.

ارباب اقتدار کا پٹاری تماشا

شبیر مغل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کوئی مداری جب تماشا کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے ارد گرد موجود مجمع میں سے ہر شخص کی توجہ اس کے پاس پڑی پٹاری پر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہر تماشائی بے چین ہوتا ہے کہ ابھی مداری وہاں سے کچھ نکالے گا، مگر مداری پٹاری کے بل پر سارا تماشا دکھا کر اور حاضرین سے اپنا دال دلیا اینٹھنے کے بعد پٹاری ویسی کی ویسی سمیٹ لیتا ہے۔

بعض مداری ایسے بھی ہوتے ہیں ،جو پٹاری میں سے سانپ وغیرہ نکال دکھانے کے ساتھ ہی اعلان کرتے ہیں کہ ابھی اس میں بہت کچھ باقی ہے، وہاں کچھ ہو نہ ہو، مگر مجمع کو اس کے بارے میں درست اندازہ ہو ہی جاتا ہے۔ ہمارا پالا بھی آج کل کچھ ایسے ہی حکمرانوں سے پڑا ہے۔ وہ موخر الذکر مداریوں کی نسل یا کم سے کم ان کے شاگرد معلوم دیتے ہیں۔ یہ جس دن سے برسراقتدار آئے ہیں، عوام کو صرف تماشے دکھا رہے ہیں۔ان کی پٹاری سے آئے دن نئے نئے ایشو برآمد ہوتے اور عوام کا منہ چڑاتے ہیں، مگر حکمرانوں کی پٹاری ہے کہ خالی ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اب کہ ان کی پٹاری سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کا ایشو نکلا ہے۔ اس کے بارے میں سب کو پتا ہے کہ دونوں ججز کے تقررکی سمری پر صدر آصف زرداری نے دستخط کیوں نہیں کیے۔مگر کیا اس چال کے مقاصد حاصل ہو پائیں گے؟اس کا جواب ابھی تو سمجھ میں نہیں آ رہا، مگر یہ نفی میں ہونا چاہیے ۔جو بات اب اندھوں کو بھی سمجھ آ گئی ہے وہ پیپلزپارٹی کی برسراقتدار آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے کی نئی پالیسی تھی۔ ججز بحالی کے ایشو پر قرآن کی قسمیں اور وعدے ہوں، کرائے کے بجلی گھروں کا ایشو ہو، گیس کے بند کنووں کی بات ہو، آئی پی پیز کی جعلی پیداوار کے نام پر لوٹ مار ہو ، قومی خزانے سے لوٹ مار کے لیے دو نمبر لوگوں کے بھاری مشاہروں پر اعلیٰ عہدوں پر تقرر ہوں، اداروں کی لوٹ مار ہو، این آئی سی ایل ہویا ایفیڈرین سکینڈل ، این آر او عمل درآمد کیس کا ذیلی توہین عدالت کیس ہو، بلوچستان میں امن وامان کا ایشو ہو، ریکوڈک کا معاملہ ہو ،کراچی میں بدامنی ، بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں کرپشن کا معاملہ ہو یا کوئی اور ایشو ہو، مفاہمتی حکمرانوں نے ہر معاملے میں الٹا ہی کام کیا ہے اور نشان دہی تو کیا کسی کی کروڑوں ،اربوں کی کرپشن ثابت ہونے پر بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ہاں حکمرانوں نے بروقت اور تندہی سے جو کارروائی انجام دی ، وہ قومی خزانے اور ہر اہم اور بڑے قومی ادارے کی بے دریغ لوٹ مار، بندر بانٹ ہے۔ پی آئی اے، سٹیل ملز، ریلوے اور دیگر اداروں کی مثال سب کے سامنے ہے، متروکہ وقف املاک بورڈ کے تو کیا کہنے۔ اس کے بارے میں تبصرہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں، ذرائع اس کی بدترین صورت حال اور ہولناک معاملات موجودہ حکومت کے منظر سے ہٹنے کے بعد سامنے آنے کی خبر دیتے ہیں۔ ابھی تو میڈیا کی طاقت سے سب اچھا کی رپورٹ ہے، وجہ صرف یہ کہ ہر جگہ بکاؤ مال دستیاب ہے۔



کرپشن کیسز کا نوٹس لینے اور اسے روکنے کے لیے کوشاں اعلیٰ عدلیہ کو ہر معاملے میں زچ کرنے، احکامات نہ ماننے اور اسے ’دوڑا دوڑا‘ کر گرانے کی پالیسی اپنائی گئی، ہر عدالتی فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ شاید ہمارے حکمرانوں میں کچھ فاتحین تاریخ کی روح حلول کر گئی ہے۔ان میں سے ایک ظالم فاتح مفتوح انسانوں کو صرف اس لیے قتل کرتا تھا کہ اسے کٹی گردن سے پھوٹتے خون کے پھوارے اچھے لگتے تھے، اسی طرح لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو عدالتی فیصلوں کا ''جھٹکا'' کرنے میں مزا آتا ہے، چاہے اس کی قیمت ملک کو ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔عدالتی فیصلوں کا جھٹکا کرنے میں شاید بہت سے بااختیار لوگوں کی منشاء بھی شامل ہےاور یہ منشاء ہر اہم موقع پر موافقانہ بیانات کی شکل میں کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔اوپر سے جھوٹ اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے بولا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ حکومتی ترجمانوں کے پاس ''دلائل'' کے انبار ہوتے ہیں، دور کی کوڑی لانے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ جس حکومت کا کوئی وزیر دھڑا دھڑ کرنسی نوٹ چھاپنے کو عوام کی خوشحالی کا ذریعہ قرار دے، اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

