.

تقریروں کے مجرے

آصف ڈار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان اگر کوئی تنازعات یا اختلافات پیدا ہوجائیں یا کوئی نیا مسئلہ سامنے آجائے تو اس پر صلاح مشورے اور کوئی لائحہ عمل مرتب کرکے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ان ممالک کی کانفرنس طلب کی جاتی ہے۔ یہ سارے ممالک اس تنازع یا اختلاف کے بارے میں اپنی اپنی سطح پر کام کرتے ہیں اور ملکی سطح پر سفارشات مرتب کرنے کے بعد ان کو کانفرنس میں پیش کرتے ہیں۔ سارے ممالک ان سفارشات پر غور کے بعدکوئی لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں اور پھر ان پر باقاعدگی کے ساتھ عمل درآمد کرتے ہیں۔ اس طرح کی کانفرنسیں ایک ملک کے اندر موجود صوبوں، ریاستوں یا ڈویژنوں کے درمیان بھی صلاح مشورہ اور معاملات طے کرنے کے لئے بلائی جاتی ہیں۔ ان پر مقامی سطح پر باقاعدہ کام ہوتا ہے اور ماہرین کے ذریعے سارے امور طے ہونے کے بعد ہی انہیں کانفرنس کے اندر لایا جاتا ہے۔

اس طرح کسی بھی معاملے پر عالمی سطح پر ملکی سطح پر سیمینارز بھی منعقد کئے جاتے ہیں جن میں سکالرز اور ماہرین سیمینار کے موضوع پر ایک مکمل تحقیق کے بعد مقالے پیش کرتے ہیں اور سیمینار میں موجود دوسرے سکالرز کے سوالوں کے جواب بھی دیتے ہیں۔ ان کے ذریعے جو نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے اس کو ملک کی پالیسی میں شامل کرنے کے لئے حکومتوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ان کانفرنسوں اور سیمینارز کے پیچھے باقاعدہ طویل عرصے تک کام ہوتا ہے۔ بالآخر ان کا کوئی نہ کوئی نتیجہ نکالا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے برٹش پاکستانی کمیونٹی کے اکثر حلقوں میں تقریروں کے مجروں کو کانفرنسوں، سیمینارز اور تقریبات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ برطانیہ کے جس شہر میں بھی پاکستانی کمیونٹی کے لوگ قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں وہ اپنے اپنے کمیونٹی سینٹرز، مساجد یا ہوٹلوں میں کانفرنسوں اور سیمینارز کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ ان پر اپنی بے تکی تقریروں کے تابڑ توڑ حملے کر کے انہیں ادھ موا کرکے گھر بھیجتے ہیں۔ ان میں سے اکثر منتظمین کو کانفرنس، سیمینارز یا اجلاس میں فرق معلوم ہی نہیں ہوتا۔ وہ تو شاید کانفرنس کو بھاری بھرکم لفظ سمجھ کر چند افراد کو اپنے ٹھکانوں پر جمع کرکے تقریریں کر ڈالتے ہیں۔

مقررین کی فہرست اتنی طویل ہوتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جتنے سامعین ہوتے ہیں وہ سارے کے سارے مقرر بھی ہوتے ہیں، ان سب کو باری باری سٹیج پر بلایا جاتا ہے اور یہ سارے ایک دوسرے کی بات کو ہی دہراتے ہیں۔ اگر ”کانفرنس“ کشمیر پر ہو تو سارے مقررین بھارت کو برا بھلا کہتے ہوئے اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کریں گے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلایا جائے۔ اگر کسی مذہبی موضوع پر بات ہو رہی ہو تو بھی سارے مقررین ایک ہی بات کریں گے، ظاہر ہے کہ اختلاف رائے کی گنجائش ہماری نام نہاد کانفرنسوں وغیرہ میں تو ہوتی ہی نہیں۔ لارڈ میئر آف برن ہل نے دو تین ہفتے پہلے ہاوٴس آف کامنز کے ایک کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں یہی بات کی تھی کہ ان سے پہلے آنے والے ہر مقرر نے ایک ہی بات کی ہے اور کسی مقرر نے دوسرے کے ساتھ کوئی اختلاف تک نہیں کیا۔ اس تقریب میں لارڈ میئر شاید وہ واحد مقرر تھے جنہوں نے تقریب میں موجود درجنوں علماء کرام کی ”دل آزاری“ کرتے ہوئے برطانیہ میں توہین رسالت قانون بنائے جانے کی مخالفت کی تھی۔

