.

مارک ٹیلی نے دیکھا ہم نے نہیں دیکھا

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یہ کوئی نئی خبر تو نہیں کہ کراچی اور کوئٹہ، پشاور اور پنڈی لہو لہان ہیں۔ قتل ہونے والوں کی بوری بند لاشوں اور بارودی دھماکوں میں پارہ پارہ ہو جانے والوں کا ذکر بھی پرانی بات ہو چکا ۔یہ بات کہ کراچی سے ایک ٹرک پکڑا گیا، جس میں بارود بھرا ہوا تھا یا یہ کہ پشاور اور کوئٹہ، اسلام آباد اور اوکاڑہ سے ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ ہاتھ لگی ہے حیران کر دینے والی بات نہیں۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب ہتھیاروں کو کراچی یا سارے ملک سے برآمد کرنے کی مخالفت ہوتی ہے۔ کوئی کہتا ہے پہلے اسلحہ بنانے والے کارخانے سیل کرو اور کسی کی فرمائش ہوتی ہے کہ کراچی سے پہلے کسی اور شہر کی تلاشی لی جائے۔ کسی کا یہ 'دانشورانہ بیان' سامنے آتا ہے کہ کراچی سے ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا تو 6 مہینے میں پھر آ جائے گا۔ یہ بیانات دینے والے، یہ باتیں کرنے والے خوش رہیں لیکن کراچی یا پاکستان کا عام شہری جو ہر لحظہ خوف میں مبتلا ہے، وہ ان بیانات کو سن کر کیسے مطمئن ہو سکتا ہے۔

ناجائز ہتھیاروں کی جب بات ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ ٹینک، توپیں اور بمبار طیارے زیر بحث نہیں آتے۔ یہ چھوٹے ہتھیار ہیں جنہوں نے ہمارے ہزاروں لوگ نگل لیے ہیں۔ ہزاروں خاندان بے آسرا ہو گئے اور لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ خوف اور بے یقینی کے آسیب میں گرفتار ہو گئے۔ وہ خود سے زیادہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے ہر لحظہ دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن جانتے ہیں کہ ان کی دعائیں بلٹ پروف گاڑیاں نہیں جن پر دہشت گردوں کی چلائی ہوئی گولیاں اثر نہ کریں۔ ہر وہ ملک جو کسی نہ کسی سطح پر نسلی یا علاقائی تناؤ کا شکار ہے یا جہاں دوسرے علاقوں یا ملکوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور وہ لوگ اسلحے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ وہاں صوبائی اور وفاقی حکومتیں صرف مہلک چھوٹے اسلحے کی غیر قانونی خرید وفروخت کو ہی سختی سے کچلنا نہیں چاہتیں بلکہ وہ غیر مہلک چھوٹے ہتھیاروں کے بھی خلاف ہیں۔ چند دنوں پہلے ماسکو میں ہونے والی ایک شادی کے شرکاء جو داغستان سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے شادی کے جلوس میں اپنی روایات کے مطابق جی کھول کر ہوائی فائرنگ کی، نتیجے میں دولہا اور اس کے پندرہ جوان اور فیشن ایبل ساتھی گرفتار ہوئے۔

اس واقعے نے روسی حکومت کو پریشان کر دیا۔ صدر اور وزیر اعظم دونوں نے اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دیا۔ ماسکو میں ہی ایک نوجوان خاتون پر اس لیے مقدمہ چل رہا ہے کہ رات گئے سفر کرتے ہوئے اس نے نشے میں دھت چند نوجوانوں پر اپنی پستول سے ربر کی گولیاں داغیں جن میں ایک گولی نوجوان کے پھیپھڑے میں گھس گئی اور اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ روسی پولیس کا کہنا ہے کہ ربر کی گولیاں اگر کسی کو شدید زخمی کر دیں تو یہ بات قانون کے خلاف ہے۔ ان دنوں وہاں غیر مہلک چھوٹے ہتھیاروں کی قانونی خرید و فروخت پر سخت گرفت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف روس جیسی وسیع اور پولیس کا سخت گیر نظام رکھنے والی مملکت ہے جو غیر مہلک چھوٹے ہتھیاروں کے بارے میں اس قدر حساس ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ جس کے ہزار ہا لوگ مہلک ہتھیاروں سے ہلاک کر دیے گئے اور جس پر دہشت گرد قبضہ رکھنے کے عزائم رکھتے ہیں، لیکن ناجائز اسلحے کے خلاف کسی کارروائی کے بارے میں سب ہی نیم دلی کا شکار ہیں۔

