.

اقوام متحدہ یا امریکہ کی دکان

شیخ منظر عالم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قوموں کی ترقی یا پستی میں بنیادی کردار انکے رویوں کا ہوتا ہے اور قومیں اپنے رویوں ہی سے پہچانی جاتیں ہیں نہ کہ نعروں، دعوﺅں یا وعدوں سے۔ میں کیونکہ بنیادی طور پر تاریخ اور فلسفے کا طالب علم رہا ہوں اس لئے ہمیشہ اپنے اردگرد کے واقعات کا تاریخی پس منظر سے تجزیہ کرتا رہتا ہوں۔ یہ 1990 کی بات ہے میں کراچی ایوان صنعت و تجارت کی مجلس عاملہ کا رکن منتخب ہوا تو میرے ایک دوست شاہد عمر شیخ نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں میرے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس میں، میں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں مسلمان ممالک کےساتھ مل کر دولت مشترکہ کی طرز پر ایک تنظیم بنانی چاہیے جس میں مسلمان ملکوں کی معیشت، تجارت اور تعلیم کو بنیادی اولیت دینی ہو گی۔ چونکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے مسلم امہ کی نشاة ثانیہ، اعلیٰ روایات، خلفائے راشدین کے طرز حکمرانی اور صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کا گہری نظر سے مطالعہ کرکے مسلمانوں سے انتقام لینے کا ایک طویل المدتی پروگرام بنایا جس کے تحت پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پرتجارتی تنظیم بناکر برصغیر میں داخل ہوئے اور مغلوں کی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان پر قابض ہوگئے اور مسلمانوں میں گروہی اور فرقہ وارانہ تنازعات پیداکرتے رہے ۔مگر المیہ یہ ہوا کہ مسلمان اس کو سمجھ نہ سکے اور پستیوں میں گرتے گئے جبکہ یہود اور ہندو مسلم تاریخ کا اچھی طرح مطالعہ کر کے مسلمانوں کے خلاف یکجان ہوگئے جس کا تذکرہ مہاتما گاندھی نے 1937 میں ہندوستان کے ایک صوبے میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے پر کانگریسی وزیروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ آج آپ کو میں حکمرانی کرنے کے طریقے اور سادگی و انکساری کی مثالیں رام چندر یا کرشن سے نہیں دے سکتا بلکہ میں آج مجبور ہوں کہ آپ کو انکساری اور سادگی کی مثالیں مسلمانوں کے خلیفہ ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے دور کی دوں (بحوالہ اخبار ہندو 1937کلکتہ) ۔ اسی طرح 1945میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مفکروں کی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی جس میںدنیا فتح کرنے کےلئے اپنے تجربوں کی روشنی میں لوہے کے ہتھیاروں کے بجائے معاشی ہتھیاروں اور سفارتی ہتھیاروں سے قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ معاشی ہتھیاروں سے فتح کرنے کےلئے عالمی مالیاتی ادارے جن میں عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور اس قسم کے دیگر دارے ہیں ۔

دوسرا طریقہ سفارتی سطح پر اقوام متحدہ نامی تنظیم بنائی گئی اور اس کی کئی ذیلی شاخیں اور کمیٹیاں بھی بنائی گئیں جن کے ذریعے سفارتی ذرائع سے دنیا کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ آج جب ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں جن خدشات کا اظہار میں 1985سے 1990 اور آج تک کرتا رہا ہوں آج وہ حقیقت بن کر سامنے کھڑے ہیں۔ اس خطرے کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ خطبہ حج میں سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے مسلمانوں کو دولت مشترکہ کی طرز پر مسلمان ملکوں کی مضبوط اور عملی تنظیم بنانے کا مشورہ دیا اور اب اسلام آباد میں G-8 ممالک کی کانفرنس میں بھی اقوام متحدہ کی طرز پر مسائل کو حل کرنے کےلئے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ مگر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ صرف نعروں ، اعلانات اور مشترکہ اعلامیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی طور پر کردار ادا کرنے سے ہی حل ہونگے۔ جس طرح عالمی مالیاتی اداروں کو امریکہ اپنے ملک میں مرکزی آفس قائم کرکے دنیا کو سودی معیشت میں جکڑ کر قبضہ کرچکا ہے اسی طرح آج چاہے اقوام متحدہ ہو، چاہے سلامتی کونسل ہو اس کو ہر چیز امریکی عینک ہی سے نظر آتی ہے کیونکہ نہ اس کو 1948 اور 1949 کی اپنی ہی قرار دادیں جو کشمےر پر پاس کی ہوئی ہیں ابھی تک نظر آ رہی ہیں نہ فلسطین پر امریکی شہ پر اسرایئل کے مظالم نظر آ رہے ہیں ۔ دور نہ جائے ماضی قریب میں نہ اسکو برما کے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام نظر آیا، نہ اس کو عراق، افغانستان میں امریکی دہشت گردوں کی خبر لینے کی توفیق ہوئی ۔