لارڈ میئر نے چند منٹوں میں یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اس اجلاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا چنانچہ وہ بھی اپنا مدعا بیان کرکے رفوچکر ہوگئے اور بعض علماء کرام نے ان کی عدم موجودگی میں ان پر اپنی بھڑاس نکالی۔ برطانیہ کے بعض مسلم مذہبی اداروں میں بھی بڑی بڑی کانفرنسیں ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر ان میں بھی تقریروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کو دوسرے شہروں سے بلایا جاتا ہے ان سے لمبی لمبی تقاریر کرا دی جاتی ہیں اور ان کا نتیجہ بھی صفر ہی ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ کسی شریف مہمان کو بلا کر بھی تقریروں کا مجرہ کرا کے اسے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی کاروباری بعض تنظیمیں بھی بعض اوقات کانفرنس، سیمینار یا استقبالیہ کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں اور ان میں بھی مقررین کی طویل فہرست ہوتی ہے۔

ان تقاریب کو کور کرنے کے لئے جانے والے صحافیوں پر یہ دباوٴ بھی ہوتا ہے کہ ہر مقرر کی وہ ساری باتیں لکھ دی جائیں جو اس سے پہلا مقرر بھی کہہ چکا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس طرح کی تقاریب کے سٹیج سیکرٹری ہر مقرر کے بعد ایک جوابی تقریر کردیتے ہیں، اس طرح تقریب میں جانے والے بیچاروں کو 25 کی بجائے 50 تقریریں سننا پڑ جاتی ہیں۔ لندن میں خاص طور پر کمیونٹی کو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ کوئی بھی ایم پی یا لارڈ کمیونٹی اجلاس، کانفرنس یا سیمینار کے لئے کمیٹی روم بک کرا سکتا ہے۔ چنانچہ ہاوٴس آف کامنز اور ہاوٴس آف لارڈز کے کمیٹی رومز میں منعقد ہونے والی تقاریب میں بھی درجنوں مقررین کو بلایا جاتا ہے۔

منتظمین ہر شخص کو یہ کہہ کر بلاتے ہیں کہ ان سے تقریر کرائی جائے گی، اگر وقت کی کمی کی وجہ سے کوئی مقرر رہ جائے تو وہ منتظم سے ناراض ہو کر اگلی مرتبہ اس کا کورم پورا کرنے کے لئے نہ آنے کی دھمکی دیتا ہے۔ ابھی چند روز قبل بھی ہاوٴس آف کامنز کے ایک کمیٹی روم میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں لارڈ قربان حسین نے مقررین کی لمبی اور بے تکی تقریروں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں دوسروں کے وقت کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان سطور کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری یا کسی پر تنقید نہیں بلکہ یہ ہے کہ اب برٹش پاکستانی کمیونٹی کی تعداد لاکھوں میں ہوچکی ہے اور یہ کمیونٹی بعض حلقوں کی نظروں میں کھٹکتی بھی ہے۔

یہ وہ زمانہ نہیں کہ جب اس کی تعداد 5/6 یا 20/25 ہزار تھی اور اس وقت اس کا نوٹس بھی کوئی نہیں لیتا تھا۔ اب اس کمیونٹی کا نوٹس لیا جاتا ہے، اسے اب زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ کمیونٹی کے اجلاس، سیمینارز اور کانفرنسوں میں انگریز ارکان پارلیمنٹ بھی شرکت کرتے ہیں۔ اگر اس طرح کے کام پوری ریسرچ اور مکمل جانکاری کے بعد کئے جائیں تو اس کا مین سٹریم کمیونٹی کو اچھا پیغام جائے گا۔ کسی کام کو غیر سنجیدگی سے کرنے کا مطلب کمیونٹی کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اگر کمیونٹی نے اپنے اس طرز عمل کو نہ بدلا تو ہمارے ان چند دوستوں کا موقف درست ثابت ہوگا جو پاکستانیوں کی اکثر تقریبات کو تقریروں کے مجرے قرار دیتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.