مفاہتمی حکمرانوں کی پٹاری سے ابھی جو تازہ چیز برآمد ہوئی ہے،وہ اسلام آ باد ہائی کورٹ کے ججز کے متعلق کمشن کی سفارشات کو صدر مملکت کی طرف سے نامنظور کرنا ہے۔ جس سے ایک نیا پنڈورا باکس یقیناً کھل گیا ہے۔ صورت احوال یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اقبال حمیدالرحمان کو سپریم کورٹ میں مقرر کرنے، جسٹس انور کاسی کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بنا نےاور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بطور جج مستقل کرنے اور جسٹس قادری کی مدت میں توسیع کی سفارشات کی منظوری حکومت کی اپنی آئینی ترامیم کے تحت تشکیل کردہ متعلقہ فورم سے دی جا چکی ہے، مگر صدر نے اس کی سفارش منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔



بدھ کو اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے بینچ کے فاضل رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ انیسویں آئینی ترمیم کے تحت ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی سے منظور ہونے کے بعد وزیراعظم معاملے کونوٹی فیکیشن کے لیے صدر کو بھیجے گا اور صدر نوٹی فیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کریں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ وزیر اعظم کے پاس نام صدر کو نہ بھیجنے اور صدر کے پاس نوٹی فکیشن جاری نہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری کے بعد وزیراعظم اور صدر کا کردار ڈاک خانے کا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت میں اٹارنی جنرل حسب سابق جارحانہ رویے سے ججز کو مشتعل کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی کمپوزیشن پر اعتراض تھا تو اسے چیلنج کر دیا جاتا۔ اس پر بھی اٹارنی جنرل نے ’’ٹُھک‘‘ کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔

ایک موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت خطرناک دلائل دے رہے ہیں۔ ان دلائل کو مان لیا جائے تو افراتفری پیدا ہو گی آئین کے تحت سرانجام دیے گئے امور کو کسی کو غیر آئینی کہنے کا اختیار نہیں۔ایک موقع پر جسٹس کھوسہ نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ یہ ہدایات بھی لیں کہ انہوں نے اپنی دلیل کو تحمل اور پیار و محبت کے ساتھ پیش کرنا ہے یا لڑائی لڑنا ہے۔ سپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تقرر سے متعلق آئینی پٹیشن باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر چکی ہے، اب اس کی سماعت پتا نہیں کب تک جاری رہے۔



سوچنے کی بات یہ ہے کہ ججز کے تقرر کے حوالے سے اٹارنی جنرل کا لہجہ اتنا کرخت کیوں ہے؟ دراصل یہی ججز آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر چکے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا فیصلہ کیا ہو گا اور کب آئے گا۔ہو سکتا ہے آرمی چیف کے ریٹائر ہونے کے بعد ہی فیصلہ آئے ، جس کا عملی طور پر جنرل کیانی پر زیادہ اثر شاید نہ پڑے۔ مگر کیا ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے معاملہ ختم ہو جائے گا۔ ہمارے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ آئینی پٹیشن تو ججز نے بطور ادارہ منظور کی ہے، ان کی جگہ کوئی اور جج بھی آئے گا تو وہ سماعت کرے گا۔ تاخیر کی صورت ضرور نکل سکتی ہےاور لگتا ہے اسی کے لیے اٹارنی جنرل کوشاں ہیں مگر ان کی کوششیں باور آور ہونے کا امکان کم ہی ہے۔



عرفان قادر اس دور حکومت میں شاید واحد اٹارنی جنرل ہیں جو آئینی و قانونی معاملات میں وفاق کی نمائندگی اور عدالت کی معاونت کرنے کے بجائے حکومت کی نمائندگی اور عدالت کے ساتھ ''متھا'' لگانے کے لیے ہر وقت تیار نظر آتے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ عدالتی فیصلے سے بطور جج متاثر ہونے والے عرفان قادر آگے کی سوچیں اور آئینی معاملات میں عدالت کی معاونت کر کے تاریخ میں اپنا نام لکھوائیں۔ آئینی ، قانونی اور عدالتی محاذوں پر بار بار کھلنے والی حکومتی پٹاری کا منہ بند کروا دیں۔وہ ''اَگا دوڑ ، پِِچھا چَوڑ'' کی پالیسی رکوانے میں بھی کردار ادا کر کے خود پر ماضی میں لگے داغوں کا مٹا سکتے ہیں۔ایک قانون دان کی حیثیت سے ان کا فرض ہے کہ وہ مثبت سوچ اپنائیں۔اختیار واقتدار تو آنی جانی چیز ہے۔صاحب اقتدار بلند اخلاقی کردار کے ساتھ ہی تاریخ میں امر ہوسکتا ہے۔
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.