.

عرب بغاوتوں سے سبق

جاوید حفیظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عرب دنیا پچھلے دو سال سے اتھل پتھل اور اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہے۔ مصر میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ صدارتی فرمان کے مطابق نیا دستور بننے تک صدر مرسی کے احکام کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکیں گے۔ احتجاج کی نئی لہر دوڑ گئی۔ سکندریہ میں ججوں سے کام کرنا بند کر دیا، اپوزیشن نے میدان تحریر میں خیمے گاڑ لئے۔ اپوزیشن رہنما محمد البرادی کا کہنا ہے صدر مرسی، فرعون بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ 45 ہزار سے زائد افراد کے قتل کے بعد بھی شام میں آمریت اور جمہوریت کے حامیوں میں جنگ جاری ہے۔ بیرونی مداخلتوں کے باعث کوئی فیصلہ نہیں ہورہا۔

عرب دنیا کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے وہاں کے طرز حکومت کو سمجھنا ضروری ہے۔ پچھلے چند عشروں سے عرب دنیا میں دو طرح کے حکمران ہیں۔ ایک موروثی بادشاہتیں مثلاَ سعودی عرب، اردن، مراکش وغیرہ اور دوسرے وہ فوجی حکمران جو جمال عبدالناصر سے متاثر ہو کر فوجی انقلابات لائے۔ موخرالذکر حکمرانوں میں کرنل قذافی، حافظ الاسد اور علی عبداللہ صالح شامل تھے۔ فلسطین کی آزادی، معاشی مساوات اور عرب اتحاد ان کے نعرے تھے۔ شروع میں ان حکمرانوں کو بہت پذیرائی ملی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دولت کا لالچ، حواریوں سے محبت اور طاقت سے لمبا معانقہ ان کے اصول بنتے گئے۔ جب شام میں اقتدار حافظ الاسد سے بشارالاسد کو منتقل ہوا تو عملا یہ علوی بادشاہت کی طرف قدم تھا۔ مصر میں جمال مبارک کو ولی عہد کے طور پر تیار کیا جارہا تھا اور لیبیا میں سیف الاسلام قذافی کو۔ عرب عوام کو یہ صورت حال قابل قبول نہ تھی۔

1974ء سے لے کر 2007ء تک مجھے متعدد عرب ملکوں میں سفارتی فرائض انجام دینے کا موقع ملا۔ تقریبا سب ملکوں میں امن و امان کی صورت حال اچھی تھی۔ قاہرہ، دمشق، عمان، جدہ، ریاض اور مسقط میں لوگ دن رات بلا خوف و خطر چلتے پھرتے تھے۔ جرائم بہت ہی کم تھے۔ پولیس با اختیار تھی اور اپنا کام کرتی تھی۔ قانون شکنی پر بڑے بڑے لوگ گرفتار ہو جاتے۔ ضروریات زندگی سستی اور آسانی سے دستیاب۔ اتنا امن چین تھا تو لوگ اٹھ کھڑے کیوں ہوئے۔ جواب کی تلاش میں یہ جاننا ضروری ہے کہ تمام عرب دنیا میں اظہار رائے اور ذرائع ابلاغ پر پابندی تھیں۔ الاہرام جیسا معتبر اخبار وہی لکھتا جو مصری حکومت کو قابل قبول ہوتا۔ عرب ممالک میں جمعہ کے روز تمام خطیب، حکومتوں کا فراہم کردہ خطبہ پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں لوگ کہتے ہیں کہ عوام کا اجتماع یا تو نماز باجماعت کے لئے ہوتا ہے یا فٹبال میچ کے لئے۔ سیاسی اغراض کے لئے جلسہ جلوس خارج از امکان تھا۔ پچھلے دوسال میں صورت حال کسی حد تک تبدیل ضرور ہوئی ۔ لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانے کو مل جائے تو وہ بولنا بھی چاہتے ہیں اور تعلیم آجائے تو وہ سیاسی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔



تمام عرب ممالک میں مخابرات یعنی ایجنسیاں بہت فعال ہیں۔ لیبیا، تیونس، الجزائر، شام اور عراق میں تو اکثر سنتے تھے کہ بھائی بھائی کے خلاف جاسوسی کرتا ہے اور حکومتوں کے پاس بے پناہ اختیارات تھے۔ پاکستان میں "لاپتہ افراد" کا جو مسئلہ اب سامنے آیا ہے عرب ممالک میں عرصے سے موجود ہے۔ ہمارے ہاں تو آزاد میڈیا اور عدلیہ کی وجہ سے یہ مسئلہ بہت اجاگر ہوا ہے، عرب ممالک میں ایسی باتیں آسانی سے دبا دی جاتیں تھیں۔ مصر، لیبیا اور یمن میں ہاتھی کے دانتوں جیسی جمہوریت تھی۔ جنرل ضیا الحق اور پرویز مشرف جیسے ریفرنڈم ہوتے تھے جن میں حکمرانوں کو ہمیشہ ننانوے فیصد ووٹ آسانی سے مل جاتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ عرب بغاوتوں کے اندر ہمارے لئے کیا سبق ہے؟ تیونس اور مصر سے لے کر یمن تک سب عرب بغاوتوں میں نوجوان نسل آگے آگے نظر آئی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں۔ دنیا کے حالات سے باخبر ہیں۔ سوشل میڈیا کو شوق سے اور بے تکان استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بے روزگار بھی ہیں۔ ان بے روزگار نوجوانوں کو اس بات کا شدید گلہ تھا کہ ملکی وسائل پر حکمرانوں اور انکے حواریوں کا قبضہ ہے۔ مڈل ایسٹ میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے "عرب بہار" میں یہ بات واضح ہو گئی کہ نوجوان نسل کی سوچ، تعلیم اور ابلاغ عامہ کا استعمال حکمرانوں سے بہت آگے ہے۔

عرب ممالک میں جہاں جہاں انقلابی تحریکیں چلی ہیں وہاں پبلک سیکٹر مضبوط اور پرائویٹ سیکٹر کمزور تھے۔ مصر، شام، یمن، لیبیا ان س ممالک میں اکثر وسائل پر حکومتی کنٹرول تھا۔ اس کے برعکس خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں پرائیویٹ سیکٹر فعال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی میں کبھی کوئی انقلابی آواز نہیں سنی گئی۔ عام خیال ہے کہ جن ممالک میں تجارت عام ہو، عہاں کے لوگ تشدد پسند نہیں ہوتے اور یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے کہ پاکستان میں خیبر ایجنسی کے آفریدی قبائل ٹرانسپورٹ میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ آپ کو کوءی آفریدی پرتشدد کاروائی میں ملوث نہیں ملے گا۔ وہ اپنی تجارت میں مگن ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آفریدی بچوں کو خود کش جیکٹ پہننے کا کوءی شوق نہیں۔ تو جناب وزیرستان میں صنعتیں لگائیے اور ان کی ملکیت مقامی لوگوں کو دیجئیے ان کارخانوں کی مصنوعات کو یورپ اور امریکہ تک ٹیکس فری بر آمد کی سہولت دلوائیے۔ وزیرستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے۔

جب لوگ اقتصادی طور پر خوشحال ہو جائیں تو وہ سیاسی حقوق مانگتے ہیں۔ عرب ممالک میں سیاسی اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لئے حکمران اور اس کے خاندان کے ساتھ وفاداری ضروری تھی۔ مصر میں حسنی مبارک کے حواری، شام میں علوی، عراق میں تکریتی اور لیبیا میں قذافی کے وفادار قبائل سیاہ سفید کے مالک تھے۔ اکثر عرب ممالک میں اعلیٰ عہدے وفادار قبائل کے لوگوں کو ملتے تھے۔ البتی مصر میں فوح اور سول بھرتی کافی حد تک میرٹ پر ہوتی ہے۔ لہذا مصر کی فوج قومی فوج ہے جبکہ شام کی فوج پربعث پارٹی کا غلبہ ہے۔ اس وجہ سے مصر کی فوج نے ڈکٹیٹر کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست ہیں۔ اگر اس رقم کا آدھا حصہ بھی معاشی ترقی پر صرف ہوتا تو آج لیبیا، مصر اور شام ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے۔ ہمیں بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہئیے کہ سیکیورٹی صرف ہوائی جہازوں اور ٹینکوں سے نہیں آتی بلکہ سیکیورٹی کی سب سے بڑی ضمانت خوش حال عوام ہوتے ہیں۔

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی نے کرپشن سے کمائے گئے اربوں ڈالر اپنی حکومت کو واپس کر دئیے۔ عرب ممالک میں کرپشن موجود ہے لیکن پاکستان سے پھڑ بھی کم۔ وہاں کی سڑکیں عمارتیں اور پل زیادہ پائیدار ہیں لیکن چوںکہ دولت کی ریل پیل ہے اور اقتدار چند مخصوص ہاتھوں میں مرکوز رہا ہے لہذا حکمران طبقہ بہت امیر ہو گیا ہے۔

اس وقت شام کے آمر بشارالاسد سخت مشکل میں ہیں۔ جمال مبارک اور سیف الاسلام قذافی قصہ پارینہ ہو چکے۔ اکیسویں صدی جمہوریت کی صدی ہے۔ موروثی قیادت کا تصور کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اب بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز، حمزہ شہباز شریف اور مونس الہی بھی اقتدار میں آنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ عرب ممالک سے سبق سیکھیں۔ عوام کے غیظ و غضب نے بڑے بڑے وارث روند ڈالے۔ جمہوریت اور موروثی سیاست ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.