.

جمہوریت ۔ حل صدارتی نظام

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
میں نے ان سے پوچھا ’’ آپ پارٹی کے قائد ہیں‘ پارٹی آپ کے نام سے منسوب ہے‘ آپ اگر خدانخواستہ کل انتقال کر جائیں تو پارٹی کا کون سا شخص آپ کی جگہ لے سکے گا‘‘ انھوں نے چند لمحے سوچا اور اس کے بعد خاندان کے چند لوگوں کے نام دہرا دیے‘ میں نے خاندان کے ان لوگوں کی کمزوریاں ان کے سامنے رکھ دیں‘ وہ خاموشی سے سنتے رہے اور آخر میں بولے ’’ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ قیادت کا بہتر فیصلہ کرے گا‘‘ میں نے عرض کیا ’’گویا آپ کے پاس اپنی کوئی ری پلیس منٹ نہیں‘‘ وہ خاموش رہے‘ میں نے عرض کیا ’’جناب جو شخص 30 سال کی قیادت میں اپنی ری پلیس منٹ تیار نہیں کر سکا‘ وہ پوری قوم کیسے تیار کرے گا‘‘ وہ یہ سن کر ناراض ہو گئے۔

ان کی ناراضی اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ایک شخص کے ناتواں کندھوں پر قائم ہیں‘ آج اگر صدر آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو زرداری دنیا میں نہیں رہتے‘ آج میاں نواز شریف‘ چوہدری شجاعت حسین‘ اسفند یار ولی‘ مولانا فضل الرحمن‘ الطاف حسین اور عمران خان دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ ہی ان کی سیاسی جماعت بھی دفن ہو جائے گی کیونکہ بدقسمتی سے کسی پارٹی میں کسی قائد کی ری پلیس منٹ موجود نہیں چنانچہ سوال پیدا ہوتا ہے جو پارٹی اپنے لیے قائدین کا بندوبست نہیں کر سکی وہ پارٹی ملک کے اٹھارہ کروڑ لوگوں کے لیے وسائل کہاں سے پیدا کرے گی‘ میاں نواز شریف اس بدقسمتی کی سب سے بڑی مثال ہیں‘ یہ 2007ء میں اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کا نعرہ لگا کر پاکستان آئے‘ مجھ سمیت اس ملک کی اکثریت نے ان کا ساتھ دیا لیکن پھر میاں صاحب کی اقدار کا قلعہ آہستہ آہستہ گرنے لگا‘ میاں صاحب نے پنجاب کا اقتدار بچانے کے لیے پہلے پاکستان مسلم لیگ ق کے ان ایم پی ایز کو اپنا لیا جو 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کو نو بار وردی میں صدر منتخب کرانا چاہتے تھے اور جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں صدر پرویز مشرف اور ان کی وردی کے حق میں باقاعدہ قرارداد پاس کی تھی‘ پاکستان مسلم لیگ ن کی آشیر باد پر ان بھگوڑوں کا یونی فکیشن گروپ بنا۔

اس نے میاں شہباز شریف کی حمایت کی اور اس کے بدلے ان لوگوں کے حلقوں میں ان کی مرضی کے ڈی سی اوز‘ ڈی پی اوز اورتحصیلدار تعینات ہونے لگے اور انھیں خاموش کرپشن کی اجازت بھی مل گئی‘ میاں صاحب نے اس کے بعد چوہدری نثار اور میاں شہباز شریف کو ’’ برے سپاہی‘‘ کا رول دے دیا‘ یہ دونوں صدر آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو علی بابا چالیس چور بھی کہتے تھے‘ یہ زرداری کو صدر نہ ماننے کے نعرے بھی لگاتے تھے‘ یہ پارلیمنٹ سے واک آئوٹ بھی کرتے تھے اور یہ حکومت کی تمام ترامیم کی حمایت بھی کرتے تھے جب کہ میاں نواز شریف صدر زرداری کی خاموش حمایت کرتے رہے اور یوں اس کرپٹ دور نے جمہوریت کے نام پر پانچ سال پورے کر لیے ‘ میاں نواز شریف نے اس کے بعد ہم خیال اور پرویز مشرف کے ’’ اچھے ساتھیوں‘‘ کے لیے اپنے دروازے کھول دیے‘ آج حالت یہ ہے جنرل پرویز مشرف کے وزراء ایک ایک کر کے پاکستان مسلم لیگ ن جوائن کر رہے ہیں۔

