.

حامد میر سے ایک نئی سازش تک

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے حامد میر پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وجہ بیان کی کہ حامد میر اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ذاتی طور پر میں حامد میر سے کئی معاملات میں اختلاف کر سکتا ہوں،دوسرے انسانوں کی طرح حامد میر میں بھی بشری خامیاں ہو سکتی ہیں اور یقیناً وہ کوئی فرشتہ نہیں مگر یہ کہنا کہ وہ اسلام اور مسلمان دشمن ہے سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ میں تو اُس حامد میر کو جانتا ہوں جو ناموس رسالت کے مسئلہ پر تڑپ اُٹھتا ہے، جو قانون ناموس رسالت کے خاتمہ کا بڑا مخالف ہے، جو قادیانیوں کو 1973 کے آئین کے تحت غیر مسلم قرار دیے جانے کا بڑا حامی ہے، جو پاکستان کے دو قومی نظریہ اور اسلامی آئین کا داعی ہے، جو امریکا کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا مخالف رہا اور پاکستانی حکمرانوں اور فوج کو طالبان سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل کی بات کرتا رہا، جو گمشدہ افراد جن میں ایک بڑی تعداد اُن اسلام پسندوں کی ہے جن کو 9/11 کے بعد یا تو امریکا کے حوالے کیا گیا یا اُن کو ایجنسیوں کے ذریعے غائب کروا دیا گیا اُن کی بازیابی کے لیے میڈیا میں جدوجہد کرنے والوں میں سب سے نمایاں ہے، جو لال مسجد آپریشن کے خلاف اُس وقت آواز اُٹھاتا رہا جب میڈیا عمومی طور پر اس ظالمانہ آپریشن کے لیے مشرف کو اُکسا رہا تھا، جو قائد اعظم کو سیکولر ماننے سے انکاری ہے اور جو ہمیشہ ڈرون حملوں کا مخالف رہا۔ ایسے شخص کو اسلام اور مسلمان دشمنوں کی صف میں کھڑا کرنا ایک انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔

کاش ہم مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کی بجائے اُس سازش کو سمجھنے کی کوشش کریں جس کا مقصد پاکستان میں ایک ایسی افراتفری اور خون و آگ کی ہولی کھیلنا ہے تا کہ اس واحد اسلامی نیوکلئیر ریاست کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم کیا جاسکے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ پاکستان کو موجودہ فتنہ (جو 9/11 کی پالیسیوں کی پیداوار ہے) سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ علمائے کرام اور سیاستدانوں کا ایک طبقہ آگے بڑھ کر حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان معاملات حل کرائے تاکہ مسلمان کے ہاتھوں مسلمانوں کے مارے جانے کا یہ سلسلہ رکے اور اس ملک کو مزید ناحق خون کے بہنے سے پاک کیا جا سکے۔ یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ملالہ، قاضی حسین احمد اور اب حامد میر پر حملوں کو بنیاد بنا کر شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن کرنے کی اُس غلطی سے باز رہا جائے جس کی وجہ سے ہمیں ماضی میں کچھ حاصل ہوا اور نہ مستقبل میں ایسی توقع ہے۔ اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ہزاروں افراد کو امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جھونکے جانے کے باوجود امریکا بھی ہم سے خوش نہیں۔ حامد میر کو میرا برادرانہ مشورہ ہے کہ وہ جو حق بات سمجھتے ہیں کہتے رہیں مگر اُن لوگوں سے بچیں جو اُن کو ”شیر بن ،شیر بن“ کا جوش دلا کر اپنے اپنے الّو سیدھے کرنے کے چکر میں ہیں۔ میری اُن صحافی دوستوں سے جن کے تحریک طالبان پاکستان سے رابطے ہیں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس صورتحال میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

