.

چیری کے پتوں پر ٹھہری زندگی

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
آخری سانس سے قبل اس نے کھڑکیوں کے پردے ہٹانے کا حکم دیا‘ کمرہ اس کے شاگردوں سے بھرا ہوا تھا‘ ان میں میڈیکل پروفیسر بھی تھے‘ ڈاکٹر بھی‘ جونیئر کلرک بھی اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لوگ بھی۔ یہ سب جوزف کے چاہنے والے تھے اور یہ تمام لوگ اس کی زندگی کے آخری لمحات میں اس کے بیڈ کے پاس رہنا چاہتے تھے‘ یہ چاہتے تھے پروفیسر آخری بار آنکھ کھولے تو ان کی عقیدت اس کی مرتی ہوئی‘ بجھتی ہوئی پتلیوں میں ٹھہر جائے اور وہ ان کے چہرے ساتھ لے کر دنیا سے رخصت ہو لیکن اس نے عین وقت پر کھڑکیوں کے پردے ہٹانے کا حکم دے دیا‘ درجنوں قدم کھڑکیوں کی طرف دوڑے اور اس سے کہیں زیادہ ہاتھ پردوں تک پہنچ گئے‘ کمرے میں پردوں کی ریلنگ کی چرر کی آواز آئی اور کھڑکیوں کے پٹوں پر دھری روشنی نے کمرے میں پھیلی موت کے چہرے پر چھلانگ لگا دی‘ کھڑکی سے باہر تاحد نظر چیری کے درخت تھے اور ان درختوں کی ٹہنیوںپر نومبر کی سرد راتوں کا کہرا لٹک رہا تھا اور دور افق پر روشنی کی لکیر دستک دے رہی تھی اورموت اس کے فالج زدہ جسم میں آہستہ آہستہ سرائیت کر رہی تھی‘ موت کا یہ تجربہ اس کی زندگی کی آخری ’’میڈیکل ریڈنگ‘‘ تھی‘ اس نے محسوس کیا موت فالج زدہ جسم کے جس جس حصے سے گزرتی ہے اس میں چنگاریاں سی بھر جاتی ہیں‘ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے نوکیلی تار نیم خوابیدہ گوشت میں اتار دی ہو اور پھر ایک جھٹکے سے اس تار کو کھینچ لیا گیاہو‘ وہ اپنے اسٹوڈنٹس کو اپنی آخری میڈیکل ریڈنگ بتانا چاہتا تھا لیکن اس کی زبان اس کے تالو کے ساتھ چپک گئی‘ اس نے محسوس کیا زندگی کے آخری لمحے میں انسان کی زبان بے جان لوتھڑا بن کر تالو کے ساتھ چپک جاتی ہے اور انسان کو اللہ کو یاد کرنے‘ کلمہ پڑھنے یا وصیت کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا‘ اس نے کمرے پر آخری نظر دوڑائی‘ اس کے تمام جونیئر وہاں موجود تھے اور ان جونیئرز کے پیچھے دیوار پر سرخ رنگ کا چھوٹا سا کلاک لگا تھا اور کلاک کی سوئیاں ایک دوسرے کے پیچھے سرپٹ دوڑ رہی تھیں‘ اس نے کلاک پر نظریں جما دیں‘ کلاک چمکا‘ ڈی فوکس ہوا‘ بجھا‘ پھر چمکا‘ پھر ڈی فوکس ہوا‘ پھر بجھا اور پھر کلاک اور اس کی نظروں کے درمیان دھند کی گہری چادر تن گئی‘ اس نے آخری سانس لیا اور کمرے میں مشینوں کی ٹی ٹی‘ سی سی کی آوازیں گونجنے لگیں‘ پروفیسر ڈاکٹر جوزف مرے انتقال کر چکا تھا۔

