.

ممبئی کے مزے لاہور میں بھی

عبد القادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
میں آپ کو پہلے بھی یاد دلا چکا ہوں کہ بھارتیوں کی اطالوی بہو سونیا گاندھی نے ایک بار جب دونوں ملکوں کے درمیان تلخی زیادہ بڑھ گئی تو کہا تھا کہ بھارتی پاکستانیوں کی فکر نہ کریں انھیں ہماری فلمیں اور رقص و سرور ہی لے ڈوبے گا۔

ادھر کچھ عرصے سے مجھے سونیا گاندھی کی یہ بات بہت یاد آ رہی ہے کہ اس غیر ملکی خاتون نے کتنی سچی بات کہی تھی۔ نتیجہ خدا کرے وہ نہ نکلے جو سونیا نے نکالا تھا لیکن پاکستانی بھارتی فلموں کے جادو میں ڈوبتے جا رہے ہیں اور بھارت کی طرحدار فلمی ناریوں کی ادائوں اور رقص میں کھوئے جا رہے ہیں۔ اخباروں کا بنڈل جب صبح میرے گھر کے صحن میں گرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے میرے سر پر پتھر مار دیا ہے۔ ان اخباروں خصوصاً اردو اخباروں جن کو پاکستانی زیادہ پڑھتے ہیں اپنا ایک پورا رنگین صفحہ بھارتی کلچر یعنی فلم کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔

ہر اخبار کا پورا رنگوں سے سجا صفحہ ہماری نئی ذہنی غلامی کا پتہ دیتا ہے یعنی یورپ کے بعد اپنے جیسے پڑوسی کی غلامی جو ہمارا چھپا نہیں کھلا دشمن ہے۔ پہلے اس نے ہمارا آدھا ملک ہم سے توڑ لیا اب باقی ماندہ کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ ہم یہ سب کھلی آنکھوں سے مزے مزے میں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے اپنے ہمیں بتاتے ہیں کہ باہر کا ایک خفیہ ہاتھ ہمیں چھیڑ رہا ہے۔ اس ایک ’خفیہ‘ ہاتھ کا ذکر ہم گزشتہ چار برسوں سے سن رہے ہیں اور ہماری حکومت نے ایک وزیر ہمیں اس ہاتھ کو مسلسل یاد دلانے کے لیے رکھا ہوا ہے لیکن ڈر اور خوف کا یہ عالم ہے کہ کوئی اس ہاتھ والے کا نام نہیں لیتا جب کہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ یہ ہاتھ بھارت کا ہاتھ ہے۔ وہی بھارت جس کے سب سے بڑے ہتھیار یعنی فلم کو ہم خود اپنے خرچ پر بنا سنوار کر اپنے پاکستانی قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

بھارت کو اپنے ان مہربانوں کو ویر چکر قسم کا کوئی تحفہ دینا چاہیے کیونکہ بھارت کے لیے ان کی خدمات کسی بھارتی فوجی سے کم نہیں ہیں۔ میں یہ اب اپنے خلاف لکھ رہا ہوں کیونکہ میں خود اسی پریس کا ایک کارکن ہوں جس کو بھارتی ہاتھوں نے مروڑ اور دبوچ رکھا ہے اور میں اندر سے کچھ ایسا ہو چکا ہوں کہ مزے میں ہوں، سونیا گاندھی ملے تو میں اس سے کہوں کہ اپنے اس زندہ شکار کو تھپکی دو جو تمہاری پیش گوئی کا ایک نمونہ ہے اور ہر روز پلے سے خرچ کر کے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔

فلموں کے پرانے اداکاروں اور دوسرے لوگوں کو میں پہلے سے جانتا تھا جب ہندوستان اور بعد میں بھارت اور پاکستان کی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ ان فلموں کے کئی اداکار دلیپ کمار جیسے مسلمان تھے اور میوزک ڈائریکٹر تو زیادہ تر مسلمان تھے مثلاً نوشاد وغیرہ اور محبوب جیسے فلمساز بھی مسلمان تھے لیکن فلم میں ہندو مسلم کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا، اسے محض تفریح سمجھا جاتا تھا۔ مجرا تھا جس کی ویل ٹکٹ کی صورت میں ادا کر دی جاتی تھی۔ فرصت ہوئی اور موڈ ہوا تو کسی سینما میں گھس گئے۔ اور کوئی گیت پسند آیا تو گنگناتے ہوئے باہر نکل آئے۔ فلم محض ایک ہلکی تفریح تھی پروپیگنڈا نہیں تھا کیونکہ دوست اور مخالف کا زمانہ نہیں آیا تھا۔ اگر یوسف خان دلیپ کمار کے ہندو نام سے کام کرتا تھا تو کوئی بات نہیں تھی کوئی اس کا نوٹس نہیں لیتا تھا، وہ تو پاکستان کے قیام کے بعد بھارتی جارحیت کی وجہ سے دوستی اور دشمنی کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔

جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو برصغیر کے ہندو مسلم تعلق کو ایک نئی صورت ملی جس میں آج بھارتی فلموں کے صفحوں کے صفحے ہر صبح میرے اندر ایک کڑواہٹ گھول دیتے ہیں۔ ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے اس پر جلتی کا کام کیا ہے جو دن رات اپنے ہر گھنٹے میں باقاعدگی کے ساتھ چند منٹ بھارتی فلم انڈسٹری کے مناظر دکھاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کا ایک اداکار مر گیا تو ہمارے ٹی وی والے اتنے روئے پیٹے کہ پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کیا ان ٹی وی والوں کا کوئی باپ مر گیا ہے۔

غرض بھارتی کلچر کے فروغ میں پاکستانی میڈیا دل و جان سے مصروف ہے اور خطرہ ہے کہ کسی دن یہ سلسلہ اس قدر بڑھ جائے کہ ہر دوئی مٹ جائے۔ کیا حکومت کو اس خطرے کا احساس ہے یا وہ اس میں خود شریک ہے کیونکہ اقتدار میں آتے ہی ہمارے صدر صاحب نے فرمایا تھا کہ ہر پاکستانی اور ہر ہندوستانی کے دل میں ایک بھارتی اور پاکستانی چھپا بیٹھا ہے۔ کیا یہی چھپے ہوئے پاکستانی اور بھارتی اب باہر نکل رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.