.

اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کا تاریخ ساز جنم

رانا عبد الباقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین کی تاریخ میں 29 نومبر 2012 مسلمانوں کے قبلہءاوّل یعنی القدس الشریف کی سرزمین کےلئے ظلمات کے گہرے اندھیروں میں اُمید کی نئی کرن لیکر آئی جب امریکہ اور اسرائیل کی پُرزور مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 ووٹوںکے مقابلے میں 138 ووٹوں کی کثیر اکثریت سے فلسطین کو نان ممبر مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں نشست دینے کا اعلان کیا ۔ جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کے چند اتحادیوں جن میں امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس پر شدید دباﺅ ڈالتے ہوئے قرارداد کے ڈرافٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جن میں اسرائیل کےساتھ غیر مشروط گفتگو کرنے کی حامی بھرنے اور اسرائیلی مشاورت کے بغیر اقوام متحدہ کے دیگر سب سڈیری اداروں کی ممبر شپ کیلئے درخوست نہ دینے کے مطالبے شامل تھے ۔

اسرائیل کے حامی مغربی ممالک فلسطین کی قرارداد کے متن میں اِن تبدیلیوں کے اِس لئے بھی خواہش مند تھے کیونکہ اِن ممالک کو یہ خدشات ہیں کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کے تاریخ ساز جنم لئے جانے کے بعد فلسطینی مبصر ریاست ، فلسطین کی territorial حدود کے تعین کےلئے 1967 سے قبل کی حدود بحال کرانے کی جدو جہد کو مہمیز دینے کے علاوہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور وقتاً فوقتاً تباہ کن ہتھیاروں بشمول فاسفورس دھماکہ خیز مواد کے ذریعے indiscriminate بمباری سے بے گناہ انسانوں جن میں کثیر تعداد میں شیر خوار بچے، طلباءو طالبات اور عمر رسیدہ خواتین شامل ہیں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کے اداروں میں قانونی جنگ لڑنے کے قابل ہو جائیگی لہذا ، امریکہ اور اسرائیل کےلئے یہ اَمر انتہائی پریشان کن ہے کہ فلسطینی نان ممبر مبصر ریاست اب اسرائیل کی اِن انسانیت سوز کاروائیوں کو منظر عام پر لانے کےلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں داد رسی کےلئے آواز بلند کر سکتی ہے ۔

یہ درست ہے کہ فلسطین کو مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ووٹ دینے کا حق تو حاصل نہیں ہوگا لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مبصر ریاست کی حیثیت سے فلسطینی نمائندے کی موجودگی اسرائیل کےلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں نئی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے چنانچہ اُوبامہ انتظامیہ اچھائی کی آواز کو خاموش کرنے کےلئے امریکہ اور اسرائیل کے حامی مغربی ممالک کے ہمراہ فلسطین کی مبصر ریاست پر سیاسی دباﺅ ڈالنے کےلئے فلسطین کی اقتصادی اور اخلاقی حمایت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا حربہ استعمال کر سکتی ہے ۔

اِس سے قبل بارک اُوبامہ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے سے قبل امریکی یہودی لابی کے زیر اثر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی قرارداد پر ووٹنگ کے عمل کو معطل کرنے کا حربہ استعمال کر کے فلسطینیوں کی آزادی کی اُمنگوں کا خون کر چکی ہے چنانچہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل میں رکاوٹ پیدا ہونے کے سبب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی صدر محمود عباس کی اِس جرا¿ت پرواز پر فلسطینیوں اور حماس مزاحمت جو مصر میں آنے والے عوامی انقلاب کے باعث پھر سے متحرک ہو چکی تھی کو سزا دینے کےلئے اُوبامہ کے دوبارہ صدر منتخب ہوتے ہی اسرائیل نے غزا کے محصور فلسطینی علاقے میں بے گناہ فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلنے سے گریز نہیں کیا۔ بہرحال مصر کے نئے صدر محمد مرسی کی مداخلت پر حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ضرور طے پا گیالیکن اسرائیل نہ تو کسی معاہدے کی پابندی کرتا ہے اور نہ ہی فلسطین میں امن و امان قائم کرنے سے اُسے کوئی دلچسپی ہے۔

اِس کی ایک مثال اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کو نان ممبر مبصر ریاست کا اسٹیٹس دئیے جانے کے بعد بغیر کسی وارننگ کے غزا کے علاقے میں ایک مسجد کو شہید کئے جانے کے اسرائیلی وحشیانہ اقدام سے بھی ملتی ہے۔ دراصل اسرائیل کی جانب سے خطے کے ممالک کو ڈرانے دھمکانے اور دیدہ دلیری سے مذہبی و اخلاقی اقدار اور بین الا اقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ فلسطین کو ایک subservient اسرائیلی علاقے کے درجے میں رکھ کر خطے میں اپنے جارحانہ عزائم کو مہمیز دینا چاہتا ہے ۔

حقیقت یہی ہے کہ 65 برس قبل اِسی تاریخ یعنی 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی تنظیم نے امریکہ و برطانیہ کے زیر اثر فلسطین میں برطانوی انتداب کا مینڈیٹ ختم کرتے ہوئے فلسطین کو اسرائیل اور فلسطین کے نام سے دو آزاد ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن فلسطین میں عربوں کی غیر معمولی اکثریت کے باوجود اقوام متحدہ کے تقسیم فلسطین کے اِس غیر منصفانہ فیصلے پر عمل کرنے کے بجائے اسرائیل نے فلسطین سے برطانوی فوجوں کی واپسی پر بھی فلسطینی ریاست کو قائم نہیں ہونے دیا اور فلسطین کے بیشتر علاقوںپر طاقت کے زور پر قبضہ کر لیا ۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کو اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو مہمیز دینے کےلئے پہلی جنگ عظیم میں ایک سازش کے تحت برطانیہ اور فرانس کی جانب سے عربوں کو آزادی دینے کا وعدہ کر کے ایک طرف تو عرب مقتدر قوتوں کو خلافت عثمانیہ کے عرب اور افریقی علاقوں میں بغاوت پر اُکسایا اور دوسری جانب اِن یورپی قوتوں نے( خفیہ سائیکی پیکٹ معاہدے) کے تحت خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر اِن عرب و افریقی مقبوضات کی آپس میں بندر بانٹ کر لی ۔

