.

انتخابات اور غیر یقینی صورتحال

سلمان عابد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کیا عام انتخابات کے انعقاد میں کوئی شک ہے؟ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے کہ بعض قوتیں اس ضمن میں غِر یقینی کیفیت کا شکار نظر آتی ہیں۔ بہت سے اہم لوگ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بعض عناصر انتخابات میں تاخیر کے خواہش مند ہیں۔ ایک مخصوص طبقہ انتخابات کے بجائے کچھ برسوں کے لئے کسی متبادل نظام کا خاکہ پیش کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں غیر یقینی کیفیت کا یہ پہلو نیا نہیں، ماضی میں بھی ملک کو ایسے سیاسی و انتظامی فیصلوں و اقدامات کا سامنا کرنا پڑا جو معمول کے سیاسی نظام کے لئے غیر متوقع تھے۔



موجودہ غیر یقینی کیفیت کے چند پہلو ہیں۔ اول کچھ قوتیں انتخابات کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ انتخابات سے قبل کچھ بڑے سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی فیصلے و اصلاحات کی طرف توجہ دینی چاہئیے۔ دوئم کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ بلوچستان اور کراچی کے حالات انتخابات کے لئے سازگار نہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ اگر دہشت گردی میں شدت آتی ہے تو پر امن انتخابات بڑا چیلنج بن جائیں گے۔ سوئم حکومت، عدلیہ اور فوج کے درمیان جو تناو نظر آتا ہے وہ بھی بروقت انتخابات کے انعقاد کو آگے دھکیل سکتا ہے۔ چہارم، خود حکومت انتخابات کو غیر یقینی کیفیت میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہتی ہے، تاکہ بڑی انتخابی مہم کے بغیر انتخابات کے انعقاد کو ابہام میں رکھ کر مخصوص نتائج کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

حکومت بار بار واضح پیغام دے رہی ہے انتخابات کا انعقاد یقینی ہے، اس میں کوئی تاخیری حربہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور فوجی قیادت بھی یہ پیغام دے چکی ہے کہ وہ جمہوری تسلسل کے حامی ہیں۔ ماضی میں سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ حکومت، عدلیہ اور فوج کے واضح پیغامات کے باوجود انتخابات کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا سوال بدستور سیاسی اشرافیہ کے حلقوں میں زیربحث ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں دال میں کچھ کالا ہے اور کسی متبادل نظام کے بارے میں سوچ بچار ہو رہی ہے۔



دراصل انتخابات سے قبل تمام تر خدشات کی بنیاد ہمارا کمزور سیاسی نظام ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں یہ عزم شدومد سے ظاہر کیا جارہا ہے کہ اب غیر آئینی تبدیلی کے تمام راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔ یہ عزم ماضی میں بھی تواتر سے ظاہر کیا جاتا رہا ہے لیکن سیاسی نظام میں تعطل پیدا ہوتا رہا ہے۔ اس لیے اب بھی غیر جمہوری اقدام کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال بڑا چیلنج ہے جو انتخابات کے پر امن انعقاد میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کا فوری حل بھی نظر نہیں آتا جس کی وجہ حکومت اور دوسرے ریاستی اداروں کی ناکامی ہے لیکن اسے جواز بنا کر انتخابات میں تاخیر مسائل کا حک نہیں۔ دہشت گردی ختم کرنے کی بڑی کنجی مضبوط سیاسی نظام اور شفاف حکومت میں مضمر ہے۔ انتخابات سے قبل لمبے عرصے کے لئے عبوری حکومت کا قیام نئی بات نہیں۔ ماضی میں جب بھی سیاسی نظام کی بساط لپیٹی گئی تو یہی دلیل دی گئی۔ لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی بلکہ ملک میں مزید خرابیوں نے جنم لیا۔

کیا انتخابات سے فرار حاصل کر کے ہم بہتری کی جانب بڑھ سکیں گے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اگر چہ انتخابات اور اس کا کوئی بھی نتیجہ فوری طور پر ملک میں تبدیلی نہیں لا سکے گا لیکن انتخابات سے گریز مسائل کو حل کرنے کی بجائے اور زیادہ گھمبیر بنا دے گا۔ جمہوریت میں انتخابات ہی تبدیلی کا واحد راستہ ہوتے ہیں اور اسی کو ہمیں اپنے سیاسی نظام کی بنیاد بنانا چاہیئے۔ جمہوریت کی مضبوطی کا بڑا تعلق داخلی اصلاحات سے ہے تو اس کی طرف پیش رفت ہونی چاہئیے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت یا اس کی اتحادی جماعتیں بڑے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں ناکام ہوئی ہیں تو اس کا متبادل راستہ بھی انتخابات ہی ہوتے ہیں۔ یہ عمل ملک میں نئی سیاسی قیادت لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں جمہوریت کے مقابلے میں غیر جمہوری عناصر اپنا اثرونوذ رکھتے ہیں، ان قوتوں کو مضبوط جمہوری نظام کے ذریعے ہی کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے انتخابات سے گریز کی پالیسی اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئیے۔ موجودہ صورت حال میں حکومت کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے۔ غیر یقینی کیفیت سے باہر نکلنے اور انتخابات کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کو نگران حکومت کی تشکیل کے عمل میں تیزی سے پیش رفت کرنی چاہئیے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پس پردہ مفاہمت کا عمل جاری ہے اور 20ویں ترمیم کے بعد دونوں فریقین کے اتفاق رائے سے ہی نگران حکومتوں کی تشکیل کا مرحلہ مکمل ہونا ہے۔ اس لیے اس غیر یقینی صورتحال سے نکلنے کا ایک راستہ نگران حکومتوں کی تشکیل پر اتفاق کا ہے۔



یہ اتفاق رائے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر موجود جماعتوں میں ہوتا ہے تو یہ ایک مستحسن بات ہو گی۔ بعض اوقات حکومت اور اس کے اتحادی جماعتوں کی طرف سے جو بیانات آتے ہیں ان میں تضاد ہوتا ہے جو شکوک کو تقویت دیتے ہیں۔ ممکن ہے یہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی کا حصہ ہو۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ ملک میں جو بھی تبدیلی آئے گی اسے سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہئیے۔ تبدیلی کا تعلق داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی اور خارجی سیاست سے بھی ہے۔ لہذا ملکی اور غیر ملکی پس پردہ قوتیں بھی کافی سرگرم ہیں جو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق سیاسی انتظام کی خواہشمند ہیں۔
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.