.

وقت

ڈاکٹر شاہد مسعود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کئی برس تک ناکام دہائیاں دیتے مقامی معاشی تجزیہ کاروں کے بعد اب عالمی مالیاتی ادارے اور ان سے وابستہ اکابرین بھی اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان موجودہ عہدِ حکمرانی میں ”ایک ناکام ریاست“ کے ان تمام اہداف تک پہنچ چکا ہے جہاں خارجی، داخلی، معاشی، دفاعی، معاشرتی بحرانوں کی سیاہ آندھیوں میں تیزی سے اپنا وجود کھوتی یہ بدقسمت ریاست ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے نقوش مٹا رہی ہے؟

پاکستان حالیہ برسوں میں اقوام عالم کیلئے ایک سبق کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ ریاستیں کس طرح بھرپور وسائل اور پُرعزم قوم رکھنے کے باوجود بدکردار اور عیاش سیاسی قیادت اور ایک مربوط منظم نظام کی غیر موجودگی میں عروج سے زوال کی پاتال کا سفر طے کیا کرتی ہیں؟ میں یہ بات دوبارہ دہرا رہا ہوں کہ آج نہیں بلکہ آنے والے دور میں … بہت جلد جب گزرے پانچ چھ برسوں کی تاریخ درست انداز میں تحریر ہوگی تو طے ہو گا کہ اس خانماں بربادی کے پیچھے کون کون سی شخصیات ملوث تھیں؟ ان کے کیا مفادات تھے اور انہوں نے کس ایجنڈے کے حصول کیلئے کیوں کر اس ملک پر قبضہ کر کے، اسے برباد کر کے کن مقاصد میں کامیابی حاصل کی اور اب چونکہ موجودہ سرداروں کی رخصتی کے دن قریب آ ہی چکے تو جلد عوام اور دنیا کے سامنے وہ سربستہ راز بھی شاید عیاں ہو جائیں کہ آخر وہ کون سی مجبوریاں تھیں جو ملک کی اہم ترین شخصیات کے پیروں میں زنجیریں بن کر انہیں آئینی و قانونی حدود میں رہتے ہوئے بھی اس ماں جیسی دھرتی کے ساتھ یہ سلوک ہوتا دیکھنے پر آمادہ رکھتی رہیں؟ اسلام آباد سے کراچی اور خلیجی ریاستوں سے واشنگٹن کی نجی محفلوں میں اک طرح کے ہزار ہا قصے کہانیاں ہیں،”یہ کیسے ممکن ہے؟“،”کیا سب ملے ہوئے تھے؟“،”فلاں سے تو یہ اُمید نہ تھی!!“ وغیرہ وغیرہ؟ نہ تو کوئی ان کہانیوں کی تردید کو آمادہ ہے اور انہیں پھیلانے والے اس قدر اعتماد سے اپنی لوٹ مار میں دیگر معزز شراکت داروں کا تذکرہ بیان کرتے ہیں کہ اک لمحہ کو انسان لرز کر رہ جاتا ہے؟

حالیہ برسوں میں وطن عزیز سے کم و بیش ڈیڑھ سے دو ارب ڈالرز لوٹ کر ملک سے باہر منتقل کرتے دہری شہریت رکھتے ایک مشیر قہقہہ لگاتے ہیں کہ ”بھائی! ہم نے اکیلے نہیں کھایا … سب کو ان کے حصے کی ہڈی ڈالی ہے“ پھر وہ اپنی دلیل میں وزن ڈالتے ہیں کہ ”دیکھا کوئی ہے جو کھلے عام میرے خلاف مختلف اسکینڈلز ہر روز سامنے آنے کے بعد بھی مجھ پر ہاتھ ڈال سکے … سب کی قیمت ہے جناب! ہم اکیلے نہیں“؟