سازش: نجی ٹی وی چینلز میں دکھائے جانے والے مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے حکومت کے (غیر)ذمہ داروں کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کئے جانے والے ( Pemra Content Regulations 2012 )سے اسلام کو مکمل طور پر غائب کر دیا گیا ہے۔ جنگ اور دی نیوز نے اس بارے میں خبر شائع کی مگر اس پر کوئی بولا نہ احتجاج کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پارلیمنٹ میں کوئی آواز اُٹھی نہ حکومت و اپوزیشن پارٹیوں میں سے کسی کے کان پہ جوں تک رینگی۔ اس پر فوج بولی اور نہ ہی عدلیہ نے اس بات کا نوٹس لیا۔ یہاں تک کہ اسلامی سیاسی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی نے اس مسئلہ پر کوئی آواز نہیں اُٹھائی۔ 2012 ریگولیشنز کے مطابق ٹی وی چینلزپر یہ تو پابندی ہوگی کہ وہ پاکستانی معاشرہ کی سماجی اور اخلاقی اقدارکا خیال رکھیں مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ اسلامی اقدار کے تحفظ کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ اس کے علاوہ نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان کے لیے بھی ان ریگولیشنز میں کوئی جگہ نہیں ۔

ہمارا المیہ دیکھیں کہ حکومتی ذمہ داروں کے بڑوں سے جب اس سلسلے میں میری بات ہوئی تو وہ تو یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ اسلام، اسلامی اقدار، نظریہ پاکستان اوردفاع پاکستان کا ان ریگولیشنز میں کوئی ذکر ہی نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اتنی بے خبری؟؟ ہو سکتا ہے کہ حکومتی ذمہ داروں نے وقت نکال کر اُن ریگولیشنز کو اب پڑھ لیا ہو جن کی تیاری میں بقول اُن کے حکومت کو کئی مہینے لگ گئے۔ اگر کئی مہینوں کی محنت کے بعد حکومت نے ایسے ریگولیشنز جاری کیے جو کسی سیکولر اور لادین ریاست کے تو ہو سکتے ہیں مگر اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تو پھر فحاشی و عریانیت اور غیر قانونی چینلز کے سدباب کے لیے حکومت کی ناکامی کی وجہ کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں۔

آئین، قانون اور متعلقہ رولز میں تو اسلام، اسلامی اقدار اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے مگر یہ کیسے اور کیوں ہوا کہ قانون او ر آئین کے مطابق پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کو اُن ہدایات میں سے یکسر غائب کر دیا گیا جن کے مطابق نجی ٹی وی چینلز کو چلانا مقصود ہے۔ اگر سیکولر ریگولیشنز کے مطابق ہی ٹی وی چیلنز کو چلانا مقصد ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کو کھلی چھٹی کہ وہ جو مرضی آئے کرے۔ میری ذاتی رائے میں پاکستان کے اسلامی تشخص کو تباہ کرنے اور اس ملک کو سیکولر اور لادین ریاست بنانے کی یہ ایک گہری سازش ہو سکتی ہے۔ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ فحاشی و عریانیت کے خلاف حکومت کی طرف سے عوامی شکایات سننے کے لیے بنائی گئی وفاقی اور صوبائی کونسلوں میں ایسے افراد کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو نظریہ پاکستان کے مخالف ، جن کی نظر میں عورت اور مرد کا سرعام بوس و کنار کرنا فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا اور جو ہم جنس پرستوں کے حمایتی ہوں۔ اگر حکومت اور حکومتی اداروں کا یہ رویہ ہو گا تو پھر ٹی وی چینلزاپنے کاروباری فائدے کے لیے کیوں نہ ایسامواد چلائیں گے جو آئین و قانون اور اسلامی اقدار کے خلاف ہو گا۔

دنیا بھر میں کہیں بھی میڈیا کے لیے مادر پدر آزادی کا تصور نہیں۔ ہر ریاست میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ میڈیا کو آئین و قانون کے مطابق ریگولیٹ کرے تا کہ آزادی رائے کے نام پر ایسا کچھ نہ کیا جائے جو معاشرہ کو سنوارنے، لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور ریاستی اداروں کے استحکام کی بجائے معاشرتی بگاڑ، اداروں کی کمزوری اور مذہبی اقدار کی تباہی کا سبب بن جائے۔اگر ریگولیٹر یعنی حکومتی ذمہ دار آزاداور خودمختار ہوں گے تو میڈیا بھی ذمہ دار ہو گا ورنہ جس کا جو جی چاہے گا وہی کرے گا۔ یہاں میں پی ٹی اے کی طرف سے موبائل کمپنیوں کے رات کے پیکیجز کے خلاف اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ان کمپنیوں کے اشتہارات کو بھی اُن حدود و قیود کے اندر رکھنے کے لیے کارروائی بھی کی جائے گی جو عام پاکستانیوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.