.

ہمیں تو مرنا ہے۔۔ قاتل یہودی ہوں یا اپنے۔

ایاز خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کے ایک اسپتال میں فلسطینی خاندان کے چار دودھ پیتے بچوں کی ساتھ ساتھ پڑی ہوئی لاشوں کی تصویریں دیکھنے کے بعد کچھ لکھنے کی ہمت جیسے ختم ہو گئی ہے۔

مائوں کی آغوش میں ان معصوموں کو مارنا شاید اس لیے ضروری تھا کہ یہ بڑے ہوتے تو غلیل جیسے مہلک ہتھیار سے اسرائیلیوں کا قتل عام کرتے۔ طاقتور دفاع کا حق اسی طرح استعمال کرتے ہیں جیسے امریکا افغانستان اور اسرائیل فلسطین میں کررہا ہے۔ ان معصوم بچوں کے ساتھ ان کے تین بڑے بھی اپنے ہی گھر میں میزائل مار کر شہید کر دیے گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’’درست‘‘ فرماتے ہیں کہ فلسطینی ’’دہشت گردوں‘‘ کے خلاف دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے فضائی کے ساتھ زمینی حملے بھی کیے جائیں گے۔

ان حملوں میں مرنے والوں کی اکثریت بچے ہوں گے یا عورتیں، اسرائیل جب تک چاہے گا جارحیت ہو گی۔ مصر سمیت کچھ مسلمان ملک مذاکرات وغیرہ کریں گے اور نیتن یاہو کی حکومت خون کی پیاس بجھانے کے بعد باقی بچ جانے والے فلسطینیوں کی زندگی بخش دے گی، اس سے پہلے اقوام متحدہ اسے روکنے کی کوشش کرے گی نہ کوئی اور طاقت ، امریکا تو پہلے ہی اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کر چکا ہے، مصری صدر محمد مرسی نے وزیر اعظم پرویز اشرف کو ٹیلی فون کر کے پاکستان کی مدد مانگی تھی لیکن ہماری حکومت کیا مدد کرے گی؟میں ان چار ننھے شہیدوں کی تصویریں دیکھ رہا تھا کہ اس دوران کراچی میں محرم الحرام کا پہلا دھماکا بھی ہو گیا، اس دھماکے کے مناظر دیکھ کر مجھے پھر یاد آ گیا کہ مصری صدر کو اسرائیل کی جارحیت رکوانے کے لیے ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے بس میں ہوتا تو ہم اپنی دہشت گردی پر ہی قابو پا چکے ہوتے۔

غزہ پر حملہ کرنے والے دشمن سامنے تھے، اسے پوری دنیا نے دیکھ لیا لیکن وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کا ہاتھ روکنے کے قابل نہیں ہے۔ ہمارا دشمن اسرائیل کی طرح سامنے نہ سہی مگر وہ چھپا ہوا بھی نہیں ہے لیکن ہمارے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ اسے پہچان لینے کا اقرار کرلیں۔ ہمارے اس دشمن کی کارروائیاں ختم ہوتی ہیں نہ ہماری سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مصلحتیں۔ تو یہ طے ہے کہ اسرائیل کا ہاتھ کوئی روکے گا اور نہ ہمارے اس دشمن کا۔ دونوں بے خوف اپنا کام جاری رکھیں گے۔ نیتن یاہو کی فوج اپنے ’’دفاع‘‘ کے نام پر قتل عام کرتی رہے گی اور ہمارا دشمن مذہب کے نام پر پاکستانیوں کا خون بہاتا رہے گا۔ یہود و ہنود کی سازشوں کا تو ہم بچپن سے سن رہے ہیں ، اس لیے یہودی مسلمانوں پر حملے کریں تو حیرت نہیں ہوتی، یہاں جو مسلمان دوسرے مسلمان کو مار رہا ہے، یہ سبق تو ہمیں درسی کتابوں میں بھی نہیں پڑھایا گیا۔