اس نازک مرحلے پر جب ایک بار پھر اہم ریاستی اداروں کے ایک حتمی ٹکراؤ اور نتیجتاً پیدا ہوتی افراتفری کے دوران ”فرار“ کی آخری کوشش ہو رہی ہے، ملک کے دو اہم اداروں یعنی عدلیہ اور افواج پاکستان پر یہ لازم ہے کہ وہ ان خواہشات کو ناکام بنائیں؟ یہ عرصہ شاید یوں بھی اہم ترین رہا کہ اس دوران مخالف سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ان دونوں اداروں کی ساکھ کو داخلی اور بین الاقوامی سطح پر برباد کرنے کیلئے اربوں روپیہ ذرائع ابلاغ پر بھی خرچ ہوا اور اگر مجھ جیسا بے خبر اس سے واقف ہے تو یقیناً جنرل اشفاق پرویز کیانی اور افتخار محمد چوہدری کہیں زیادہ بلکہ تمام تر معلومات رکھتے ہوں گے اور انہیں یقیناً اس بات کا بھی ادراک ہوگا کہ اگر اس لرزتی ریاست میں اس طرز عمل کو موجودہ حکمرانوں کی طرح آنے والوں نے بھی وتیرہ بنا لیا تو پھر شاید قدرت اپنا حتمی فیصلہ کرنے میں بہت دیر نہیں لگائے گی؟ ”آخر جغرافیہ تبدیل ہونا … بھی تاریخ کا ایک عمل ہی ہوا کرتا ہے“؟

دو صوبوں کی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں؟ مکمل طور پر بد ترین ناکام؟ سندھ میں چیخنے چلّانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا؟ تینوں اتحادی جماعتوں نے مل کر کراچی کو برباد کیا اور اپنا اپنا حصہ لوٹ مارا اور انسانی لاشوں کی صورت ”کور کمیٹیوں“ کے اجلاسوں میں بیٹھ کر وصول کیا؟ زمینوں پر متعدد بار قبضے کر کے انہیں فروخت کیا اور تاجروں، سرمایہ کاروں کی زندگیاں اس قدر اجیرن بنادیں کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے؟ یہ سب نے آپس میں مل بانٹ کر کیا، اس لئے کسی ایک کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم قرار دینے کی ضرورت نہیں؟ ذرائع ابلاغ کے پاس ہزار ہا دستاویزات موجود ہیں جو ان سب کے مشترکہ جرائم کی گواہ ہیں؟ بلوچستان جہاں فوجی قیادت التجا کرتی رہی کہ حل صرف اور صرف سیاسی افہام و تفہیم سے حاصل ہو گا، عدلیہ مہینوں جا کر وہاں بے کسوں کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس حساس بدقسمت صوبے کو سیاسی قیادت نے ایک مذاق تماشہ بنا کر رکھ دیا؟ کوئی نہیں جو بلوچستان کی فکر کرے؟ (سوائے بیرونی طاقتوں کے)!!

یہ طے ہے کہ حکمراں پُرسکوں انتقالِ اقتدار نہیں چاہتے!! عدالت نے کہا کہ ان کے تحت انتخابات ہوں گے تو فوراً ہی ان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا جو عرصے سے جاری ہے؟ اُن پر جانبداری کا الزام لگا کر وہی گردان دوبارہ دہرائی جائے گی کہ یہ عدالتیں تو پہلے ہی ہمارا سیاسی قتل کرنے کے لئے بے تاب تھیں؟

