.

کیا ایک اور عالمی جنگ

مسرت قیوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امن معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری۔فلسطینیوں کو ”مسجد اقصیٰ جانے سے رد کر دیا گیا۔ مصری تنظےم اخوان المسلمےن نے غزہ امن سمجھوتہ مسترد کر تے ہوئے اسرائیلی زیر قبضہ علاقے کو آزاد کروانے کے لیے ”جہاد “ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دو ہفتہ تک نہتے فلسطینوں کو آتش و خون میں نہلانے کے باوجود بھی اسرائیلی عزائم پورے نہیں ہوئے کیونکہ معاملہ کچھ اور ہے بقول ”نیو یارک ٹائمز“ غزہ پر جارحیت دراصل ایران کےخلاف متوقع جنگ کی مشق تھی۔ اس مشق سے اسرائیل نے اپنے میزائل دفاعی نظام کا اچھی طرح سے تجربہ بھی کروالیا اور ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں حماس“۔ حزب اﷲ ۔اور اسلامی جہاد کی اہلیت کا بھی اندازہ کر لیا۔ غزہ پر بہ پہلی جارحیت نہیں۔ اور ان حملوں پر احتجاج ۔مظاہرے ۔مذمتی بیانات بھی پہلی مرتبہ دیکھنے پڑھنے کو نہیں مل رہے۔برسوں سے یہ خونی ”کھیل پھر احتجاج اور بیانات کا شرمناک عمل جاری ہے۔ دوسری طرف ”اُردن “ میں بھی حکومتی پالیسیوں پر عوامی احتجاج زور پکڑتا جارہا ہے۔ ایک غیر ملکی جریدہ ”گلوبل ریسرچ“ کی رپورٹ کے مطابق احتجاج زور پکڑتا جا رہا ہے اور یہ احتجاج دراصل ”اُردن“ کو ”گریڑ اسرائیل“ کا حصہ بنانے کی منصوبہ بندی ہے۔

اس وقت عالمی اُفق پر بڑی بڑی تبدیلیاں رُونما ہوتی نظر آرہی ہیں اور ایک ”چوتھی عالمی جنگ“ کے خطرات بھی منڈلاتے نظر آرہے ہیں۔”شمالی مالی“ میں ”اسلام پسند“ اور سیکولر گروپوں میں خوفناک لڑائی سے اب تک بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے ۔اس صورتحال پر ”مغربی افریقہ“ کے ممالک کی اقتصادی تنظیم نے ’ ’مالی“ میں اسلام پسندوں کی سرکوبی کے لیے 40 ہزار فوجی بھیجنے کی منظوری دیدی۔

دوسری طرف میانمار کے ”روینگیا مسلمان“ بد ستور بدھ پرشوں کے مظالم کا شکار ہیں۔ ”روینگیا مسلمانوں“ نے اپنے اُوپر ٹوٹنے والی قیامت کے بعد پناہ کے لیے پڑوس ممالک کی طرف ہجرت کی مگر اب وہاں دوہرے مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت وہ بنیادی ضروریات ناکافی طبی امداد اور موسم سرما کی سختیوں کا تن تنہا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔”روینگیا سالڈریٹی آرگنائزیشن“ نامی تنظیم کو قرار دریا ہے اس سے قبل امریکہ بھی اس تنظیم کو بنگلہ دیش سے چلائے جانے کا الزام عائد کر چکا ہے۔ظلم کی انتہا یہ کہ میانمار حکومت نے بنگلہ دیش سرحد سے متصل سرحدی گاﺅں میں حالیہ حملے کا ایک اور رپورٹ کے مطابق ”عام الیکشن“ کے بعد ”پاکستان“ کے حصے بخرے کرنے کی خوفناک منصوبہ بندی ۔

آزاد بلوچستان کے قیام کا بھی مکروہ منصوبہ پاکستان کے خلاف یہ کوئی نئی سازش نہیں بلکہ یہ دیکھنا زیادہ ضروری ہے کہ ان سازشوں کی سدباب کے لیے ہماری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیا پلاننگ تیاری ہے۔ شام کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں برطانوی فوجی شامی سرحد پر اُتارنے پر غور ہو رہا ہے۔ جبکہ ترکی کی طرف سے شامی سرحد پر پڑیاٹ میزائل لگانے کے اعلان سے کشیدگی میں مزید ممالک شامل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔پوری دُنیا کو تنازعات کی نذر کرنے والے ممالک کے اپنے اند ر سنگین معاش بحران کے بعد احتجاجی مظاہرے۔ہنگامے شروع ہو گئے ہیں۔

سپین کے صدر مقام ”میڈرڈ“ میں 24 گھنٹے پہیہ جام پڑتال نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔ پرتگال اور ارجنٹائن میں ہزاروں افراد نے حکومتی کارکردگی کے خلاف مظاہرہ اور شدید نعرے بازی کی۔ یورپ میں بڑھتے ہوئے مالیاتی بحران اور فزوں تر ہوتی مہنگائی کا جن قابو نہیں آرہا۔ دُنیا کے ایک تہائی حصہ کو جنگ و جدل میں بدل دینے والے طاقتورگروپ کے نزدیک برصغیر۔ ایشیاء مڈل ایسٹ کوئی جُدا گانہ علاقے نہیں۔ سب ممالک ”طاقتور“ کے مزارع ہیں۔ (اپنی ہی کرتوتوں کے وجہ سے) ”طاقتور“ کے نزدیک ”دنیا صرف“ ”دو منڈیوں “ کا نام ہے۔ ایک ” ہتھیار تیار کرنے والی“ دوسری ان ہتھیاروں کی اہلیت و صلاحیت جانچنے والی منڈی۔

آپ اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ مسلمانوں کا شمار کس نوح کی ” منڈی“ میں ہوتا ہے اور جان لینے کے بعد یہ بھی ضرور سو چئیے کا کہ ہمارا ” کس منڈی میں“ شمار کن اسباب کی بنا پر ہو رہا ہے۔ برسا برس ایک خطہ میدان جنگ بنا رہتا ہے پھر وہ میدان ”طاقتور“ اپنے مفاد کی خاطر ۔اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے بدل ڈالتا ہے۔ ساری دُنیا شور مچانے لکتی ہے۔”میڈیا آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد سرد موسم سب کو آگھیرتا ہے۔ اب پھر میدان تبدیل ہو رہا ہے۔ اپنے دیرینہ ۔ازلی عزائم کی تکمیل کے ظاہری اسباب مکمل کرنے کے بعد توپوں کا رُخ ”مشرق وسطی“ منتقل ہوتانظر آتا ہے کیونکہ حقیقی ٹارگٹ بھی تو یہی ”بحرانوں کی سرزمین“ ہے۔ پاکستان زندہ باد

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.