.

باتیں کچھ برما کی

جاوید حفیظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں صدر اوباما برما میں ہیں۔ مغربی ممالک برما میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کو لالچ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہی صورت حال ہندوستان کی ہے۔ مغربی ممالک اور ہندوستان برما کو چین کے دائرہ سے نکال کر اپنے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مغربی اور ہندوستانی سرمایہ کار برما کا رخ کر رہے ہیں ار حکومتیں بھی فراخ دلی سے اقتصادی امداد دینے کے موڈ میں ہیں۔

برما کا ذکر آتے ہی برکھا رت ، رم جھم اور ساگوان کے درخت نظر میں گھوم جاتے ہیں اور چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ۔ دوشنبے کی سختیاں کاٹنے کے بعد میں نے 1997 میں برما بطور سفیر جانے میں عافیت دیکھی۔ مگر اس گوشہ عافیت میں دس ماہ سے زیادہ نہ رہ سکا۔ مگر وہ دس ماہ یادگار تھے۔ مارشل لا نے ملک کو پوری قوت سے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ البتہ ملک کی سب سے بڑی رنگون یونیورسٹی آٹھ سال سے بند تھی کیونکہ جرنیلوں کو ڈر تھا کہ طالب علم آتے ہی جمہوریت کے لئے مظاہرے شروع کردیں گے۔ مادام آنگ سانگ سوچی اپنے گھر میں نظر بند تھیں۔

ہندوستان کے لئے برما اب بھی بہت اہم ہے۔ ایک ہزار کلومیٹر کے لگ بھگ بارڈر ہے۔ یہاں سمگلنگ زور شور سے ہوتی تھی۔ بارڈر کے علاقے میں گھنے جنگلات بھی ہیں۔ ہندوستان کی وہ سات ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے اور جہاں علیحدگی کی تحریکیں عرصے سے چل رہی ہیں اسی ایریا میں واقع ہیں۔ علیحدگی پسند ہندوستانی تھائی لینڈ سے اسلحہ خرید کر اسی راستے سے سگل کرتے ہیں۔ جب میں 1997ء میں رنگون پہنچا تو ہندوستان کے سفیر شیام سرن نے مجھے بتایا کہ ہم بارڈر کے ایریا میں کافی سڑکیں بنا رہے ہیں۔ بلکہ برما کی حکومت اور برمی لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ہندوستان برما کے اندر بھی مفت سڑکیں بنا رہا تھا لیکن اصل مقصد اپنے ملک کی سیکیورٹی کو طاقت ور بنانا تھا۔ میرا خیال ہے کہ ہندوستان کے لئے اتنی بڑی انویسٹمنٹ کو کیش کرنے کا وقت اب آگیا ہے اور امریکہ بھی خوشی خوشی ہندوستان کو برما کا تھانیدار بنا دے گا۔

اب آتے ہیں برما کے مسلمانوں کی طرف۔ سلطنت مغلیہ اور برطانوی دور میں برما انتظامی طور پر ہندوستان کا حصہ تھا۔ برما میں تیل 1902ء میں دریافت ہوا۔ تیل کی دریافت کے ساتھ ہی خوش حالی آئی۔ برصغیر سے اور چین سے کافی لوگ برما چلے گئے۔ ان میں کافی بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ عرب تاجر تو صدیوں سے برما بحری راستے سے آرہے تھے۔ ان کی اولاد ایک بڑی تعداد میں یہاں آباد ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برما کی آبادی 60 ملین ہے اور اس کا 4 فیصد مسلمان ہیں۔ لیکن مسلمان یہ کہتے تھے کہ وہ اصل میں آبادی کا 8 فیصد ہیں۔ برما کی بدھ حکومت مسلمانوں کو دبا کر رکھنا چاہتی تھی۔ 1962ء میں جنرل نی وِن کی حکومت آئی تو مسلمانوں کو فوج سے فارغ کر دیا گیا۔ جنرل نی ون سوشلزم کا حامی تھا۔ بڑے پیمانے پر نیشلائزیشن ہوئی۔ مسلمان چونکہ خوش حال تاجر تھے لہذا ان کی جائیداد بحق سرکار ضبط ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برمی حکومت نے یہ جائیداد غریب برمی بدھ لوگوں میں تقسیم کر دی۔ اب یہ لوگ چونکہ تجارت کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے لہذا جنرل نی ون کے جاتے ہیں ہی اصل مالکان نے اہنی جائیدادیں ان لوگوں سے واپس خرید لیں۔

یہاں صوبہ ارکان کے مسلمانوں کا ذکر بے حد ضروری ہے۔ پچھلے پانچ ماہ سے ان پر بہت ظلم ہورہا ہے۔ یہ لوگ، سفر کر سکتے ہیں اور نہ ہی جائیداد خرید سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اس مسلمان اقلیت، جنہیں عرف عام میں روہنگیا کہا جاتا ہے، کو دنیا کی سب سے مظلوم اقلیت مانتی ہے۔

