.

کاش وہ مرغابی ہوتا

علی معین نوازش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے نواح میں ایک جھیل کے کنارے کسی جاپانی نے دیکھا کہ ایک مرغابی کے جسم میں ایک چھوٹا سا تیر پیوست ہے۔وہ تیر غالباً کسی بچے کے کھلونے کا حصہ تھا اور کسی بچے نے ہی نادانی میں وہ تیر چلا کر مرغابی کا شکار کرنا چاہا لیکن تیر چھوٹا ہونے کیوجہ سے مرغابی کو مارتو نہ سکا لیکن اس کے جسم میں پیوست ہو گیا۔جاپانی شہری نے اس زخمی مرغابی کو دیکھا تو اس نے ریسکیو والے عملے کو فون کردیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ریسکیو کا عملہ گاڑیوں سمیت وہاں پہنچ گیا۔لیکن جب مرغابی کو پکڑنا چاہا کہ اس کے جسم میں پیوست تیر نکال دیا جائے تو مرغابی اڑان بھر کر جھیل کے دوسرے کنارے پر چلی گئی۔یہ صورتحال دیکھ کر ریسکیو کے عملے نے اپنے ہیڈکوارٹر سے مزید مدد مانگی اور دیکھتے ہی دیکھتے ریسکیو کا ہیلی کاپٹر اپنے عملے سمیت وہاں پہنچ گیا اور یہ بات جاپانی میڈیا تک بھی پہنچ گئی۔ ریسکیو عملہ اس مرغابی کو علاج کی غرض سے پکڑنا چاہ رہا تھا اور میڈیا کے لوگ ملک بھر کے عوام کو لائیو کوریج کے ذریعے آگاہ کر رہے تھے یوں جاپان کے بچے، مرد اور خواتین اس مرغابی کے بارے میں متفکر ہو گئے۔

ہرکوئی اس بے زبان پرندے کی تکلیف کے حوالے سے پریشان تھا اور انہیں یہ فکر لاحق تھی کہ کہیں یہ مرغابی اس چھوٹے تیر کی وجہ سے مر نہ جائے۔کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد مرغابی کو پکڑ کر اسے ویٹرنری ہسپتال لے جایا گیا۔جوں ہی مرغابی میڈیا کے کیمروں کے سامنے سے اوجھل ہوئی، درد دل رکھنے والے مزید پریشان ہو گئے۔حالانکہ میڈیا پر کسی سربراہ مملکت کی طرح اس کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جا رہا تھا۔خدا خدا کرکے مرغابی کا تیر نکال کر اس کے زخم کا علاج کرنے کے بعد اسے ایک عوامی ہجوم کے سامنے فضاء میں اڑا دیا گیا۔لوگوں نے تالیاں بجا کرخوشی کا اظہار کیا اور یوں ایک بے زبان پرندے کی جان بچ گئی۔ شاید وہ پرندہ کہیں جا کر جاپان کے لوگوں کے لئے سٹیٹمنٹ تو نہ دے سکے، شاید جاپان کی حکومت اور وہاں کے ریسکیو کے ادارے کے حق میں پریس کانفرنس بھی نہ کرسکے لیکن اس پرندے کے ذریعے ان کے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو یہ پیغام ضرور گیا ہو گا کہ انسان توانسان، چرند پرند بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کو بھی دکھ اور تکلیف سے بچانا چاہئے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.