.

جیمز ملر کی آمد اور اوباما کی پاکستان پالیسی

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات میں صدر اوباما کی مزید چار سال کیلئے انتخابی کامیابی کے بعد وزیر خزانہ حفیظ شیخ واشنگٹن کا چکر لگا کر یہ امریکی پیغام واضح الفاظ میں وصول کر چکے ہیں کہ اب پاک امریکہ تعلقات میں ایڈ کی نہیں بلکہ صرف ٹریڈ کی گنجائش ہے۔ ظاہر ہے ٹریڈ کے لئے امریکی شرائط، ضوابط اور دیگر تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ ویسے بھی مشہور اور متنازع کیری لوگر ایکٹ کی امدادی مدت بھی اپنے میعادی انجام کو پہنچنے والی ہے اور اس ایکٹ کے تحت امریکی امداد کی تقسیم کا حشر بھی سب کے سامنے ہے اور اسی رواں ہفتے میں پاک امریکی دفاعی تعاون کے بارے میں مذاکرات کے لئے پینٹاگون کے پالیسی چیف ڈاکٹر جیمز ملر امریکی وفد کے ساتھ پاکستان میں ملاقاتیں اور مذاکرات کریں گے۔ ڈاکٹر ملر پینٹاگون کی پالیسیوں کی تشکیل میں ”ٹاپ سویلین“ عہدے پر فائز ہیں اور انڈر سیکرٹری کے اسی عہدے پر فائز مشعل فلورنائی کے معاون کی حیثیت سے افغان پالیسی کی تشکیل میں اہم رول اور مشعل فلورنائی کا اتنا اعتماد حاصل کر چکے ہیں کہ میری معلومات کے مطابق اپنی سبکدوشی پر نائب وزیر دفاع مشعل فلورنائی نے ہی ڈاکٹر ملر کو اپنا جانشین مقرر کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ جب مشعل فلورنائی سے امریکہ کی انتخابی مہم کی شدت کے دوران مٹ رومنی، اوباما مباحثے کے بعد میڈیا ہال میں میری ان سے آن ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ گفتگو ہوئی تو وہ جیمز ملر کی صلاحیتوں، ان پر اعتماد اور پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے تسلسل کو قائم رکھنے کے حوالے سے بڑی پُرامید تھیں۔