قارئین جانتے ہیں کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر 1857ء میں قید ہونے کے بعد رنگون منتقل کر دئیے گئے۔ رنگون میں ان کے مزار پر آج بھی یہ شعر کنندہ ہے۔

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

1985ء کے لگ بھگ ہندوستانی حکومت نے بہادر شاہ ظفر کی قبر کے پاس مسجد بنوائی۔ میں جمعہ کہ نماز اکثر وہیں پڑھتا تھا۔ بلکہ ایک اہم بات یہ ہے کہ جب مسجد کے لئے کھدائی ہوئی تو آخری مغل بادشاہ کی اصل قبر دوبارہ دریافت ہوئی۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اور اگر یہ بات صحیح ہے تو پہلی قبر کس کی تھی۔ تفصیل یہ ہے کہ انگریزوں کو ڈر تھا کہ بہادر شاہ ظفر کے جنازہ کے لئے اگر اطلاع عام دی گئی تو ہنگامہ نہ ہوجائے چنانچہ آخری مغل بادشاہ کو صرف چند لوگوں کی موجودگی میں خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔ پہلے والی قبر ان کی بیگم کی ہے۔ اس کے ساتھ خاندان کے لوگوں کی تین قبریں اور ہیں۔ بہادر شاہ ظفر کی قبر ان قبروں سے تیس چالیس گز دور ہے اور اس وقت مسجد کے تہہ خانے میں ہے جبکہ اہل خانہ کی قبریں زمینی سطح پر ہیں۔

1990ء کی دہائی میں پاکستانیوں نے سوچا کہ بہادر شاہ ظفر کے احاطے میں بنی ہوئی عمارتوں میں پاکستان کا حصہ ضروری ہے۔ جب میں رنگون پہنچا تو سفارت خانہ کے پاس تعمیراتی کام لے لئے فنڈ موجود تھے لہذا میں نے ایک نقشہ بنوا کر تجویز برما کی حکومت کو ان کی منظوری کے لئے بھیج دی۔ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق برما کی بیوروکریسی بھی بہت سست ہے۔ میں نے بہت بھاگ دوڑ کے بعد برما کی حکومت کی منظوری لے لی اور میاں نواز شریف کو رنگون کے ہوائی اڈہ پر اس امر کی خوش خبری بھی سنا دی۔ بدقستی سے مجھے جلد ہی رنگون چھوڑنا پڑا اور وہ بھی بہ امر مجبوری۔ ایک صاحب جن کا نام عامر حفیظ بٹ تھا وہ وہاں بطور سفیر بھیجے گئے۔ یہ میاں نواز شریف کے برادر نسبتی تھے۔ لاہور کی کسی ٹریکٹر کمپنی میں اکاوَنٹنٹ تھے اور ڈپلومیسی کی اب ج د سے بھی واقف نہ تھے۔ میرے رنگون سے جانے کے بعد ہندوستانی سفارت خانے نے برمی حکام سے کہا کہ بہادر شاہ ظفر تو ہندوستاں کا بادشاہ تھا۔ پاکستان کا اس سے کیا تعلق۔ پاکستانی سفارت خانہ نے جو مسجد کے ساتھ لائبریری اور زائرین کے لئے آرام گاہ کی تجویز پیش کی ہے اسے آپ رد کریں۔ برما کی حکومت نے ہندوستانی اعتراض کو شرف قبولیت بخشا اور یوں پاکستان آخری مغل فرمانروا کے مزار میں اپنا حصہ نہ ڈال سکا۔

میں نے برما میں بہت غربت دیکھی ہے۔ یہاں کے دیہات بہت پسماندہ ہیں۔ اس زمانے میں آسیان کا برما نیا نیا ممبر بنا تھا اور عالمی تنہائی سے نکل کر دنیا کا حصہ بن رہا تھا۔ سیاح بہت آرہے تھے۔ نئے نئے ہوٹل بیرونی سرمایہ کاری سے تعمیر ہو رہے تھے۔ البتہ مسلمان اس وقت بھی پریشان نظر آتے تھے۔ رنگون میں کسی نی کسی بہانے سے ہر سال ایک دو مسجدیں شہید کردی جاتی ہیں۔ کیا برما کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ 1962ء سے ہو رہا ہے وہ ایک درس عبرت نہیں۔ برما کے مسلمان بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، پاکستان اور سعودی عرب میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور ارکان کے باسی اپنے ہی ملک میں شہریت کے بغیر ہیں۔ اور یہ ہندوستانی بھی عجیب لوگ ہیں ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا بہادر شاہ ظفر سے کیا تعلق اور دوسری جانب بھگت سنگھ کا نام استعمال کر کے ہمارے شادمان چوک کو "مشترکہ سرمایہ" بنا رہے ہیں۔

نوٹ:میں نے برما، رنگون اور ارکان کے پرانے نام اس لئے استعمال کئے ہیں تا کہ قاری کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ آج کل ان کے نام تبدیل شدہ ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.