چنانچہ اِسی منصوبے کے تحت برطانیہ نے 1917 میں فلسطین میں اپنی فوجیں داخل کرکے فلسطینی عربوں کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کے وعدوں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں یورپ میں صہیونی یہودیوں کی جانب سے اتحادی فوجوں کی پس پردہ اقتصادی ‘ تکنیکی اور حساس معلومات کی فراہمی کے عوض عربوں سے کئے گئے وعدوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے 2 نومبر 1917 کو برطانوی وزیر خارجہ نے اعلان بل فور کے ذریعے فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر بنانے کا اعلان کر دیا اور اِسی دن سے برطانیہ کی زیر سرپرستی فلسطین میں دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں کو بسانے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا چنانچہ جدید اسلحہ سے لیس مسلح غیر ملکی صہیونی قوتوں کو فلسطین میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ صد افسوس کہ فلسطینی عربوں کے خلاف نا انصافیوں اور ظلم و ستم کے اِس دور کو قانونی جواز فراہم کرنے کےلئے فلسطین کی زمینی حقیقتوں کو فراموش کرتے ہوئے لیگ آف نیشنز کی جانب سے فلسطین کو برطانوی انتداب کے حوالے کر دیا گیا ۔

تیس برس پر حاوی اِس مینڈیٹ کے خاتمے پر بھی 65 برس قبل 1947 میں بھی فلسطینیوں کو جنگ و جدل کی اسرائیلی سازشوں کے باعث آزادی کی نعمت سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ آج بھی اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کو دیا جانے والا نان ممبر مبصر ریاست کا اسٹیٹس بھی اسرائیل اور اُوبامہ کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے ۔درج بالا تناظر میں فلسطین کی زمینی حقیقتوں کے آئینے میں بخوبی دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے کہ جب 1917 میں برطانوی فوجوں نے فلسطین میں داخل ہوکر بدنام زمانہ اعلان بل فور کے ذریعے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیا تو عرب دنیا میں اُس وقت فلسطین امن و امان کا گہوارہ تھا۔ 1917 میں فلسطین کی کل آبادی سات لاکھ نفوس پر مثتمل تھی جن میں پانچ لاکھ چوہتر ہزار فلسطینی عرب مسلمان ، ستر ہزار عرب عیسائی اور تقریباً چھپن ہزار عرب یہودی شامل تھے ۔ فلسطین پر برطانوی قبضے کے بعد 1917 سے 1947 تک فلسطینیوں پر قتل عام اورظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور جس بیدردی سے فلسطینی باشندوں کو اُن کی زمینوں سے بے دخل کر کے دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسایا گیا اُس کی تفصیل اب تاریخ کے صفحات کا حصہ ہے۔

برطانوی انتداب کے 30 برس کے بعد جب 1947 میں اقوام متحدہ نے تقسیم فلسطین کی قرارداد منظور کی تو اُس وقت بھی فلسطین میں دنیا بھر سے لا کر بسائے گئے یہودیوں کی تعداد فلسطین کی کل آبادی کی 33 فی صد سے زیادہ نہیں تھیں لیکن عرب اکثریت کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے تقسیمِ فلسطین کے حوالے سے تمام فلسطین کو ہی یہودیوں کے حوالے کر دیا گیا ؟ فلسطینی عربوں پر ظلم و ستم اور برطانوی حکومت کی عربوں کو آزادی دینے کی وعدہ خلافی اور فلسطین کو تقسیم کرنے کی پیش گوئی قائداعظم محمد علی جناح نے 15اکتوبر 1937 اور 26 دسمبر 1938 میں باالترتیب مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں خطبہ صدرات پیش کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے کر دی تھی " میں محسوس کر رہا ہوں کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے چنانچہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے فلسطینیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں اُن بہادر غازیوں کےساتھ ہیں جو غاصبوں کے خلاف حریت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔"

5 جون 1946 میں قائداعظم نے دہلی میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت سے کہا " اینگلو امریکی کمیٹی نے فلسطین میں ایک لاکھ یہودیوں کو بھیجنے کی سفارش کی ہے جو قابل مذمت اور انتہائی بے ایمانہ فیصلہ ہے ، عربوں کو چاہئیے کہ وہ کسی غیر ملکی یہودی کو فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں، مسلم ہندوستان اُن کےساتھ ہے ۔" چنانچہ درج بالا حقائق کے پیش نظر اقوام متحدہ میں فلسطین کا نان ممبر مبصر ریاست کے طور پر جنم لینا آزادی پسند ملکوں کےلئے ہی نہیں بلکہ اُن فلسطینی مہاجروں کےلئے بھی اُمید کی نئی کرن ہے جو آج بھی دوست عرب ملکوں، لبنان ، اُردن ، شام ، عراق اور مصر میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور فلسطین کی آزاد ریاست میں واپسی کے منتظر ہیں لیکن سوال یہی ہے کہ کیا اسرائیل اور صدر اُوبامہ اِس انسانی حقیقت کو دل سے تسلیم کرنے کےلئے تیار ہیں بظاہر ایسا نظر نہیں آتا ؟

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت
اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.