اس وقت مجھے اٹھارہ برس پہلے چھپنے والا ایک مضمون یاد آ رہا ہے جو بی بی سی کے ایک اہم نمایندے مارک ٹیلی نے لکھا تھا اور جس کا عنوان ہی’’چھوٹے ہتھیار ‘‘ تھا۔ یہ ایک طویل تحقیقاتی اور نہایت معلومات افزا مضمون ہے۔ اس میں جو اعداد و شمار دیے گئے ہیں وہ آج یقیناً بہت پرانے ہو چکے ہیں لیکن اس کی خوفناکی آج بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ مارک ٹیلی نے اپنے اس طویل مضمون میں پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور سری لنکا کے بارے میں بہت سی تفصیلات بیان کی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب سری لنکا دنیا کی بدترین خانہ جنگی کا شکار تھا اور تامل لڑکوں کی دہشت گردی کی دھاک دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ چھوٹے ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے مغرب کو کسی قسم کی دلچسپی کیوں نہیں ہے اس نے لکھا کہ ’’جنوبی ایشیا کے بہت سے لوگ اس عدم دلچسپی کو اس امر کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ مغرب کو بڑے بڑے مسائل پر صرف اُسی وقت تشویش محسوس ہوتی ہے جب یا تو اسے خود نقصان پہنچ رہا ہو یا وہ تیسری دنیا پر کسی معاملے میں فوقیت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ میں خود سے بھی یہ سوال کرتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بارے میں اس قدر تشویش ہے اور چھوٹے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی کوئی خاص پروا نہیں۔

میرے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے خود ہمیں خطرہ محسوس ہوتا ہے جب کہ چھوٹے ہتھیاروں کے پھیلائی ہوئی تباہی یورپ کے سرحدی علاقوں اور ترقی پذیر ملکوں خصوصاً افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ملکوں تک محدود رہتی ہے۔ بلاشبہ ہم انگریزوں کو شمالی آئرلینڈ میں چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی سخت فکر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے 77 ہلاکت خیز تنازعات میں سے 65 تنازعات ترقی پذیر ملکوں میں پیش آ رہے ہیں۔ جنگ کے ان حالیہ میدانوں میں سپاہیوں اور شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والے ہتھیار ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ غیر ایٹمی چھوٹے ہتھیار ہیں۔ اگر ہم انگریزوں کو اپنے ہم وطنوں کے اسی طرح کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا، جیسے کشمیر، سری لنکا، صومالیہ، کمبوڈیا اور تیسری دنیا کے متعدد دوسرے ملکوں کے باشندے ہلاک ہو رہے ہیں تو کیا تب بھی ہم چھوٹے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے سلسلے میں اتنے ہی بے پروا اور بے عمل رہتے؟ کیا تب بھی ہم جنوبی ایشیا میں مسائل پیدا کرنے والی امریکی پالیسیوں کی اسی شدومد سے حمایت کرتے"؟ وہ ایک پاکستانی جریدے کا حوالہ دیتا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے۔ ’’کراچی ایک ایسے چھوٹے قبائلی علاقوں میں تقسیم ہو چکا ہے جن پر مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ٹوٹے ہوئے دہشت گرد ٹولوں کا راج ہے اور ان کے باہمی رقابتیں بے حد پیچیدہ ہو چکی ہیں اور حکام کے بس میں صرف اتنا رہ گیا ہے کہ شہر بھر میں گھوم پھر کر لاشیں جمع کر لیا کریں۔‘‘

