.

کیا امریکا افغانستان سے نکل جائے گا؟

ڈاکٹر رشید احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جوں جوں سال 2014ء قریب آرہا ہے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ سوال تیزی سے موضوع بحث بنتا جا رہا ہے کہ کیا امریکہ اپنے وعدہ کے مطابق 2014ء کے اختتام تک اپنی فوجیں واپس بلا لے گا؟ اگر امریکی حکومت اور خود صدر باراک حسین اوباما کے بیانات کو سامنے رکھیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ امریکہ آئندہ دو سال تک افغانستان کو خالی کرنے کو تیار بیٹھا ہے۔ کچھ اور وجوہات بھی ہیں جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ مثلا امریکہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب جدید ترین اور مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس فوج کے باوجود صرف رائفل اور راکٹ لانچر سے مسلح چند ہزار طالبان کو زیر نہیں کرسکا۔ طالبان پہلے دفاعی جنگ لڑرہے تھے۔ اب انہوں نے جارحانہ حملے کرنا شروع کردئیے ہیں۔ امریکہ کی کمان میں لڑنے والی نیٹو افواج کا پورا افغانستان میں ایسا کوئی ٹھکانہ یا اڈہ نہیں جو طالبان کے حملوں سے محفوظ ہو۔ ان حملوں سے امریکی افواج کے جانی نقصان میں اضافہ ہورہا ہے۔ افغان نیشنل آرمی اور پولیس کے سپاہی بھی موقع ملنے پر نیٹو اور امریکی سپاہیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب تک ایک سو سے زیادہ امریکی اور نیٹو سپاہی اپنے ہی اتحادی افغان فوجیوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دیگر نیٹو ممالک کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سے مغربی ممالک مثلا برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، فرانس اور خود امریکہ میں افغانستان کی جنگ کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ممالک کی حکومتوں پر افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے لیے عوامی دباو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اس کے برعکس 911 کے بعد امریکہ نے افغانستان میں جس طرح جھنڈے گاڑے اور ملک کے طول و عرض میں فوجی اڈوں اور تنصیبات کا جال بچھایا اس پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امریکہ افغانستان سے رخصت نہیں ہوگا۔ روس اور چین ان خدشات کے اظہار میں پیش پیش رہے ہیں۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک یعنی ایران اور وسطی ایشیائی ممالک میں بھی اس مسئلے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ خود پاکستان میں بھی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ موقف ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکل جانا چاہئیے۔ کیونکہ افغانستان کی جنگ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہی وجوہات کے پیش نظر افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی ناگزیر نظر آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ کچھ شواہد ایسے بھی ہیں جن کی بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی شاید کھٹائی میں پڑ جائے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم سوال ہے کہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد افغانستان کا کیا ہو گا۔ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکی افواج کے بغیر صدر کرزئی کی حکومت دو دن بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ جس فوج اور پولیس کو کھڑا کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں وہ طالبان کا جم کر مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس بات کے پیش نظر خدشہ ہے کہ افغانستان میں ایک دفعہ پھر وہی حالات پیدا ہو جائیں گے جو 1989ء میں روسی فوجوں کی واپسی کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ایسی صورتحال میں افغانستان ایک دفعہ پھر خانہ جنگی، افراتفری اور انارکی کا شکار ہوجائے گا جو کسی صورت بھی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لئے سودمند نہیں ہو گا۔

اس سلسلے مین سب سے زیادہ تشویش پاکستان کو ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی 2400 کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ اس سرحد کے دونوں طرف پشتون نسل کے لوگ آباد ہیں۔ افغانستان کے اندر جو بھی حالات پیدا ہوں گے ان کا فوری اثر ہمارے ہاں ہو گا۔ افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پہلے ہی حالات دگرگوں ہیں۔ دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں اگر افغانستان میں امریکہ کے نکل جانے کے بعد افراتفری پیدا ہوتی ہے اور خانہ جنگی بھڑکتی ہے تو اس آگ کے شعلے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