وزارت عظمیٰ کے دائمی امیدوار ہمایوں اختر پاکستان مسلم لیگ ن کے منشور اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں اور میاں نواز شریف خواجہ محمد ہوتی کو ن لیگ میں شامل کر کے یہ اعلان کر رہے ہیں خواجہ ہوتی کا مشن میرا اصل مشن ہے اور ساتھ ہی میاں صاحب یہ اعتراض بھی کرتے ہیں لوگ ان کی اقدار کی سیاست کی تعریف کیوں نہیں کر رہے‘ میں جب بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ حالت دیکھتا ہوں تومیرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جو کچھ میاں نواز شریف اب کر رہے ہیں ‘یہی کرنا تھا تو یہ 2008میں ہی کر گزرتے توملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔وہ 2008ء میں پوری ق لیگ کو گود لے لیتے تو انھیں ایک ایک کر کے اس گندکو جھولی میں ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ ایسا ہو کیوں رہا ہے؟ اس کی وجہ بہت سیدھی ہے‘پاکستان میں میاں نواز شریف ہوں‘ آصف علی زرداری ہوں یا پھر عمران خان یہ اس وقت تک اقتدار میں نہیں پہنچ سکتے جب تک ان کے پاس تگڑے امیدوار نہیں ہوں گے اور تگڑے امیدوار اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کریکٹر لیس لوگ ہیں‘ یہ ان پڑھ بھی ہیں‘ جاہل بھی‘ کرپٹ بھی‘ ظالم بھی‘ دھڑے باز بھی اور برادری ازم کا شکار بھی۔ ہمارے ملک کی حالت یہ ہے گوجروں کے حلقے سے آرائیں نہیں جیت سکتا‘ آرائیوں کے حلقوں سے جاٹ اور راجپوت نہیں جیت سکتا اور شیعہ اکثریت سنی کو ووٹ نہیں دیتی اور سنی کسی شیعہ امیدوار کو تسلیم نہیں کرتے‘ عوام آج بھی ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں چنانچہ انھیں ایسا ایم پی اے اور ایم این اے چاہیے ہوتا ہے جس کا ڈنڈہ مضبوط ہو چنانچہ آج پارٹیاں برادریوں‘ فرقوں اور دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہیں‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے پاکستان پیپلزپارٹی سندھیوں کی جماعت ہو چکی ہے‘ ن لیگ کشمیریوں کی جماعت بن چکی ہے‘ ق لیگ جاٹوں کی جماعت ہے‘ ایم کیو ایم کراچی اور حیدرآباد کے مہاجروں کی جماعت ہے‘ جے یو آئی مولویوں کی جماعت بن چکی ہے۔

جماعت اسلامی مولانا مودودی کے ماننے والوں کی جماعت ہے اور عمران خان ملک کے نوجوانوں اور پڑھے لکھے بے اثر لوگوں کے لیڈر ہیں‘ یہ جماعتیں ’’تگڑے‘‘ امیدواروں کے ذریعے الیکشن لڑتی ہیں‘ الیکشن میں اکثریت حاصل نہیں کر پاتیں تو انھیں اتحاد بنانا پڑتا ہے اور یہ سیاسی اتحاد کرپشن‘ لوٹ کھسوٹ‘ اقرباء پروری‘ بیڈ گورننس اور بدمعاشی کا بہت بڑا کمپرومائز ہوتا ہے‘ آپ آج چاہیں بھی تو کراچی کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتے‘ آپ کالاباغ ڈیم نہیں بنا سکتے‘ آپ ریلوے اور پی آئی اے بھی ٹھیک نہیں کر سکتے کیونکہ ان ایشوز پر آپ کے اتحادی بیٹھے ہیں اور یہ اتحادی اداروں میں ریفارمز نہیں چاہتے چنانچہ آصف علی زرداری ہوں یا میاں نواز شریف ہوںیہ دونوں ’’ ہیلپ لیس‘‘ ہیں اور آپ ان کی جگہ کوئی فرشتہ بٹھا دیں گے تو وہ بھی چھ ماہ میں ناکام ہو جائے گا ‘ میچ جیتنے کے لیے صرف اچھا کپتان ضروری نہیں ہوتا‘ ٹیم بھی درکار ہوتی ہے اور سیاسی جماعتوں کی ٹیمیں ایسے نااہل‘ ان پڑھ‘ جاہل اور کرپٹ امیدواروں پرمشتمل ہیں جو اپنی تمام تر کرپشن اور نالائقی کے باوجود الیکشن جیت سکتے ہیں اور سسٹم کی یہ جلی سڑی اینٹیں ملک کے ماتھے پر لگائی جاتی ہیں اور یہ ماتھا بعد ازاں پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔

ہم اب آتے ہیں اس کے حل کی طرف‘ پاکستان کو بچانے کااب واحد دستوری طریقہ صدارتی نظام ہے‘ ملک کو پارلیمانی سے صدارتی نظام پرشفٹ کر دینا چاہیے‘ پاکستان میں آئین بے شک یہی رہے لیکن حکومت سازی کے تمام اختیارات وزیراعظم سے صدر کو منتقل کر دیے جائیں‘ قوم امریکا کی طرح صدر اور نائب صدر کو براہ راست یا ایم پی اے اور ایم این اے کے ذریعے منتخب کرے اور صدر ملک کے کسی بھی شخص کو وزیر یا مشیر بنا سکے‘ ملک کا سارا تر ترقیاتی بجٹ یونین کونسلز کے حوالے کر دیا جائے اور صدر ایم پی اے اور ایم این اے کی کوئی درخواست قبول نہ کرے‘ مجھے یقین ہے ملک بحرانوں سے نکل جائے گا کیونکہ صدر کابینہ کے لیے بہترین لوگوں کا انتخاب کر سکے گا‘ ایم این اے اور ایم پی اے کی مناپلی ٹوٹ جائے گی‘ ترقیاتی بجٹ اور نوکریاں سیاستدان کے ہاتھ سے نکل کر اداروں کے پاس چلی جائیں گی اور یوں مفاد پرست لوگوں کے لیے الیکشن میں کوئی کشش نہیں رہے گی۔

یہ لوگ الیکشن نہیں لڑیں گے چنانچہ ان کی جگہ پڑھے لکھے اور ایماندار لوگ آگے آجائیں گے اور ملک ترقی کی پٹڑی پر آ جائے گا‘ پاکستان کی فلاح بہرحال صدارتی نظام میں چھپی ہے اور ہمیں جلد یا بدیر اس نظام پر جانا ہو گا‘ میری تجویز ہے یہ حکومت پانچ سال پورے کر لے تو کیئر ٹیکر حکومت بنائی جائے‘ یہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہو‘ یہ دو سے تین سال اقتدار میں رہے‘ یہ ملک میں کڑا احتساب کرے‘ اداروں کی بحالی کے لیے کام کرے‘ ملکی معیشت‘ لاء اینڈ آرڈر اور ملک کا بین الاقوامی امیج ٹھیک کرے‘ ملک کو پارلیمانی سے صدارتی نظام پر لائے‘ پارٹیوں کے اندر جمہوریت لائے اور دو سے تین سال بعد الیکشن کرا دے‘ اس سے ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں یہ الیکشن ملک کو برباد کر دیں گے کیونکہ ان الیکشنوں میں کوئی جماعت سنگل میجارٹی حاصل نہیں کر سکے گی‘ الیکشن کے بعد گدھوں اور گھوڑوں کی بولی شروع ہو جائے گی اور یہ بولی ملک کو تباہ کر دے گی ہمارے اگلے الیکشن ملک کو بریک یا میک پر لے جائیں گے اور مجھے خطرہ ہے تباہی کا یہ ہار کہیں میاں نواز شریف کے گلے نہ پڑ جائے‘ یہ کہیںتاریخ کے بیلنے میں نہ آ جائیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.