ہم فرقوں اور مسالک میں بٹے ہوئے لوگ کسی دھماکے یا خود کش حملے میں مرنے والوں کے بارے میں زیادہ دکھی اس لیے بھی نہیں ہوتے کہ مرنے والے اکثر ہمارے مخالف مسلک یا فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، مذہبی جماعتوں کے قائدین دہشت گردوں کی مخالفت اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں اپنے ووٹ بینک کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے، کچھ سیاسی قائدین کی مصلحتیں بھی اسی طرح کی ہیں، انھیں بھی الیکشن میں کہیں نہ کہیں ان ’’ووٹروں ‘‘کی مدد درکار ہوتی ہے، ملالہ حملے کی مذمت ہم اس لیے نہیں کرتے کہ امریکا نے عافیہ صدیقی کو قید میں رکھا ہوا ہے، مدارس کے بچے قتل کر دیے جائیں تو ہمیں اس لیے فرق نہیں پڑتا کہ ہم لبرل سوچ والے ہیں، رہی حکومت تو اسے اور بڑے بڑے مسائل در پیش ہیں۔ صدر کے دو عہدوں کا معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ راجہ پرویز اشرف نے جہاں سپریم کورٹ کے حکم پر خط لکھ کر خود کو بچا لیا ہے وہاں انھوں نے اپنے پیشرو وزیر اعظم کے دور کے کرپشن کلچر کو بھی ختم کر دیا ہے لیکن وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

ایک اکیلے رحمن ملک ہی ہیں جو کبھی ڈبل سواری پر پابندی لگا کر، کبھی موٹر سائیکل چلانے کو ہی ممنوع قرار دے کر اور کبھی موبائل سروس معطل کر کے دہشت گردوں کو چکمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ موصوف کی بھاگ دوڑ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ ادھر کوئی سانحہ ہوا ادھر وہ ٹی وی اسکرینوں کے سامنے آئے اور۔۔۔۔ چل سو چل۔ ان کے دعوئوں اور دھمکیوں میں کمی نہیں آتی، لیکن یہ دہشت گرد اتنے ڈھیٹ ہیں کہ وزیر داخلہ کے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ ملک صاحب راضی ہوں تو ایک تجویز دینا چاہوں گا۔ انھیں کسی اہم موقع پر لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا کر بھی دیکھ لینا چاہیے، موٹر سائیکل کے ساتھ ساتھ دیگر سواریوں کو بھی روک دیں‘ شاید انھیں کامیابی مل جائے۔

کراچی میں اتوار کو ہونے والے دھماکے میں چونکہ موٹر سائیکل کا استعمال ہوا تھا، اس لیے رحمن ملک کو اب یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ سمیں اور موٹر سائیکل چلتے پھرتے بم ہیں۔ یہ مت بھولیں کہ ملک صاحب نے ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بیانات دیے ہیں۔ ہے کسی اور میں اتنی ہمت؟ ممکن ہی نہیں۔ ان کے اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی تنقید کی جائے تو یہ بہت ناانصافی ہے، بھاگ دوڑ بھی کی اور ہر کارروائی کے بعد بیان بھی داغ دیا‘ گویا انھوں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ دہشت گردی کے واقعات ہی نہیں ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لیے بھی ان کی طرف سے دیے گئے بیانات کا شمار ممکن نہیں۔ اپنے زوردار بیانات کے ذریعے وہ بلوچستان کا مسئلہ بھی کئی بار حل کر چکے ہیں۔

فلسطینی مسلمانوں کے نصیب میں یہودیوںکے ہاتھوں مرنا لکھا ہے تو ہمارے مقدر میں مسلمانوںکے ہاتھوں موت ہے، نہ انھیں زندہ رہنے کا حق ہے نہ ہم زیادہ عرصہ جی سکیں گے، موت تو ویسے بھی برحق ہے، پھر مارنے والے کا ہاتھ روکنے کی کیا ضرورت ہے؟ وقت پورا ہونے پر ہم سب مر جائیں گے، کبھی ہجوم میں اور کبھی اکیلے۔اس میں کیا پریشانی ہے، غزہ ہو یا کراچی؟

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.