965ء کی پاک بھارت17روزہ جنگ کو رکوانے کیلئے لنڈن بی جانسن نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ اس بات پر نالاں تھی کہ 1966ء میں ایوب خان نے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری سے ملاقات اور باہمی امن کے معاہدے کیلئے سوویت یونین کے شہر تاشقند کا دورہ کیا تھا۔ 1970ء میں صدر یحییٰ نے امریکہ اور چین کے مابین پہلی بار رابطے میں ایک پل کا کردار ادا کیا تھا اور دنیا اس بات سے بے خبر تھی کہ ہنری کیسنجر نے کب اور کیسے بیجنگ کا خفیہ تاریخی سفر کر کے چینی قیادت کے ساتھ دست دوستی بڑھایا تھا۔ سقوط ڈھاکہ سے چند ماہ قبل سی آئی اے نے امریکی صدر کو مطلع کیا کہ بھارتی فوج مشرقی پاکستان کی سرحد عبور کر کے براہ راست مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس پر رچرڈ نکسن نے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کو طلب کر کے دریافت کیا کہ اس مرحلے پر امریکہ، پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

کیسنجر نے صدر امریکہ کو بتایا کہ اس ساری دھماکہ خیز صورت حال کو بے اثر کرنے کیلئے فوری طور پر اسلام آباد کو کوئی سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا تاکہ مشرقی پاکستان کے عوام میں یہ احساس بیدار کیا جائے کہ 1970 کے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی طرف پیشرفت کی جا رہی ہے جس کی ابتدا شیخ مجیب کی رہائی اور ان سے مذاکرات سے کی جا سکتی ہے۔ رچرڈ نکسن سمجھتے تھے کہ پاکستانی صدر جنرل یحییٰ ایک ضدی اور خودسر شخص ہیں جو ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اس لئے بات آگے نہ بڑھ سکی اور مشرقی پاکستان کا بحران سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوا۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ رچرڈ نکسن نے اس وقت دو ٹوک انداز میں پاکستان کی مدد کی جب سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے راجستھان کے علاقے سے مغربی پاکستان پر بھی قبضے کی منصوبہ بندی کر لی تھی اس مرحلے پر امریکہ کے صدر نے روسی صدر بریژنیف کو یہ پیغام دیا کہ وہ بھارت کو باور کرا دیں کہ اگر اس نے باقی ماندہ پاکستان پر قبضے کی کوشش کی تو اسے 72گھنٹے میں امریکی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثالی نہیں رہے۔ امریکی سمجھتے تھے کہ بھٹو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کیلئے بضد ہیں اسی لئے کیسنجر نے لاہور ایئرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں بھٹو کو براہ راست دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ایٹم بم بنانے کی ضد نہ چھوڑی تو انہیں عبرت کی تصویر بنا دیا جائے گا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب 5جولائی1977 کی شب جنرل ضیاء الحق ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے فرمان پر دستخط کر رہے تھے، امریکہ کے سفیر ان کے سامنے بیٹھے تھے۔ 1979ء میں روس کی افغانستان میں مداخلت کے بعد امریکہ کی پاکستان پر نوازشیں حد سے تجاوز کر گئیں جو امریکہ کی ضرورت تھی۔ ایک طویل جنگ کے بعد جب روسی، افغانستان سے واپس گئے تو امریکہ جنگ کا تمام ملبہ یہیں چھوڑ کر واپس چلا گیا۔ پہلے کارٹر اور پھر رونالڈ ریگن نے اس جنگ کے دوران پاکستان کی فراخ دلانہ امداد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بعد میں جنیوا معاہدے کے بعد امریکہ ضیاء الحق کا دشمن بن گیا۔ ان کے طیارے کا حادثہ اسی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ پاکستان اور امریکہ کے مابین اس وقت تعلقات میں سخت کھنچاؤ پیدا ہوا جب صدر کلنٹن کی بار بار درخواست کے باوجود نوازشریف نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جیسے کو تیسا کے مصداق دھماکے کر ڈالے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب 11/9 کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی ہزار افراد آناً فاناً جان سے گئے۔ اس کے انتقام میں امریکی بدمست ہاتھی کی طرح افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ اس سے پہلے طویل جنگ کے بعد امریکہ، عراق پر قبضہ کر چکا تھا۔

افغانستان میں امریکیوں نے خوفناک اور تباہ کن ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔ وقت گزرتا رہا اور یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔ افغانستان میں جہاں ایک طرف اتحادی افواج ہیں تو دوسری طرف طالبان اور وہ قوتیں ہیں جو سمجھتی ہیں کہ افغانستان کو امریکہ کے جبر و استبداد سے نجات دلانے کیلئے مارو یا مر جاؤ کی پالیسی پر عمل کرنا ہو گا۔ اب صدر اوباما پوری دنیا کو یہ خوشخبری سنا رہے ہیں کہ یہ امن کی دہائی ہے۔ ہیری ٹرومین نے67سال قبل دوسری جنگ عظیم میں فیصلہ کن فتح کیلئے ایٹم بم کا استعمال کیا تھا۔ کیا صدر اوباما آج امن و آشتی کا پیغام دے کر ایک ایسی جنگ کو جس نے لاکھوں افراد کی جان لے لی ہے ،ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ فی الواقع ایسا کر سکیں گے۔ آئندہ چار سال میں افغانستان سمیت پورے خطے میں امن کیلئے ان کے اقدامات یقیناً اس بات کا تعین کریں گے کہ من حیث القوم پاکستانی دہشت گردی سے نجات حاصل کر سکیں گے یا پھر اس عذاب میں یونہی گرفتار رہ کر اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے۔


بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.