.

ڈی ایٹ کانفرنس ۔ مسلمان کیا کریں؟

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی کا سابق وزیر اعظم مرحوم ڈاکٹر نجم الدین اربکان مسلم دنیا کا ایک روشن ستارہ تھا جس نے 1996ء سے 1997ء تک ترکی پر تاریخ میں پہلی دفعہ بطور راسخ العقیدہ مسلمان وزیر اعظم ایک مختصر مدت کے لئے حکومت کی اور اسلامی دنیا کو جوڑنے کےلئے بہت سارے اقدام اٹھائے۔ ایک اہم قدم کا قیام تھا جو جون 1997ء میں Developing (Eight D-8) ترکی میں عمل میں لایا گیا۔ یہ اتحاد آٹھ 'پھنے خان' مسلمان ریاستوں کا تھا جس میں ترکی، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، ملائشیا، انڈونیشیا اور نائیجریا کو شامل کیا گیا۔ مسلم دنیا کے یہ آٹھ ایسے ممالک ہیں جہاں مسلمان ریاستوں کے 60 فیصد لوگ بستے ہیں۔ یہ آٹھ ریاستیں، آبادی کے علاوہ، دفاع، معیشت اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلم دنیا کا دل ہیں۔ اس اتحاد کے چار بڑے مقاصد کچھ یوں بیان کئے گئے۔

1- مسلمان ترقی پذیر ممالک کی بین الاقوامی معیار کے مطابق معاشی حالت کو بہتر کرنا۔

2۔ باہمی تجارت کو فروغ دینے کےلئے نئے راستوں کا تعین کرنا۔

3۔ اپنے وجود کی اہمیت کو بڑھا کر بین الاقوامی معاہدوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا۔

4۔ اپنے ممالک میں بسنے والے لوگوں کی مالی حالت کو بہتر کرنے کیلئے زراعت، صنعت، تجارت، بیکنگ سروس، دیہی خوشحالی، صحت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا۔

پچھلے پندرہ سال میں ان چوٹی کے آٹھ مسلمان ممالک کے سات اجلاس ہو چکے ہیں۔ 2006ء میں جب اس گروپ کی پانچویں کانفرنس انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہوئی تو سب ممالک آپس میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر متفق ہو گئے لیکن حیرانگی کی بات یہ تھی کہ بنگلہ دیش نے اس معاہدے پر دستخط نہ کئے۔ ساتواں اجلاس نائیجریا میں دو سال قبل ہوا اور اب ان ممالک کی کانفرنس کا آٹھواں اکٹھ اسلام آباد میں ہوا ہے جس میں اس بہت اہم فورم کی قیادت کا اعزاز پاکستان کو بخشا گیا۔ اس اہم کانفرنس میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد اور ملائشیا کے وزیر اعظم حاجی محمد ناجب عبدالرزاق نے شرکت سے معذرت کر لی۔ حسینہ واجد کی شرکت سے معذرت کی سمجھ تو آتی ہے۔ چونکہ شروع سے ہی شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی کی ہمدردیاں ہندوستان سے زیادہ اور پاکستان سے کم ہیں اور بنگلہ دیش اب زبردست ہندوستانی دباﺅ کے نیچے ہے۔

لیکن ملائشیا کے وزیراعظم جو ملائشیا کے دوسرے وزیراعظم حاجی عبدالرزاق کے فرزند ہیں، کی معذرت کا ابھی تک کوئی جواز سامنے نہیں آ سکا۔ بنیادی طور پر چوٹی کے آٹھ مسلمان ملکوں کا یہ اتحاد تو معاشی خوشحالی کےلئے ہے لیکن معاشی خوشحالی امن کے بغیر ممکن نہیں اس لئے جہاں یہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت بڑھانے، انرجی، صحت، زراعت، تعلیم اور ماحولیات کے معالات پر سنجیدہ گفتگو بھی کریں لیکن یہ بات بھی ذہن میں ضرور رکھیں کہ D-8 ایک دو طرفہ معاملات کو طے کرنے کا اتحاد نہیں۔ اگر ان آٹھ ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ صرف دو طرفہ روابط کو استوار کرنا ہے تو پھر D-8 کی ضرورت نہیں۔ یہ فورم تو ایک ملٹی لیٹرل اجتماعی آواز اٹھانے کا فورم ہے۔ جس کے قیام کے مقاصد میں ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی فیصلوں میں اس فورم کی آواز کو سنا جائے اس لئے تجارتی معاہدوں اور ٹریڈ پیکٹس کے علاوہ تجارتی ماحول پیدا کرنے کےلئے ضروری امن کی فضا کی خاطر ان کو مندرجہ ذیل مطالبات بھی پر زور طریقے سے کرنے چاہئیں۔

