.

مصلحت پسندی اور مفاہمت کی سیاست

سلمان عابد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کا سیاسی بحران بڑے فیصلوں اور مضبوط کمٹمنٹ کا منتظر ہے۔ بیشتر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو جمہوری اور شفافیت پر منی نظام چلانے کے لئے موجودہ روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ کام ممکن ہے مگر اس کے لیے سیاسی فریقوں کے مابین مشترکہ حکمت عملی اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاست سمجھوتوں اور مصلحت پسندی کا شکار نظر آتی ہے جس کا تعلق اقتدار سے ہے جس سے معاملات میں سلجھائو کم اور انتشار زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر سمجھوتے اور مصلحت پسندی کوئی برا عمل نہیں کیونکہ سیاست کوئی تصوراتی چیز نہیں، بلکہ یہ ایک عمل کا نام ہے جس کے تلخ حقا ئق ہوتے ہیں جنہیں سامنے رکھ کر حکمت عملی وضع کرنا ہوتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کی سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھنا اور اس میں آسانیاں پیدا کرنا آسان کام نہیں؛ البتہ مصلحت پسندی کی سیاست میں دیکھنا ہوگا کہ یہ کس کی قیمت پر ہوئی ہے۔ پاکستان میں جب بھی مفاہمت اور مصلحت پسندی کی حکمت عملی اختیار کی گئی اس کا مقصد قومی مسائل پر بڑا اتفاق رائے پیدا کرنا نہیں مقصود نہیں تھا اسے محض اقتدار کو طول دینے یا اقتدار کی بندر بانٹ کے لئے استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی بحران حل ہونے کی بجائے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کی سیاست کا بیشتر حصہ محاذ آرائی کی نذر ہو گیا جس کا عملی نتیجہ اداروں کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا۔

2008ء کے بعد جمہوری عمل میں مفاہمت اور مصلحت پسندی کو بنیادی فوقیت دی گئی۔ ابتدا میں اس کی پزیرائی ہوئی۔ ملک فوجی حکمرانی سے جمہوری دور میں داخل ہوا تھا۔ اس لئے سیاستدانوں نے مفاہمت کی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ کئی قانونی اور دستوری فیصلے اسی مفاہمت کے مرہون منتت ہیں۔ ماضی میں جوبھی حکومت برسر اقتدار آئی اسے ایسی حزب اختلاف کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو حکومت گرانے کو اپنی اہم ترجیح کا حصہ بناتی تھی جس کا انجام حکومت کی رخصتی یا سیاسی نظام کی بساط لپیٹنے کی صورت میں سامنے آتا تھا۔ موجودہ جمہوری دور کی اہم خوبی یہ رہی ہے کہ اس میں حزب اختلاف کا کردار کافی مثبت رہا۔ کوشش کی گئی کہ اہم قومی اور علاقائی جماعتوں کو مرکز اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بنا کر اقتدار کو مضبوط بنایا جائے۔ اس دور فرینڈلی اپوزیشن کے نعرے بھی سننے کو ملے۔

حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ وہ جمہوری نظام کے تسلسل کی حامی ہے اور حکومت گرانا ان کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہا۔ حزب اختلاف کا مجموعی کردار حکومت کے کاموں کی نگرانی کرنا، قانون سازی میں متبادل تجاویز دینا، پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر کی جماعتوں کو اپنے قریب لانا، لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے متحرک ہونا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم حزب اختلاف کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو کئی سوالات سامنے آتے ہیں لیکن مفاہمت اور مصلحت پسندی کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے اس کے کردار کو مجموعی طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ مفاہمت اور مصلحت پسندی کی سیاست کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ کمزور جمہوری نظام کو سہارا دینے کے لئے یہ ناگزیر تھی۔ اس سے ملک میں جمہوری نظام کا تسلسل قائم ہوا ہے۔

دراصل سیاسی فیصلوں میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم درست فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کمزور سیاست کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصلحت پسندی کے منفی پہلو کا نتیجہ ہے کہ بلوچستان، سندھ اور کراچی سمیت ہمارے دوسرے داخلی مسائل حل طلب نظر آتے ہیں۔ اس بات کا خوف دامن گیر نظر آتا ہے کہ اگر فیصلے پاپولر سیاست کے مطابق نہ کئے تو اس سے حکومتی اتحاد یا ووٹر ناراض ہو جائے گا۔ غیر ملکی ادارے معاشی حالات کے تناظر میں ہمیں کچھ بڑے فیصلے کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، لیکن ہمارے سامنے انتخابات اور ووٹوں کی سیاست ہے جو ہمیں بڑے اور مشکل فیصلوں کی جانب جانے سے روکتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ بحران کا حل کسی ایک جماعت کے پاس نہیں، اس کے لیے ایک بڑے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ یہ اتفاق رائے قومی مسائل کی سنگینی کی بنیاد پر ہونا چاہئیے۔ حکومت اور حزب اختلاف کو قومی مسائل پر حقائق کو تسلیم کرنا چاہئیے۔ اس وقت ہمیں ایک ذمہ دار حکومت کے ساتھ ساتھ ذمہ دار حزب اختلاف کی بھی ضرورت ہے۔ ہمارے داخلی اور خارجی مسائل اب اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم اہم قومی اور علاقائی معاملات میں کمزوریوں کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ وقت سخت اور مشکل فیصلوں کا ہے اور ان فیصلوں کی کڑوی گولی سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں اور قومی راہنمائوں سمیت سب کو ہضم کرنی ہوگی۔ اب ملک کو چلانے کے لیے ایڈہاک ازم پر مبنی پالیسیوں سے اجتناب کرنا ہوگا۔

آئندہ چند مہینوں میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ پوری قوم اور سیاسی جماعتیں تبدیلی کا نعرہ لگا رہی ہیں۔ ملک کو کرپشن، مہنگائی، بیروزگاری اور مفاد پرستانہ سیاست سے نجات دلانے کا یہ سنہری موقع ہے۔ عوام میں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ وہ ملک کو نقصان پہنچانے والے سیاستدانوں کو مسترد کردیں اور صاف ستھری قیادت کو منتخب کریں۔ سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ملک کو نقصان پہنچانے والے سیاستدانوں کو مسترد کردیں اور صاف ستھری قیادت کو منتخب کریں۔ سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ صاف ستھرے کردار کے حامل امیدواروں کو ٹکٹ دیں۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن اور سرکاری مشینری کے کردار کو زبردست اہمیت حاصل ہے۔ اگر یہ دونوں ادارے عزم کرلیں تو وہ ملک کو اچھی قیادت فراہم کرسکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ دنیا
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.