آج ہمیں اگر واقعی احساس ہو گیا ہے کہ دنیا کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی جو تقریباً 50 سے زیادہ ممالک پر مشتمل ہے وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے جس کا سب سے پہلے احساس 1973-74 میںPPP کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کو ہوا تھا آج اس PPP کیلئے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے بانی کی اس خواہش پر جسکو پانے کے لئے عالمی قوتوں خصوصاً امریکہ نے اس کو نشان عبرت بنا دیا۔ اگر آج ہم نیک نیتی سے ان منافقتوں اور مصلحتوں سے بھرپور اداروں سے جان چھڑا کر اپنی معاشی اور سےاسی خود مختاری کا ثبوت دیں اور یکسوئی کیساتھ اپنے وسائل استعمال کر کے کام کریں تو میں سمجھتا ہوں آج بھی ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اقوام متحدہ اور اسکی سلامتی کونسل نے جس طرح اپنے رویوں سے دنےا کے ترقی پذیر ممالک اور خصوصاً اسلامی ممالک کو مایوس کےا ہے اسکی حقیقت اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے ۔جو کام امریکہ نے فوراً حاصل کرنا ہو وہ انڈونیشیا کے صوبے مشرقی تیمور کو آزادی دلانے کا مسئلہ ہو یا کسی ملک پر چڑھائی کا مسئلہ ہو وہ چند گھنٹوں میں نا صرف قرارداد پاس ہو جاتی ہے بلکہ اس پر امریکہ اور اسکے اتحادی اپنے تمام وسائل کے ساتھ ٹوٹ پڑتے ہیں اور اس میں نہ وہ جنیوا کنونشن کے اعلامیوں کا خیال کرتے ہیں نہ عالمی جنگی قوانین کا بھرم رکھتے ہیں اور نہ ہی دنیا کا کوئی ادارہ ان کو روکنے کی جرات کر سکتا۔

حالانکہ اس وقت دنیا کے 70 فےصد قیمتی وسائل مسلمان ملکوں کے پاس ہیں اور اس بات کا یہودیوں، نصرانیوں اور ہندﺅں کو مکمل احساس ہے جسکے پیش نظر وہ ایک طویل حکمت عملی کے تحت مسلمان ملکوں میں شورش برپا کرتے رہتے ہیں، ان میں اختلافات بھی پیدا کرتے رہتے ہیں اور پھر اپنے ہی مقاصد حاصل کرنے کے بعد ان کو فاش بھی کر دیتے ہیں جس طرح کولن پاﺅ ل نے ریٹائر ہونے کے بعد اپنی کتاب میں بھی انکشاف کہا کہ ہم نے تو 9/11 میںہ سوچ کر پرویز مشرف کے سامنے 7 شرائط رکھی تھیں کہ وہ اس میں زیادہ سے زیادہ 3یا 4 کی حامی بھرے گا مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ بے وقوف 7 سے زیادہ شرطیں بھی ہوتیں تو وہ ماننے کو تیار تھا۔ کاش آج ہمارے ارباب اختیار، فیصلہ کرنے والی قوتیں، اہل دانش، NGO's اور چند تاجروں و صنعت کاروں کا ایک مخصوص گروپ جس طرح امریکہ کا ہمنوا بنا ہوا ہے وہ اس تاریخ کو ذرا دیکھ لے کیونکہ امریکہ نہ کسی کا پہلے وفادار تھا نہ آج ہے نہ آئندہ ہو گا کیونکہ وہ اپنے بنائے ہوئے اداروں کے ذریعے دنیا پر صرف اپنی حکمرانی چاہتا ہے اور اس کیلئے وہ افراد کو استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے۔ اس لیے اگر اب دنیا کے ترقی پذیر ممالک خصوصاً اسلامک بلاک امریکہ کی اس بین الاقوامی دکان بند کر دیں تو میں سمجھتا ہوں یہ ہم سب کے لئے بہتر ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے جس طرح اپنی پوری تاریخ کو امریکی مفادات کے لئے استعمال کر کے تاریک بنا دیا ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس لیے اس دکان کو اب بند ہی ہو جانا چاہیئے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.