1۔ مغرب میں اسلام فوبیا کی بیماری کینسر کی طرح پھیل رہی ہے۔ اسکے علاج کےلئے ایسا سیاسی و سفارتی نسخہ تجویز کیا جائے جس سے مغرب کی بیمار ذہنیت کو شفا مل سکے۔ Side-effects نہ ہوں اور وہ ہمارے نبی کریم کے خلاف توہین آمیز رویے سے باز آ جائیں۔

2۔ فلسطینی مسلمانوں پر مغربی اور خصوصاً امریکی ناجائز بچے اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کو روکنے کا صرف پرزور مطالبہ ہی نہ ہو بلکہ مصر اسرائیل سے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کی تنسیخ کرے اور ترکی شام کے اندر خانہ جنگی کو بند کروائے یا اس مقصد کےلئے D-8 ممالک پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس کا حل تلاش کرے۔ اسرائیل نے امریکی انتخابات کے فوراً بعد امریکی اشاروں پر تازہ جارحیت کا ارتکاب کیا۔

3۔ افغانستان پر بیرونی ممالک کی یلغار، پاکستان پر ڈرون حملے، کشمیر سے تعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ایران سعودی عرب غلط فہمیوں کو دور کرنے کےلئے بھی کوئی پالیسی وضع کرنا اس لئے ضروری ہے کہ چونکہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی میدان جنگ اور جنوبی ایشیا میں کشمیر فلیش پوائنٹ اور پاکستان پر مسلط ڈرون جنگ سے معاشی ترقی کا ماحول بالکل پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر پچھلے پندرہ سالوں سے D-8 کے ممالک کوئی بڑا بریک تھرو نہیں کر سکے تو اس کی بڑی وجہ پچھلے دس بارہ سالوں سے جاری عراق اور افغان جنگیں ہیں جس کی وجہ سے 40 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور ہماری معیشت تباہ ہو گئی۔

4۔ پاکستان جیسے بہت اہم ایٹمی ملک کی انرجی کی ضروریات اور تجارت کے فروغ کے لئے ہونےوالے پاک ایران گیس پائپ لائن کے معاہدے اور گوادر بندرگاہ کو operational کرنے کےلئے پاک چین ایگریمنٹ بڑی طاقتوں کی بین الاقوامی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں D-8 کا تعاون ضروری ہے۔

5۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی معاشی حالت بہتر کرنے کےلئے دفاعی سامان تیار کر کے پوری دنیا میں فروخت کرتی ہیں۔ امریکہ روس، چین، برطانیہ اور فرانس دنیا میں اربوں ڈالرز کا اسلحہ گولہ بارود، جہاز، ٹینک اور آبدوزیں فروخت کرتے ہیں۔ ترکی، مصر، پاکستان اور ایران D-8 کے ایسے پائیدار ممالک میں جو دفاعی پیداوار میں آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتے ہیں۔ ان کا ایک اتحاد قائم ہونا چاہئے تاکہ نہ صرف ہم دفاعی سامان میں خود کفیل ہوں بلکہ اس کو فروخت کر کے زر مبادلہ بھی کمائیں۔ میں نے ان سارے ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کا خود معائنہ کیا ہوا ہے۔

6۔ D-8 کے ممالک OIC کے مردہ جسم میں بھی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف Political Will اور وژن کی ضرورت ہے۔

7۔ D-8 کو اسلامک نیوز ایجنسی اور اسلامک براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (IBC) کا قیام بھی عمل میں لانا چاہئے۔ چونکہ اس صدی میں ہماری قومی سلامتی کی جنگیں زیادہ ذرائع ابلاغ لڑ رہے ہیں۔

قارئین آخر میں میری عرض یہ ہے کہ طاقتور ہمسایوں اور بڑی طاقتوں سے بہترین باعزت دو طرفہ تعلقات مسلمان ممالک کے مفاد میں تو ضرور ہیں لیکن اس منزل کے حصول کےلئے اگر ہم کمزوری دکھائیں گے یا دوسروں کے آگے لیٹ کر ہر بات پر سرتسلیم خم کریں گے تو پھر ہم منزل سے دور ہو کر مطلوبہ نتائج حاصل نہیںکر سکیں گے۔ ان اشعار پر کالم کا اختتام کرنا چاہتا ہوں:

تازہ ہوا کے شوق میں اے ساکنان شہر

اتنے نہ در بناﺅ کہ دیوار گر پڑے

جھک کر سلام کرنے میں ہرج نہیں مگر

اتنا نہ سر جھکاﺅ کہ دستار گر پڑے

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.