اوباما کی انتخابی جیت کے بعد ڈاکٹر جیمز ملر کی قیادت میں مذاکراتی وفد کی پاکستان آمد سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی موجودہ پالیسیاں ہی جاری رہیں گی اور امریکی صدارت کی دوسری میعاد کے افتتاح، کابینہ میں تبدیلیوں اور دیگر اقدامات سے امریکی پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ویسے بھی امریکی نائب وزیر دفاع جیمز ملر سینٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی حکمت عملی مفید اور موٴثر انداز میں کام کر رہی ہے، اس کے مقاصد جلد ہی حاصل ہوں گے۔ اس کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ نتائج کا انتظار کرنا ہو گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ جیمزملر نہ صرف افغانستان اور پاکستان کے بارے میں پینٹاگون کی پالیسی کے امور کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں ”عرب اسپرنگ“ ایران کے ایٹمی امور، افغانستان کی جنگ اور پاک امریکہ دفاعی امور سمیت مسلم دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع کی پالیسیاں تشکیل دینے میں اہم رول رکھتے ہیں لہٰذا ان کا زیر بحث دورہٴ پاکستان مذاکراتی کم اور مطالعاتی زیادہ ہو گا تاکہ وہ ”اوباما وکٹری“ کے تناظر میں پاکستانی قیادت کے موڈ اور سوچ میں کسی تبدیلی یا تسلسل کا اندازہ خود کر سکیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر جیمز ملر اور ان کے وفد کے مدمقابل بیٹھ کر پاکستانی مفادات کی ترجمانی اور تحفظ کرنے والے پاکستانی قائدین کن صلاحیتوں اور سوچ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس تمام تر صورت حال بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ صدر اوباما کی صدارت کے اگلے چار سالوں کے دوران پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟ کیا اوباما کی موجودہ پالیسیوں میں پاکستان کے حوالے سے کسی تبدیلی کی توقع ہے؟ کیا پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے پاکستانی اعلانات میں کوئی حقیقت ہے؟ ان سوالات کے جواب میں بعض حقائق کی نشاندہی کرنا میرا کام ہے اور رائے قائم کرنا قارئین کرام کا حق ہے۔ گزشتہ دو سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جب کبھی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھارت کے دورے پر گئیں جنوبی ایشیاء میں طاقت اور پالیسی کے توازن کے حامی امریکہ کے ترجمان کے طور پر ہلیری کلنٹن نے ہر بار بھارت کیلئے عملی خوشخبری اور پاکستان کیلئے بری خبر سنائی۔ آج یہ صورت حال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اتحادی بن کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینے والا پاکستان اور ماضی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں امریکی اتحادی پاکستان کو ہر طرح کی امریکی تنقید، دباؤ اور تلخیوں کا نشانہ ہے جبکہ ایک بھی گولی چلائے بغیر دور رہنے والا بھارت اب امریکی تائید اور تحفظ کے ساتھ جنوبی ایشیاء کے خطے کی علاقائی سپر پاور بن گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی علاقائی سپر پاور اسرائیل اور جنوبی ایشیاء کی علاقائی سپر پاور بھارت اب امریکی حمایت کے ساتھ کیا رول ادا کرتی ہیں؟ وہ آنے والا وقت جلد ہی ظاہر کر دے گا۔ بہرحال اوباما کے آئندہ چار سالوں میں پاکستان کیلئے بہتر صورت حال نظر نہ آنے کی ایک وجہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھی ہے جس کے بارے میں امریکی مقاصد میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں ہوئی البتہ ایران کی ایٹمی طاقت کا خاتمہ اسرائیل اور امریکہ کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے افغان سر زمین، پاکستانی تعاون اور بھارتی رول کی لازمی ضرورت ہے خواہ اس مقصد کے حصول کا طریق کار کچھ بھی ہو۔ امریکی وفد پاکستانی قائدین سے ایران کے موضوع پر بھی گفتگو کرنے اور پاکستانی موٴقف جاننے کا خواہشمند ہو گا۔

بہرحال ہلیری کلنٹن کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد بھارت کے دورے پر جانے والی امریکی خاتون انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمن کے 26نومبر کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جو بھارت کو عالمی امریکی اتحاد کا لازمی حصہ، افغانستان میں اہم رول اور پاکستان پر مزید دباؤ اور مطالبات کے امریکی وعدوں سے بھرا پڑا ہے جسے داخلی مسائل کے شکار پاکستان میں بہت کم لوگوں نے سنا یا پڑھا ہے۔اس کے علاوہ مٹ رومنی،اوباما مباحثے کے دوران صدر اوباما کا پاکستان کے بارے میں عدم اعتماد اور فرسٹریشن اس جملے سے واضح تھا کہ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے میں پاکستان سے صلاح مشورہ کرنے کے بارے میں مٹ رومنی نے بات کی تو اوباما نے بے ساختہ یہ کہا کہ اگر پاکستان سے صلاح مشورہ کرتے تو اسامہ کو کبھی ہلاک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بعض ڈیموکریٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے صدر بنتے ہی پاکستان سے تعاون کیلئے ہاتھ بڑھایا مگر پاکستانی قیادت نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور اوباما کو مایوس کیا۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ میں بھارتی کمیونٹی کی لابی اب کمیونٹی حدود سے نکل کر امریکہ کے سیاسی نظام میں ایک موٴثر اور مکمل لابی بن چکی ہے جسے اسرائیلی لابی کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یو ایس ایڈ کے سربراہ اور دیگر کئی اہم عہدے، پالیسی ساز پوزیشن اور اہم ذمہ دار عہدوں پر بھارت نژاد امریکی سیاست اور حکومت کے عہدوں پر فائز ہیں لہٰذا صدر اوباما کے دور میں پاکستان کے لئے مشکل وقت آنے والا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.