اسی لیے پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے ضرور جائے لیکن جانے سے پہلے اس امر کو یقینی بنائے کہ افغانستان میں سابقہ تاریخ نہیں دہرائی جائے گی اور روسی افواج کے انخلاء کے بعد امریکہ اور بین الاقوامی برادری نے جس بے مروتی کے ساتھ افغانستان سے منہ موڑا تھا اسے دہرایا نہیں جائے گا۔ ٹھوس الفاظ میں پاکستان کے موقف کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور کرزئی حکومت طالبان کے ساتھ امن اور مصالحت کی خاطر مذاکرات کیلئے اپنے موقف میں لچک پیدا کرے اور ایسی شرائط عاید نہ کریں جن کو تسلیم کرنے کیلئے طالبان کو آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔

امریکہ کی طرف سے اصرار ہے کہ طالبان افغانستان کے موجودہ آئین کو تسلیم کریں اور ہتھیار پھینک دیں۔ مناسب نہیں کیونکہ طالبان ان دونوں شرائط کو نہیں مانیں گے اور یوں امن اور مصالحت کا عمل تعطل کا شکار رہے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی یہ شرط کہ طالبان کرزئی حکومت کے ساتھ بات چیت کر لیں حقیقت پسندانہ نہیں امریکہ کو افغانستان مین زمینی حقائق کا تسلیم کرنا چاہئیے پاکستان نے اپنے اس موقف کو امریکہ اور افغانستان دونوں پر واضح کردیا ہے۔ بیلجیم کے دارلحکومت برسلز میں واقع نیٹو کے ہیڈکوارٹرز میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی سربراہی میں پاکستانی وفد اور نیٹو کے حکام کے درمیان حال ہی میں جو مذاکرات ہوئے ان میں بھی پاکستان نے اپنے اسی موقف کو دہرایا ہے۔

اس کی واضح شہادت پاکستان اور افغانستان کے درمیان حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کی صورت حال میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ 30 نومبر کو افغانستان کے وزیر خارجہ زلمے رسول اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کے ایک روزہ دورے پر تشریف لائے تھے۔ نومبر میں افغان وزیر خارجہ کا یہ دوسرا پاکستان کا دورہ تھا۔ پہلے دورے کے نتیجے میں پاکستان نے ایک درجن کے قریب ان طالبان رہنماوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا جو پاکستان کی جیلوں میں بند تھے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھ رہا ہے۔



دوسری طرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان بھی سرد مہری ختم ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں ہلاکت کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی کافی حد تک تلافی ہو چکی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی رابطے بحال کرنے کے لیے واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے ہیں دونوں ممالک عنقریب سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی بحالی کیلئے بھی مذاکرات کرنے والے ہیں۔

یہ تمام ہلچل اور سفارتی بھاگ دوڑ صرف ایک مقصد کے لئے ہے۔ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔ مذاکرات کے ذریعے تمام فریقین کو ایک سمجھوتے پر رضامند کیا جائے۔ جس کے ذریعے افغانستان مین جنگ بند ہو۔ امن کا قیام عمل میں آئے اور افغانستان سے امریکی افواج واپس چلیں جائیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ یا نیٹو افغانستان سے لاتعلق ہو جائیں گے۔ امریکہ سٹریٹیجک معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔اس معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کو معاشی اور فوجی امداد فراہم کرتا رہے گا تا کہ کرزئی حکومت قائم رہے اور افغان نیشنل آرمی اور پولیس اس قابل ہو کہ وہ ملک میں سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے سکیں۔ پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی برادری بحی چاہتی ہے کہ فوجی انخلاء کے بعد امریکہ افغانستان کی تررقی اور بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے اس سے جنگ کی تباہ کاریوں اور معاشی بدحالی سے دوچار غریب افغان عوام کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے مِن مدد ملے گی۔ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے آثار روز بروز واضح ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تاہم کچھ خدشات اور تحفظات ہیں جن کو دور کرنے میں دیر ہو سکتی ہیں۔ لیکن افغانستان، اس کے گردو نواح اور خود امریکہ میں جو حالات ہیں ان کے پیش نظر یہ بات یقینی طار پر کہی جا سکتی ہے کہ 2014ء تک امریکی افواج کا غالب حصہ افغانستان سے نکل جئے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.