.

اقوام متحدہ کا فلسطین کیلئے پیدائشی سرٹیفکیٹ

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی عوام طویل عرصے سے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے خواہشمند ہیں۔ 1993ء میں اوسلو معاہدے کے تحت پی ایل او اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا تاہم دو دہائیوں کے بعد بھی امن کا کوئی مستقل حل نہیں نکل پایا جبکہ براہ راست مذاکرات ناکام رہے جس کے بعد فلسطینی رہنماؤں نے ایک نئی حکمت عملی کے تحت دنیا کے ممالک سے استدعا کی کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک آزاد ملک تسلیم کریں۔2011ء میں فلسطین اتھارٹی کے صدر اور پی ایل او کے چیئرمین محمود عباس نے 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطین کو اقوام متحدہ کا ممبر ملک بنانے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی جس کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کی درخواست دی۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین اتھارٹی کا درجہ بڑھائے جانے کی قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں 193 ممالک میں سے فرانس، روس، چین، جنوبی افریقہ اور بھارت سمیت 138 ممالک نے قرارداد کی حمایت اور اسرائیل، امریکہ اور کینیڈا سمیت 9 ممالک نے مخالفت میں ووٹ ڈالا جبکہ برطانیہ سمیت41 ممالک نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا، اس طرح فلسطین کو بھاری اکثریت سے غیر رکن مبصر کا درجہ مل گیا۔ واضح ہو اس سے قبل فلسطین کو صرف مستقل مبصر کا درجہ حاصل تھا جبکہ اقوام متحدہ میں ویٹی کن وہ واحد ریاست ہے جسے غیر رکن مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا کہ ”65 سال قبل آج ہی کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے فلسطین کو 2 حصوں میں تقسیم کیا تھا اور اسرائیل کو پیدائش کا سرٹیفکیٹ دیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کو پیدائش کا سرٹیفکیٹ جاری کرے“۔

اقوام متحدہ میں ہونے والی اس پیشرفت سے اسرائیل میں سوگ کا سماں ہے جبکہ اپنی سبکی کے بعد اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں بنانے کا اعلان کیا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے اپنی غصیلی تقریر میں کہا کہ ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ اقوام متحدہ کی اس عمارت سے نہیں جاتا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اپنے بیان میں قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو نیا درجہ ملنے سے امن مذاکرات متاثر ہوں گے۔ اسرائیلی ہمنوا امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے فلسطین کا درجہ بڑھنے پر اسے بدقسمتی قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے امن مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ فلسطین کی تاریخی فتح کے بعد محمود عباس جب وطن واپس پہنچے تو ان کا ایک ہیرو کی طرح شاندار استقبال کیا گیا، فلسطینی نوجوان بڑی تعداد میں قومی پرچم اٹھائے سڑکوں پر موجود تھے اور ملک بھر میں جشن کا سماں تھا۔ اس موقع پر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کو غیر رکن مبصر ریاست کے درجے کے حصول میں طویل جدوجہد اور بے انتہا دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن فلسطینی عوام ثابت قدم رہ کر کامیاب ہوئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ فلسطینی عوام اور صدر محمود عباس کی بڑی سفارتی فتح ہے جبکہ اسے امریکہ اور اسرائیل کی سفارتی ناکامی قرار دیا جارہا ہے۔ فلسطینیوں کو یہ درجہ ملنے کے امکانات شروع سے ہی قوی تھے کیونکہ اس قرارداد کو جنرل اسمبلی میں سادہ اکثریت نے منظور کرنا تھا اور اس طریق عمل میں سیکورٹی کونسل کی طرح ویٹو کا بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قرارداد کے حق میں 138 ممالک کی ووٹنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو شدید خفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہیں سبق مل گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کتنے تنہا ہیں۔ فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد مذاکرات میں اس کی پوزیشن مستحکم ہوگی اور فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی بحث میں بھی حصہ لے سکے گا مگر اسے ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ فلسطین کو اقوام متحدہ کے دیگر اداروں میں شمولیت حاصل ہوجائے گی جن میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی رکنیت بھی شامل ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو فلسطینی اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کر سکیں گے۔

کسی ملک کیلئے اقوام متحدہ کی رکنیت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس موقع پر دوسری اقوام کی حمایت اور مخالفت ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے جو ملک کی تاریخ رقم کرتی ہے۔ آج یہ کالم تحریر کرتے ہوئے مجھے 30 ستمبر 1947ء کا وہ یادگار دن یاد آرہا ہے جس دن سیکورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے پاکستان کا نام اقوام متحدہ میں شامل کرنے کی قرارداد 54 ممالک کی جنرل اسمبلی میں پیش کی اور پاکستان کو اقوام متحدہ کا ممبر ملک بنانے کی حمایت میں 53 ممالک جبکہ مخالفت میں ایک ملک نے ووٹ ڈالا۔ قارئین آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان کی مخالفت کرنے والا ملک یقینا بھارت ہوگا مگر ایسا نہیں، بدقسمتی سے پاکستان کی مخالفت کرنے والا ملک ہمارا پڑوسی اسلامی ملک افغانستان تھا جبکہ آزادی کے بعد پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران تھا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والا کبھی ہمارا دوست نہیں ہوسکتا۔ فلسطین کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد فلسطین کو ”پیدائشی سرٹیفکیٹ“ تو ضرور مل گیا لیکن فلسطینی ابھی تک اپنے پیدائشی حق اور فلسطینی ریاست کے قیام سے محروم ہیں مگر وہ دن دور نہیں جب ان کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور فلسطین اقوام متحدہ کا ممبر ملک ہوگا۔

بہ شکرہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.