ہم اگر پاپانیوگنی سے نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا سے الاسکا اور سائبریا سے لے کر مراکش تک دنیا کے تمام محسنوں کی فہرست بنائیں تو پروفیسر جوزف مرے کا نام اس فہرست کے ابتدائی دس ناموں میں آئے گا‘ دنیا کی میڈیکل ہسٹری نے آج تک صرف 350 ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جنھیں یہ سائنس انسانیت کا محسن سمجھتی ہے‘ پروفیسر جوزف مرے ان 350 لوگوں میں شامل تھا‘ یہ دنیا کا پہلا ڈاکٹر تھا جس نے انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ کیا‘ دنیا کو جس نے بتایااگر کوئی زندہ انسان کسی دوسرے کو گردہ عطیہ کر دے تو وہ بچ سکتا ہے‘ پروفیسر جوزف مرے کی اس ریسرچ سے قبل دنیا میں جس شخص کے گردے فیل ہو جاتے تھے موت اس کامقدر بن جاتی تھی لیکن جوزف مرے نے ان لوگوں کو زندگی کا راستہ دکھا دیا‘ اس نے دنیا کو پیوند کاری کی سائنس عنایت کر دی جس کے بعد اب انسانی جسم کے ساٹھ فیصد اعضاء تبدیل کیے جا سکتے ہیں یا انھیں دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر جوزف مرے 1919ء میں میسا چوسٹس کے علاقے ملفورڈ میں پیدا ہوا‘ یہ جسامت کے لحاظ سے اسپورٹس مین تھا‘ یہ بچپن میں اتھلیٹ بن گیا‘ پھر آئس ہاکی کھیلی‘ پھرفٹ بال اور آخر میںبیس بال کا کھلاڑی بن گیا‘ پھر فلسفے اور انگریزی لٹریچر کی طرف چلا گیا‘ 1940ء میں انگلش لٹریچر اور فلسفے میں ڈگری لی پھر اچانک احساس ہوا دنیا میں انسانی جسم سے بڑا کوئی ماسٹر پیس نہیں‘ انسان کا بدن فلسفہ بھی ہے اور لٹریچر بھی چنانچہ اس نے ہاورڈ میڈیکل اسکول میں داخلہ لے لیااور دنیا کا محسن بن گیا۔ سات براعظموں پر پھیلی اس دنیا کے چند محسن ہیں۔

ہم آج اپنے گھروں میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں ،ہم ایک گولی‘ ایک کیپسول یا ایک انجکشن سے اپنا علاج کر لیتے ہیں‘ ہمارے گھر سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈے ہوتے ہیں‘ ہم ہزاروں میل کا سفر چند گھنٹوں میں اور سیکڑوں میل لمبے فاصلے آرام دہ سیٹ یا ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ کر طے کر لیتے ہیں‘ دنیا کے ساڑھے چھ ارب لوگوں کو صبح کے وقت ناشتا‘ دوپہر کے وقت لنچ اور رات کے وقت ڈنر ملتا ہے‘ ہم سب روزانہ گندم کھاتے ہیں‘ روز گوشت یا مرغی کھاتے ہیں‘ ہمیں سبزیاں اور دالیں ملتی ہیں اور ہمیں صاف پانی‘ تازہ جوس‘ چائے‘ کافی اور دودھ ملتا ہے‘ یہ ساری نعمتیں دنیا کے چند لوگوں کی مہربانی ہے‘ اللہ تعالیٰ اگر ان لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہ ڈالتا‘ یہ لوگ آئیڈیا کو حکم الٰہی نہ سمجھتے اور یہ اپنی زندگیاں ہماری زندگی کو آسان بنانے میں نہ لگاتے تو ہم آج خوراک کی کمی‘ بیماری‘ سردی‘ گرمی اور حادثوں میں مر گئے ہوتے‘ یہ لوگ دنیا کے اجتماعی محسن ہیں اور ہم سب کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے‘ مثلاً کیلیفورنیا کا وہ گمنام شخص ہم سب کا محسن ہے جس نے 1956ء میں پہلی برائلر مرغی بنائی تھی‘آج ہم اگر انڈے اور مرغیاں کھا رہے ہیں تو یہ اس گمنام شخص کی مہربانی ہے۔

اگر وہ یہ مہربانی نہ کرتا تو آج انڈہ اور مرغی صرف امیروں کے دسترخوانوں تک محدود ہوتی۔ مثلاً میکسیکو کا وہ زرعی ماہر ہم سب کا محسن ہے جس نے 1960ء میں گندم کا وہ بیج بنایا جس نے گندم کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ کر دیا‘ وہ اگر مہربانی نہ کرتا تو آج پاکستان میں ’’میکسی پاک‘‘ گندم نہ ہوتی اور ہم قحط کا شکار ہو گئے ہوتے۔ اسی طرح جزام‘ چیچک‘ طاعون‘ ملیریا‘ ٹی بی‘ پولیو‘ ہیپاٹائٹس اور کینسر کی ویکسین بنانے والے پوری دنیا کے محسن ہیں‘ کمپیوٹر ایجاد کرنے‘ گوگل بنانے اور گاڑیاں‘ ہوائی جہاز اور دنیا کو ٹچ اسکرین کا تحفہ دینے والے لوگ ہمارے اجتماعی محسن ہیں‘ یہ اگر نہ ہوتے‘ یہ اگر محنت نہ کرتے تو ہم آج اتنی آرام دہ اور آسان زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔

پروفیسر جوزف مرے بھی ان لوگوں میں شامل تھا‘ اس نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی‘ پلاسٹک سرجری کے شعبے میں گیا‘ ویلی فورج جنرل اسپتال پنسلوانیا سے وابستہ ہوا‘ دوسری جنگ عظیم کے دوران زخمی فوجیوں کے ہاتھوں اور چہروں کی پلاسٹک سرجری کی‘ اسی دوران اسے معلوم ہوا دنیا کے زیادہ تر لوگوں کے خوف‘ حادثے‘ پریشانی اور وائرس کی وجہ سے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور اگر انسان گردے سے محروم ہو جائے تو موت اس کا مقدر بن جاتی ہے‘ اس نے اپنی زندگی انسانی گردوں کے لیے وقف کر دی۔

پروفیسر جوزف مرے نے تحقیق کی تو پتہ چلا اگر انسان اپنا ایک گردہ کسی دوسرے کو عطیہ کر دے تو بھی یہ آرام سے زندگی گزار سکتا ہے‘ اس نے گردوں کو ٹرانسپلانٹ کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا‘ 1954ء میں اس کے پاس گردے کا ایک مریض آیا‘ اس کا جڑواں بھائی اسے گردہ دینے کے لیے تیار تھا‘ ڈاکٹر جوزف مرے نے 23 دسمبر1954ء کو دونوں بھائیوں کا آپریشن کیا‘ آپریشن کامیاب ہوگیا اور یوں دنیا میں آرگن ٹرانسپلانٹ کی سائنس کا آغاز ہوگیا۔ ڈاکٹر جوزف مرے نے 1959ء میں انسانی خلیوں‘ ٹشوز اور جسم کے دیگر اعضاء کی ٹرانسپلانٹ شروع کی‘ اس نے 1962ء میں دنیا کا پہلا’’ CADAVERIC RENAL ‘‘ ٹرانسپلانٹ کیا اور یہ اس کے ساتھ ہی ٹرانسپلانٹیشن بائیالوجی سائنس کا عالمی لیڈر بن گیا‘ اس نے 1965ء میں دنیا بھر کے فزیشنز اور سرجنز کو ٹرانسپلانٹیشن کی ٹریننگ دینا شروع کر دی اور یوں پوری دنیا میں آرگن ٹرانسپلانٹ شروع ہو گیا۔

آج دنیا میں جس جگہ کسی انسان کا کوئی عضو ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے اس کا ثواب براہ راست ڈاکٹر جوزف مرے کے کھاتے میں درج ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر جوزف مرے کو 1990ء میں نوبل انعام ملا لیکن میڈیکل سائنس اسے 1960ء ہی میں دنیا کا عظیم ترین سرجن تسلیم کر چکی تھی‘ ڈاکٹر جوزف 1986ء میں ہاورڈ میڈیکل اسکول سے ریٹائر ہوا اوراس نے باقی زندگی انسانی فلاح‘ انسانی صحت اور ٹرانسپلانٹ سائنس کی ترقی اور ترویج پر لگا دی۔ یہ 26نومبر 2012ء کو 93سال کی عمر میں ایک بھرپور ہنگامہ خیز اور شاندار زندگی گزار کر انتقال کر گیا‘ اس نے زندگی کی آخری سانس بوسٹن کے اس برگھم اسپتال میں لی جس میں اس نے 1954ء میں پہلا ٹرانسپلانٹ کیا تھا۔ ڈاکٹر جوزف مر گیا لیکن اس کی تخلیق کردہ سائنس کبھی نہیں مرے گی ‘دنیا کے کسی بھی کونے میں جب بھی کسی انسان کو کوئی عضو لگایا جائے گا ڈاکٹر جوزف مرے اس انسان کی سانس‘ اس انسان کے خون کی دھڑکن میں زندہ ہوجائے گا اور یہ دنیا کے ہر اس ڈاکٹر کی سانسوں‘ انگلیوں‘ آنکھوں اور دماغ میں زندہ رہے گا جو کسی انسان کا کوئی عضو ٹرانسپلانٹ کرے گا۔

ڈاکٹر جوزف مرے کی لاش دفن کر دی گئی لیکن اس کے کمرے کی کھڑکی کے پردے ابھی تک کھلے ہیں اور پٹوں پر رکی ہوئی روشنی ابھی تک کمرے کے ٹھنڈے بدن پر اتر رہی ہے اور چیری کے پتوں پر سرد راتوں کا کہرا بھی اسی طرح نازل ہو رہا ہے اور جب تک یہ کہرا نازل ہوتارہے گا اور پٹوں پر دھری روشنی کمروں میں اترتی رہے گی اس وقت تک ڈاکٹر جوزف مرے جیسے لوگ زندہ رہیں گے کیونکہ موت کبھی زندگی کے محسنوں کو نہیں مار سکتی۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.