چھوٹے ہتھیاروں کے مہیب پھیلاؤ کو وہ امریکا کی افغان مجاہدین کو غیر ذمے دارانہ طور پر اسلحہ سپلائی سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر کرس اسمتھ کا حوالہ دیا ہے کہ 1987 میں امریکا کی طرف سے مجاہدین کو دیے جانے والے یہ مہلک ہتھیار 65 ہزار ٹن سالانہ تک جا پہنچے تھے۔ یاد رہے کہ یہ اب سے 25 برس پرانے اعداد و شمار ہیں۔ وہ یہ کہتا ہے کہ ’’اگرچہ ہندوستان یا پاکستان کی ریاستوں کے ٹوٹنے کا کوئی فوری خطرہ نہیں، تاہم چھوٹے ہتھیاروں کے پیدا کیے ہوئے خطرے آخر کار ایسے کسی سانحے کا سبب یقیناً بن سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہی خطرہ ہے کہ اس قدر آسانی سے دستیاب ہتھیار دور دور تک پھیل جائیں گے۔ پاکستان میں تو یہ ہتھیار کراچی اور صوبہ سندھ سے باہر پھیل چکے ہیں۔ اب پاکستانی صوبہ پنجاب میں شیعوں اور سنیوں کی عبادت گاہوں پر مسلح حملے ہونے لگے ہیں۔ پچھلے سال صوبے سرحد کے مالاکنڈ نامی علاقے میں ایک مذہبی لیڈر مولانا صوفی محمد نے بیشتر سرکاری عمارتوں اور ایک ائیر پورٹ پر قبضہ کرلیا تھا اور دو ججوں اور ایک سرکاری اہلکار کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پاکستان میں بی بی سی کے رپورٹر ظفر عباس نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ’’بغاوت کی خبر پھیل جانے پر سیکڑوں افراد پہاڑوں پر سے اترنے لگے جن میں سے اکثر نے کالی پگڑیاں باندھ رکھی تھیں اور پستول اور کاربائن سے لے کر کلاشنکوف (AK-47) رائفلوں تک ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس تھے۔‘‘نیم فوجی دستوں کی کئی ہزار کی نفر ی کو علاقے کاکنٹرول واپس لینے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگا اور اس پر بھی انھیں مولانا کا مطالبہ ماننا پڑا کہ علاقے میں پاکستانی قانون کی جگہ اسلامی یا شرعی قانون نافذ کیا جائے۔

مارک کا یہ مضمون چشم کشا ہے۔ اس میں وہ یورپ اور امریکا کی حکومتوں، مغرب میں اسلحہ تیار کرنے والے کارخانوں اور تمام متعلقہ افراد پر شدید نکتہ چینی کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ذمے دار افراد اور اداروں نے اٹھارہ برس پرانے اس تحقیقاتی مضمون تک شاید نہیں پڑھا اور اگر پڑھا تو ایک ایسے ’گورے‘ کی بکواس سمجھی جو یہ کہتا ہے کہ میں بہ یک وقت انگلستان اور ہندوستان کا شہری ہوں۔ اس کی بات پر کان دھرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ وہ یقیناً پاکستان کے بارے میں متعصبانہ اور غلط رائے رکھتا ہو گا۔ دہشت گردوں اور مسلح گروہوں سے نمٹنے کی پالیسیاں بنانے والے ہمارے ذمے داران نے کاش اس مضمون کو پڑھا ہوتا، اس پر توجہ دی ہوتی تو شاید آج ہمارے ہزار ہا نوجوان زندہ ہوتے۔ ان کی مائیں زندہ درگور نہ ہوئی ہوتیں۔ ان کے باپ، بھائی اور دوست گریہ نہ کرتے اور حکومت دہشت گردوں کے خوف سے پورے ملک کو بند کرنے پر مجبور نہ ہوتی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.