.

اگر الکشن ہوا تو۔

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرحالیہ انتخابات کے نتائج کو بنیاد بنا کر حتمی اور دور رس پیشین گوئی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ دو ٹوک رائے کے لیے سیاسی منظر نامے میں جس شفافیت اور تسلسل کی ضرورت ہے وہ ابھی موجود نہیں۔ نہ جانے آنے والے دنوں میں کیا ہو جائے۔ سیاسی جوڑ توڑ کیا رخ اختیار کرے۔ کون اپنا دام لگوائے اور کس سے ہاتھ ملائے۔ اور کون اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا کر مد مقابل جماعت کو اپنے اوپر حاوی کر لے اور پھر ابھی تو یہ واضح نہیں ہے کہ قومی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ نہ تاریخ کا پتہ ہے اور نہ عبوری حکومتوں کے لیے ناموں کی سنجیدہ تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ووٹوں کی فہرستوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ کراچی میں ووٹوں کے اندراج میں فاش غلطیوں کو درست کرانے کے معاملے پر عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کھلا معرکہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بلوچستان میں سیاسی نظام ہے بھی اور نہیں بھی۔ جس ملک کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ یہ طے نہ کر پا رہا ہو کہ وہاں پر موجود حکومت آئینی ہے یا غیر آئینی، وہاں پر آنے والے حالات کے بار ے میں ایسی رائے کس طرح بنائی جا سکتی ہے کہ جو مستقبل میں حالات کے ہاتھوں پٹ کر مسخ نہ ہو جائے یا دوسرے روز مضحکہ خیز نہ لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی معاملات غیر یقینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ارسلان کمیشن کی تحلیل کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ طوفان تھمے گا نہیں۔

مگر اس کے باوجود ضمنی انتخابات کے نتائج کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے ان میں قابل توجہ کئی اشارے موجود ہیں۔ پہلا اشارہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں سیاسی صلاحیت سے متعلق ہے۔ اِن انتخابات سے پہلے مجھ سمیت کئی تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ ن لیگ کے پیروں کے نیچے سے پنجاب کی سیاسی زمین آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے۔ ہمارا تجزیہ تھا کہ باوجود اس کے کہ یہ جماعت بڑا وزن رکھتی ہے مگر عوام کی پریشانیوں اور بڑھتی لاقانونیت اور دوسرے مسائل کی وجہ سے پرانے وقتوں کی سیاسی بادشاہت ختم ہو گئی ہے۔ اِن انتخابات کی حد تک یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی۔ ن لیگ نے ووٹوں کے ذریعے اپنا لوہا منوایا ہے۔ یقیناً ہم ووٹ ڈالنے اور اِن نتائج تک پہنچنے کے تمام عمل میں کئی خامیاں گنوا سکتے ہیں۔ بعض جگہوں پر دھاندلی بھی ہوئی ہو گی۔

مگر جیتنے والے ہارنے والوں سے اتنے آگے ہیں کہ اُن کی کامیابی کو صرف دھاندلی یا غیر آئینی یا غیر تسلی بخش عمل کے کھاتے میں لکھ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً یہ نتائج ن لیگ کے لیے سیاسی آکسیجن فراہم کریں گے۔ جماعت کی قیادت پنجاب میں اُن سیاسی حلقوں یا با اثر دھڑوں کو اپنی طرف مائل کر پائے گی جو ق لیگ اور تحریک انصاف کی طرف جھکائو رکھتے تھے یا اُن سے رشتہ جوڑنے کا سوچ رہے تھے اور اسی وجہ سے ان دونوں جماعتوں کو اب آنے والے دنوں میں اپنے ہاتھ مضبوط کرنے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاست کے کھلاڑی اصول اور مال سے زیادہ جیت کے امکانات کو اہمیت دیتے ہیں۔ بڑے انتخابات سے پہلے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے خود کو جیتنے کا اہل ثابت کیا ہے۔ اُس کے طرف چل کے جانے والوں کی تعداد خود بخود بڑھ جائے گی۔

تحریک انصاف کی طرف سے ہونے والے تجزیے اس حد تک درست ہیں کہ اِن انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کو اُن کی ناکامی تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انھوں نے اس مقابلے میں شرکت کی ہی نہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کو خود سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ ان حلقوں میں کل ڈالے گئے ووٹ ہارنے اور جیتنے والے امیدواروں کے درمیان تقسیم کرنے کے بعد ان کے امیدوار کے لیے کتنی انتخابی جگہ بچ سکتی تھی۔ اگر ایک حلقے میں 60 فیصد ووٹ ن لیگ اور باقی مخالفین کو دیا گیا ہے تو اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کا نمایندہ کس طرح دونوں سے زیادہ ووٹ لے گا۔ یاد رہے کہ آنے والے انتخابات انھی فہرستوں پر ہوں گے جن پر محدود حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے اور ن لیگ نے نہ صرف اکثریتی ووٹ حاصل کیا بلکہ بعض جگہوں پر اپنے حاصل شدہ ووٹ کی اوسط بھی وصول کی۔

اب تحریک انصاف کو بحیثیت تیسری قوت اس اوسط سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔ وہ تمام ’’نئے‘‘ ووٹر جن پر تحریک انصاف تکیہ کر رہی ہے اتنی بڑی تعداد میں باہر لانے ہوں گے کہ وہ پارٹی کے امیدوار کو جتوا سکے۔کیا نیا ووٹر واقعتاتحریک انصاف کے امیدوار کا انتظار کر رہا ہے یا اُس نے اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ یہ جواب حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف کو ہر حلقے میں اپنی سیاسی قدر و منزلت کا ایک سفاک تجزیہ کرنا ہو گا۔کیا اِس کے پاس اس وقت تمام حلقوں کا حقیقی انتخابی منظر نامہ موجود ہے جس پر بنیاد کر کے وہ اپنے سیاسی امکانات کے بارے میں غیر جذباتی انداز میں نتائج اخذ کر سکے۔

ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ ضمنی انتخابات خطرے کی وہ گھنٹی ہے جو پہلے سے بج رہی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی اپنے تمام تر سیاسی زیرک پن اور نائب وزیر اعظم کے سہرے کے باوجود اپنی جماعت کو اپنے حلقے میں سنبھال نہیں پائے۔ نہ ہی میاں منظور وٹو کا مشہور زمانہ جادو کام آیا۔ اِن انتخابات کی حد تک ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد نے ن لیگ کو نقصان سے زیادہ فائدہ دیا ہے۔

اب دونوں جماعتوں کے امیدوار اِس اتحاد کی منطق کے بارے میں ضرور سوال اٹھائیں گے۔ یہ کیسا اتحاد ہے جس سے مخالفین سے زیادہ اتحادیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ آخر میں الیکشن کمیشن کے لیے بھی ان انتخابات کا بغور مطالعہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تمام عمل میں الیکشن کمیشن کا ڈھیلا پن واضح تھا۔ ضابطہ اخلاق کہیں نظر نہیں آیا اور نہ ہی اس تمام عمل میں کوئی خاص جدت یا کوئی تبدیلی محسوس کی گئی۔ الیکشن ویسے ہی ہوا جیسے پاکستان میں ہوتا ہے۔ ویسا نہیں ہوا جیسے فخر الدین جی ابراہیم اپنے بیانات میں بیان کرتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.