اگر فوج کے ماتحت انتخابات کرانے کا تذکرہ ہوا تو اصغر خان کیس، جس کی چنگاریاں اب تک سُلگ رہی ہیں، اسے ہوا دی جائے گی کہ ”دیکھا!!“ یہ تو ہمیشہ سے ہمارے خلاف اتحاد بنوا کر ہمیں اقتدار سے باہر رکھنے کو تیار کھڑے ہوتے ہیں“؟ اور ظاہر ہے چونکہ یہ دونوں مقتدر ادارے موجودہ حکمرانوں کا پہلے دن سے ہدف ہیں اس لئے ان کے تحت انتخابات کو وہ صرف اپنی دوبارہ فتح کی صورت قبول کریں گے، شکست کی صورت نہیں اور میں نہیں جانتا کہ الیکشن کمیشن ان دونوں اداروں کو الگ رکھ کر کس طرح انتخابی عمل کے صاف و شفاف ہونے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ اسلحہ و بارود کے ڈھیر سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جہاں پولیس سمیت قانون نافذ کرتے ادارے ناکام ہو چکے ہیں، وہاں فوج کے بغیر انتخابات ممکن نہیں اور اگر فوج کے تحت انتخابات کے بعد ”دھاندلی“ کا شور بلند کر دیا گیا تو؟؟ میں یہ اس لئے تحریر کر رہا ہوں کہ ایوانوں میں موجود شاطروں کے ذہن میں اس وقت افراتفری کے یہی نقشے ترتیب پا رہے ہیں اور ہاں!! میں ایک بار پھر اپنی اس اصطلاح کو دہرا دوں کہ جب افرا تفری اور انارکی اپنے عروج کو پہنچ جائے تو ”این آر او دوم“ کر کے باہر جانے کا محفوظ رستہ طلب کیا جائے گا تو یہی ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا کہ کیا وہ ایک مختصر عیار گروہ کو محفوظ رستہ باہر ملکوں میں اربوں ڈالرز کے ساتھ فراہم کر کے پھر عوام کو اپنی مجبوریاں بیان کرنے کے قابل رہ پاتی ہے یا پھر انہیں انتخابات کے کڑے احتساب سے گزارنے پر مجبور کر سکتی ہے؟

طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں جہاں اگلے کچھ عرصے میں موجودہ حکمراں ”سیاسی شہادت“ کے مرتبے پر فائز ہونے کے بجائے ”5 سالہ طبعی خاتمے“ کی طرف جا رہے ہیں، اب شاید کسی مفاہمت، سمجھوتے، نرمی، ڈیل اور این آر او دوم کی گنجائش نہیں اور اب جبکہ چند ماہ بعد ہی تینوں بڑے یعنی زرداری صاحب، جنرل کیانی اور افتخار چوہدری صاحب بھی اپنی مدت پوری کرنے جارہے ہیں… ظالم مورخ تیار بیٹھے ہے کہ کس نے کس وقت درست فیصلہ کیا، کون کمزور پڑ گیا اور کون چکما دے کر نکل بھاگا؟ ہر گزرتا دن، مورخ کی اس داستان کو تحریر کرنے کی گھڑیاں قریب لا رہا ہے جہاں وہ… ان پانچ سالوں کا حساب سرخ روشنائی سے تحریر کرے گا، فیصلہ کرداروں نے کرنا ہے کہ انہوں نے جلد تحریر ہوتی اس تاریخ میں اپنا کردار کیوں کر اور کہاں متعین کیا کہ وقت اب بہت… بہت مختصر ہے!!

یہ کیسے ممکن کہ ریاست کے اپنے مجموعی ذخائر 14 ارب ڈالرز اور ایک شخصیت کا دعوی؟ کہ وہ 25 ارب ڈالرز کا مالک ہے؟ کیا معاشی طور پر دم توڑتی ریاست ایسے افراد کو فرار کا موقع دے سکتی ہے؟ دوسرا NRO طے کر سکتی ہے؟

وقت یوں اہم کہ امریکہ 2014ء سے بہت پہلے اب شاید 2013ء میں ہی افغانستان سے کوچ چاہتا ہے؟ افراتفری کے شکار بلوچستان اور لہو لہان کراچی کی موجودگی میں امریکہ… کس طرح اپنا ساز و سامان ان رستوں سے نکالے گا؟ وہ بھاری اسلحہ جو وہ یہاں سے واپس لے جارہا ہے کیا ان چور، ڈاکو، لٹیروں کے ہتھے چھوڑا جاسکتا ہے جو اس وقت ان صوبوں پر حکمراں ہیں؟ امریکہ، سیاست دان، حکمراں، عدلیہ، فوج اور عوام… جس نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے… جلد کرے… گھڑی سامنے رکھے… کلینڈر نظروں میں اور وقت کا فیصلہ کرے ورنہ فیصلہ خود وقت کر دے گا!!

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.